وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

بحری انقلاب کے لیےفنڈمختص

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAR 2026 11:32AM by PIB Delhi

ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ ماہی پروری نے ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ‘بلیو ریوولوشن: انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ آف فشریز’ نافذ کی ہے جس میں ‘‘ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کی قومی اسکیم’’پر ایک جزو تھا جس میں مندرجہ ذیل ذیلی اجزاء تھے: (i) بچت اور ریلیف (اندرون اور سمندری ماہی گیروں دونوں کے لیے) (ii) ماہی گیروں کے لیے رہائش ، (iii) ماہی گیروں کے لیے دیگر بنیادی سہولیات (پینے کے پانی کی سہولت ، کمیونٹی ہال کی تعمیر) اور (iv) فعال ماہی گیروں کے لیے گروپ ایکسیڈنٹ انشورنس ۔  ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کی قومی اسکیم کے تمام اجزاء میں فراہم کی جانے والی امداد کو عام ریاستوں کے لیے 50:50 کے تناسب سے ، شمال مشرقی ریاستوں اور ہمالیائی ریاستوں کے لیے 80:20 جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 100فیصد کے تناسب سے تقسیم کی گئی۔  مالی سال 2015-16 سے 2019-20 کے دوران ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کی قومی اسکیم کے جزو کے تحت جاری کردہ فنڈز کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-1 میں فراہم کی گئی ہیں ۔   مرکزی معاونت یافتہ اسکیم (سنٹرل اسپانسرڈ اسکیم) (سی ایس ایس)-بلیو ریوولوشن: انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ آف فشریز کا تشخیصی مطالعہ نیتی آیوگ نے ایک آزاد ایجنسی کے ذریعے کیا ہے ۔  تاہم ، ماہی گیروں کی آمدنی کی سطح پر بحری انقلاب(بلیو ریوولوشن) کی مالی اعانت کے اثرات کے بارے میں کوئی خاص اندازہ نہیں لگایا گیا ۔

(سی) موجودہ وقت میں وزارت مچھلی، حکومت ہند کے ذریعہ نافذ کی جانے والی پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے جدید ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے، آئس پلانٹس/کولڈ اسٹوریج، مچھلی کے تحفظ اور نقل و حمل کی سہولیات کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں کے دوران وزارت مچھلی، حکومت ہند نے (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت  58 ماہی گیری بندرگاہ (فشنگ ہاربر )اور فش لینڈنگ سینٹر منصوبے کل لاگت 3365.64 کروڑ روپے پر منظور کیے ہیں، اور مچھلی کے تحفظ، کولڈ چین اور مارکیٹنگ کی سہولیات کی لاگت 2375.25 کروڑ روپے کے منصوبے بھی منظور کیے ہیں۔

(ڈی) حکومت ہند کے محکمہ ماہی گیری کے ذریعہ نافذ کردہ پی ایم ایم ایس وائی شمولیتی ترقی کو یقینی بناتی ہے اور فائدہ اٹھانے والی خواتین کے لیےیونٹ لاگت کے 60 فیصد کے برابر زیادہ مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ماہی گیری کے شعبے میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے، پی ایم ایم ایس وائی خواتین کو مچھلی کی کاشت، ہیچریز، سمندری گھاس کی کاشتکاری (سی ویڈ فارمنگ)، بائیوالو کنزویشن، آرائشی مچھلیوں کی فارمنگ، مچھلی کی پروسیسنگ اور مارکیٹنگ سمیت مختلف سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔پی ایم ایم ایس وائی کے تحت خواتین فائدہ اٹھانے والوں کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی کے پروگرام بھی فراہم کیے گئے ہیں، جن میں کاروباری ترقی، مہارت کی تربیت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اسٹارٹ اپ کے اقدامات شامل ہیں۔گذشتہ پانچ مالی سالوں (2020-21 تا 2024-25) کے دوران پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ماہی گیری کی ترقیاتی تجاویز جن کی کل لاگت 4061.96 کروڑ روپے تھی اور جس میں مرکزی حصہ 1534.46 کروڑ روپے تھا، منظور کی گئی ہیں، تاکہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کل 99,018 خواتین فائدہ اٹھانے والوں کو احاطہ کیا جا سکے۔ خواتین مستفدین کے لیے منظور شدہ ماہی گیری کی ترقیاتی تجاویز کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-II میں فراہم کی گئی ہیں۔

ضمیمہ-I

بیان: “بحری انقلاب کے لےفنڈمختص” - مالی سال 201516 تا 201920 کے دوران سی ایس ایس کے تحت نیشنل اسکیم برائے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے جزو کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں:

(روپے لاکھوں میں)

نمبر شمار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

2015-16

2016-17

2017-18

2018-19

2019-20

کل

1

آندھرا پردیش

487.5

0

0

964.8

556.2

2008.5

2

اروناچل پردیش

52

0

50.544

0.01

0

102.554

3

آسام

0

81.2

52.65

253.66

0

387.51

4

بہار

90

0

0

360.91

0

450.91

5

چھتیس گڑھ

222

100

100

200.37

0

622.37

6

دمن اینڈ دیو

0

0

0

1.11

0

1.11

7

دہلی

0

0

0

0.01

0

0.01

8

گوا

45.82

48.74

0

0.71

0

95.27

9

گجرات

36.37

60

0

1.88

0

98.25

10

ہریانہ

0

0

0

0

0

0

11

ہماچل پردیش

77.73

81.47

0

105.87

241.02

506.09

12

جموں و کشمیر

49.88

0

210.6

235.44

0

495.92

13

جھارکھنڈ

375

250.2

0

726.07

0

1351.27

14

کرناٹک

390.45

0

462.23

2.13

0

854.81

15

کیرالہ

1206.71

100.2

0

95.04

1914

3315.95

16

لکشدیپ

0

0

0

0.14

0

0.14

17

مہاراشٹر

0

69

0

1.35

0

70.35

18

مدھیہ پردیش

195.35

200

135

233.39

0

763.74

19

منی پور

0

0

31.82

0

0

31.82

20

میگھالیہ

0

0

0

0

0

0

21

میزورم

121

120.5

45.28

187.02

96.408

570.208

22

ناگالینڈ

161

0

0

0

0

161

23

اُڈیشہ

200.35

0

198.17

69

0

467.52

24

پڈوچیری

332.29

361

150

860.78

0

1704.07

25

پنجاب

0

0

0

0.2

0

0.2

26

راجستھان

6.13

30.12

0

0.67

0

36.92

27

سکم

0

0

0

0.03

0

0.03

28

تمل ناڈو

647.07

0

0

28.85

0

675.92

29

تلنگانہ

9.69

0

0

15.15

0

24.84

30

تریپورہ

139.54

0

131.99

1755.48

0

2027.01

31

اترپردیش

122.63

399.6

0

435.162

0

957.392

32

اتراکھنڈ

0

0

0

0

0

0

33

مغربی بنگال

160.49

0

79.056

185.4

0

424.946

34

انڈمان اینڈ نیکوبار جزائر

74

0

0

0.8

0

74.8

35

فشکوفڈ

487.25

495.57

63.6499

169.3

223.2867

1439.057

 

کل

5690.25

2397.6

1710.99

6890.732

3030.915

19720.49

ضمیمہ-II

بیان: “بحری انقلاب کے لےفنڈمختص” گزشتہ پانچ مالی سالوں (202021 تا 202425) کے دوران پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت خواتین فائدہ اٹھانے والوں کو شامل کرنے کے لیے منظور شدہ منصوبوں کی ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں:

(روپے لاکھوں میں)

نمبرشمار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

مستفیدین کی تعداد

پروجیکٹ کی کل لاگت

مرکزی حصہ

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

281

1542.20

925.32

2

آندھرا پردیش

715

4367.50

1572.30

3

اروناچل پردیش

2

80.00

43.20

4

آسام

2799

13883.88

7497.30

5

بہار

3538

12073.23

4346.37

6

چھتیس گڑھ

4567

24992.61

8934.25

7

دہلی

8

158.00

94.80

8

گوا

260

2040.50

734.58

9

گجرات

5812

15109.76

5439.51

10

ہریانہ

4173

28251.50

10470.54

11

ہماچل پردیش

1816

4839.01

2612.79

12

جموں و کشمیر

51

251.90

151.14

13

جھارکھنڈ

3366

20346.70

7293.32

14

کرناٹک

17956

30913.80

11122.56

15

کیرالہ

678

4874.50

1754.82

16

لداخ

6

25.80

15.48

17

لکشدیپ

353

1471.31

882.79

18

مدھیہ پردیش

3384

28343.55

10046.19

19

مہاراشٹر

13804

70844.57

25378.04

20

منی پور

618

3502.50

1891.35

21

میگھالیہ

500

991.11

535.20

22

میزورم

217

1337.50

722.25

23

ناگالینڈ

136

657.40

355.00

24

اوڈیشہ

5479

28859.75

10378.83

25

پڈوچیری

275

2078.25

1250.55

26

پنجاب

624

4699.70

1691.89

27

راجستھان

541

2695.00

981.30

28

سکم

10

30.00

16.20

29

تمل ناڈو

12619

7841.93

2823.09

30

تلنگانہ

634

4047.00

1446.42

31

دادرہ اور نگر حویلی

2

100.00

60.00

32

اور دمن اور دیو

1654

4685.18

2529.93

33

تریپورہ

10633

59262.83

21451.27

34

اتر پردیش

569

4534.18

2070.46

35

اتراکھنڈ

938

16463.88

5926.99

 

کل

99018

406196.53

153446.04

یہ معلومات ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فراہم کی۔

***

ش ح۔ ش آ۔ن ع

Uno-3867


(ریلیز آئی ڈی: 2238917) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali