ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: مشن موسم کے نفاذ کی صورتحال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 12:43PM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 26 ستمبر 2024 کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی، پونے اور نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ، نوئیڈا میں مشن موسم کے تحت وزارتِ ارضیاتی علوم کے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ نظاموں کا افتتاح کیا۔ ان نظاموں کو “ارکا” (11.77 پیٹا فلوپس کمپیوٹنگ صلاحیت) اور “ارونیکا” (8.24 پیٹا فلوپس) کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ 1.9 پیٹا فلوپس پر مشتمل مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے لیے مخصوص نظام بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے بعد وزارت کی مجموعی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھ کر 21.91 پیٹا فلوپس ہو گئی ہے۔ اس بہتر کمپیوٹنگ ڈھانچے کے ذریعے اعلیٰ معیار کے موسمی اور موسمیاتی ماڈلز تیار کرنے اور پیش گوئی کے عمل میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال کو ممکن بنایا گیا ہے۔
ہندوستانی محکمہ موسمیات نے 2021 سے 2025 کے دوران استوائی سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کی درستگی میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، خاص طور پر 2016 سے 2020 کے عرصے کے مقابلے میں۔ طوفان کے راستے کی پیش گوئی میں غلطی کی شرح 48 گھنٹے تک کے عرصے کے لیے تقریباً 5 سے 10 فیصد کم ہوئی ہے، جبکہ اس سے زیادہ مدت کی پیش گوئی میں 20 سے 25 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اسی طرح طوفان کی شدت کے اندازے میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، جہاں 72 گھنٹے تک کی پیش گوئی میں تقریباً 33 سے 35 فیصد بہتری آئی ہے اور 96 گھنٹے کی مدت کے لیے غلطی میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی ہے۔ سب سے زیادہ نمایاں بہتری طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے مقام کی پیش گوئی میں دیکھی گئی ہے، جو ساحلی علاقوں سے بروقت انخلا کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں 24 سے 48 گھنٹے کی پیش گوئی کے لیے غلطی میں 35 سے 45 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ دیگر مدتوں کے لیے تقریباً 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اوسطاً 24 گھنٹے کی پیش گوئی میں ساحل سے ٹکرانے کے مقام کی غلطی 2016 تا 2020 کے دوران 31.9 کلومیٹر سے کم ہو کر 2021 تا 2025 کے دوران 19.0 کلومیٹر رہ گئی، جبکہ 48 گھنٹے کی پیش گوئی میں یہ غلطی 61.5 کلومیٹر سے کم ہو کر 34.4 کلومیٹر ہو گئی ہے۔
اب گرمی کی شدید لہروں کی پیش گوئی چار سے پانچ دن پہلے جاری کی جا رہی ہے، جس سے ریاستی اور ضلعی انتظامیہ کو گرمی سے بچاؤ کے منصوبوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان پیش رفتوں کے نتیجے میں اہم سماجی و اقتصادی فوائد حاصل ہوئے ہیں، جن میں سمندری طوفانوں کے دوران بروقت انخلا، مون سون کے دوران زرعی منصوبہ بندی میں بہتری اور آفات سے نمٹنے کی بہتر تیاری شامل ہے، جس سے مختلف شعبوں میں انسانی جانوں، املاک اور اقتصادی سرگرمیوں کو ہونے والے نقصانات میں کمی آئی ہے۔
وزارتِ ارضیاتی علوم وقتاً فوقتاً موسمی اور موسمیاتی خدمات میں بہتری کے فوائد کا جائزہ اثرات کے مطالعے، پیش گوئی کی درستگی کے تجزیے اور مختلف صارف شعبوں جیسے زراعت، آفات کے انتظام، ہوا بازی، ماہی گیری اور توانائی سے حاصل ہونے والی آراء کی بنیاد پر لیتی ہے۔ ان جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی محکمہ موسمیات، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی اور نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ جیسے اداروں کے ذریعے بہتر بنائی گئی پیش گوئی کی صلاحیتوں سے عوام کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ ان میں سمندری طوفان، گرمی کی لہروں، شدید بارش اور دیگر شدید موسمی واقعات کے بارے میں بروقت انتباہ شامل ہے۔ اس پیش رفت سے بروقت انخلا، آفات سے بہتر تیاری، زرعی فیصلوں میں بہتری اور انسانی جان و مال کے نقصان میں کمی ممکن ہوئی ہے۔ اسی پیش رفت اور بہتر موسمی و موسمیاتی خدمات کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر وزارتِ ارضیاتی علوم مشن موسم کو دوسرے مرحلے تک توسیع دینے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔
مزید برآں مشن موسم کو ایک کثیر مرحلہ پروگرام کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ حکومت پہلے مرحلے کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ مراحل میں اس منصوبے کو جاری رکھنے اور مزید وسعت دینے کی تجویز رکھتی ہے۔ اس مشن کے تحت کئی اقدامات ایسے ہیں جن سے پیچیدہ موسمی عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ مجوزہ دوسرے مرحلے میں قومی موسمی مشاہداتی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے، جدید ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے ذریعے اعلیٰ معیار کی موسمی اور موسمیاتی ماڈلنگ کی صلاحیت کو بڑھانے اور پیش گوئی کے نظام میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کو مزید مؤثر طریقے سے شامل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
یہ معلومات ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 12 مارچ 2026 کو راجیہ سبھا میں فراہم کیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3901 )
(ریلیز آئی ڈی: 2239169)
وزیٹر کاؤنٹر : 9