سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مضبوط بنانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAR 2026 4:06PM by PIB Delhi

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، سی ایس آئی آر–نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس آئی آر–این آئی ایس سی پی آر) اور اکیڈمی آف سائنٹفک اینڈ انوویٹیو ریسرچ (اے سی ایس آئی آر) کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی مفاہمت نامے کا مقصد ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (ڈی ایم  آر آر) کے شعبے میں ایک باہمی تعلیمی اور پالیسی سپورٹ فریم ورک قائم کرنا ہے۔ اس میں پی ایچ ڈی پروگرام کا آغاز، پالیسی سے متعلق تحقیق، ہندوستان کے لیے مخصوص ڈیٹا سیٹس اور ٹولز کی تیاری، سائنس مواصلات کو مضبوط بنانا، اور آفات کی حکمرانی اور لچک کے میدان میں قومی صلاحیت کو بڑھانا شامل ہے۔

یہ مفاہمت نامہ سائنس مواصلات اور کمیونٹی آؤٹ ریچ(کمیونٹی کی رسائی) کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق اور عوامی سطح پر آفات کی تیاری کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل نالج (علمی) پلیٹ فارم کی ترقی کے امکانات کو بھی تلاش کرتا ہے۔

تعلیمی نصاب کو ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (ڈی آر آر) سے متعلق عزت مآب وزیر اعظم کے ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا، خصوصاً ڈی آر آر کے میدان میں تعلیمی اور سائنسی اداروں کی مؤثر شمولیت کے حوالے سے۔ اس مقصد کے لیے این ڈی ایم اے کی سربراہی میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ نصاب تیار کرے گا۔

اس مفاہمت نامے کے تحت ثبوت پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینے کے لیے سرٹیفکیٹ کورسز، سرکاری اہلکاروں اور پریکٹیشنرز کے لیے قلیل مدتی تربیتی پروگرام، ماہرین کے لیکچرز اور پالیسی مکالموں کا بھی تصور کیا گیا ہے۔ این ڈی ایم اے، اعلیٰ ترین اتھارٹی ہونے کے ناطے، اس مفاہمت نامے کے تحت ڈی آر آر کے لیے درکار تعلیمی، صلاحیت سازی اور تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرے گی۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

 

UR-3909

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2239176) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी