قانون اور انصاف کی وزارت
مرکزی حکومت ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں عدلیہ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے مرکزی کے ذریعے چلائی جانے والی اسکیم (سی ایس ایس) نافذ کر رہی ہے
عدالتوں کے کام کاج کو بغیر کاغذ بنانے کے لیے "ڈیجیٹل کورٹس" کے نام سے ویب پر مبنی ایک پہل تیار کی گئی ہے
عدالتوں میں دائر مقدمات کو ڈیجیٹل طریقے سے منظم کرنے کے لیے کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) ورژن 4.0 کام کر رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 12:50PM by PIB Delhi
قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کی وزارت کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران عدالتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مختص اور استعمال کیے گئے فنڈز کی مقدار ، سال کے لحاظ سے اور ریاست کے لحاظ سے ضمیمہ-1 میں درج ہے ۔
ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کی بنیادی ذمہ داری ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہوتی ہے ۔ تاہم ، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وسائل کو بڑھانے کے لیے ، مرکزی حکومت مرکز اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان مقررہ فنڈ شیئرنگ پیٹرن میں مالی مدد فراہم کرکے ، 94-1993سے ضلع اور ماتحت عدالتوں میں عدلیہ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے مرکزکے ذریعے چلائی جانے والی ایک اسکیم (سی ایس ایس) نافذ کر رہی ہے ۔ اس اسکیم میں کورٹ ہال ، عدالتی افسران کے لیے رہائشی یونٹس ، وکلاء کے ہال ، ٹوائلٹ کمپلیکس اور ڈیجیٹل کمپیوٹر روم یہ پانچ اجزاء شامل ہیں ۔
28 فروری 2026 تک 25,894 ججوں کی منظور شدہ تعداد اور 21,027 ججوں کی کام کرنے کی صلاحیت کے مقابلے 22,712 کورٹ ہال دستیاب ہیں ۔ فی الحال ملک میں جج سے آبادی کا تناسب تقریبا 22 جج فی ملین آبادی ہے ۔
عدالت کے بنیادی ڈھانچے کے اصولوں اور خصوصیات کا حساب ،عدالت کی ترقی کی منصوبہ بندی کے نظام سے متعلق بنیادی رپورٹ میں سپریم کورٹ کی نیشنل کورٹ مینجمنٹ سسٹم کمیٹی (این سی ایم ایس) کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس میں متعلقہ ریاستی حکومتوں اور سی پی ڈبلیو ڈی/پی ڈبلیو ڈی کے اصولوں کے ذریعے موجودہ اصولوں اور طریقوں پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مقررہ وقت پر اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے موثر نگرانی کا طریقہ کار بھی موجود ہے ۔ انصاف کے محکمے میں ایک مرکزی سطح کی نگراں کمیٹی ہے ، جس کی قیادت سکریٹری (انصاف) کرتے ہیں اور ریاست میں ایک ہائی کورٹ کی سطح کی نگراںکمیٹی ہے ، جس کی صدارت متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کرتے ہیں ، تاکہ مذکورہ اسکیم کے تحت پروجیکٹوں کی فیزیکل اور مالی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے ۔ مزید یہ کہ عدالتی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت اور مقررہ وقت پر تکمیل سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے 'نیا وکاس' پورٹل کے نام سے نگرانی کا ایک آن لائن طریقہ کار بھی تیار کیا گیا ہے ۔
ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت ، ای-فائلنگ کے ذریعے تقریبا 1.07 کروڑ مقدمات دائر کیے گئے ہیں اور ای-پیمنٹس سسٹم نے1,404 کروڑ روپے کی عدالتی فیس کے لین دین پر کارروائی کی ہے ۔ عدالتی ریکارڈ کے 660.36 کروڑ صفحات کو ڈیجیٹل کیا گیا ہے ۔ نیشنل سروس اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانکس پروسیسز (این ایس ٹی ای پی) نظام کے تحت عدالتوں نے 7.26 کروڑ ای-پروسیسز پر کارروائی کی ہے ، جن میں سے 2.09 کروڑ ای-پروسیسز کامیابی کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں ۔ ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولیات کو 3240 عدالتی کمپلیکس اور 1272 جیلوں میں بڑھایا گیا ہے، جس کے تحت زیر سماعت افراد،گواہوں اور وکلاء کی دور دراز سے سماعت کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ قانونی چارہ جوئی کرنے والے ،نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) پلیٹ فارم پر 35.17 کروڑ سے زیادہ احکامات کے سلسلے میں کیس کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔
مزید یہ کہ برآں ، عدالتوں کے کام کاج کو بغیر کاغذ بنانے کے لیے "ڈیجیٹل کورٹس" کے نام سے ویب پر مبنی ایک پہل تیار کی گئی ہے ۔ ججوں کے لیے تیار کردہ جسٹس آئی ایس ایپ (22,133 ڈاؤن لوڈ) زیر التواء معاملات کی نگرانی اور ان کے نمٹارے میں مدد کرتی ہے۔ مزید یہ کہ فری اور اوپن سورس سافٹ ویئر پر مبنی کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) ورژن 4.0 عدالتوں میں دائر مقدمات کو ڈیجیٹل طریقے سے سنبھالنے کے لیے کام کر رہا ہے ۔
ضلع اور ماتحت عدالتوں میں عدلیہ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے مرکزکے ذریعے چلائی جانے والی اسکیم (سی ایس ایس) کا محکمہ سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی (ڈی آر پی ایس سی) کی داخلی آڈٹ رپورٹوں اور اسکیم کی توسیع کے وقت نیتی آیوگ کے زیراہتمام تیسرے فریق کی تشخیصی رپورٹ کے ذریعے باقاعدگی سے جائزہ/آڈٹ کیا جاتا ہے ۔ جب بھی مختلف رپورٹس کی سفارشات کے ذریعے اسکیم کے نفاذ میں خامیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے ، اسکیم کے لیے رہنما خطوط کا مسودہ تیار کرتے وقت مناسب طریقے سے غور کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ فنڈز کی پارکنگ جیسے فنڈ سے متعلق خلا کو کم کرنے کے لیے ، فنڈز کے ’جسٹ ان ٹائم ‘ریلیز کے لیے ایس این اے-ایس پی اے آر ایس ایچ نامی نیا فنڈ ریلیز سسٹم متعارف کرایا گیا ہے ۔ اسکیم کے تحت پروجیکٹوں کی مناسب نگرانی کی خاطر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ باقاعدگی سے پروجیکٹوں کا حقیقی وقت میں جیو ٹیگ کریں اور نیا وکاس پورٹل پر پیش رفت کو اپ ڈیٹ کریں ۔
ضمیمہ-I
کروڑ روپے میں
|
نمبر شمار
|
ریاستیں
|
مالی سال 22-2021
|
مالی سال 23-2022
|
مالی سال 24-2023
|
مالی سال 25-2024
|
مالی سال 26-2025*
|
|
مختص
|
استعمال کیا
|
مختص
|
استعمال کیا
|
مختص
|
استعمال کیا
|
مختص
|
استعمال کیا
|
مختص
|
استعمال کیا
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
0.00
|
0.00
|
22.50
|
22.50
|
49.82
|
49.82
|
0.99
|
0.99
|
30.98
|
20.92
|
|
2
|
بہار
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
67.45
|
67.45
|
107.81
|
107.81
|
75.28
|
63.82
|
|
3
|
چھتیس گڑھ
|
0.00
|
0.00
|
60.00
|
60.00
|
6.69
|
6.69
|
45.35
|
45.35
|
41.52
|
35.93
|
|
4
|
گوا
|
3.20
|
3.20
|
25.00
|
25.00
|
1.53
|
1.53
|
14.27
|
14.27
|
3.51
|
1.23
|
|
5
|
گجرات
|
0.00
|
0.00
|
6.22
|
6.22
|
95.62
|
95.62
|
51.34
|
51.34
|
57.83
|
48.36
|
|
6
|
ہریانہ
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
20.10
|
20.10
|
0.00
|
0.00
|
36.48
|
17.75
|
|
7
|
ہماچل پردیش
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
6.00
|
6.00
|
13.62
|
13.62
|
10.25
|
10.25
|
|
8
|
جھارکھنڈ
|
6.00
|
6.00
|
16.51
|
16.51
|
40.81
|
40.81
|
14.57
|
14.57
|
22.54
|
17.52
|
|
9
|
کرناٹک
|
27.00
|
27.00
|
82.01
|
82.01
|
133.16
|
133.16
|
73.92
|
73.92
|
34.14
|
31.11
|
|
10
|
کیرالہ
|
50.00
|
50.00
|
0.00
|
0.00
|
7.00
|
7.00
|
45.89
|
45.89
|
22.95
|
22.76
|
|
11
|
مدھیہ پردیش
|
55.00
|
55.00
|
125.00
|
125.00
|
104.00
|
104.00
|
42.69
|
42.69
|
70.91
|
61.79
|
|
12
|
مہاراشٹر
|
18.00
|
18.00
|
100.00
|
100.00
|
119.53
|
119.53
|
118.36
|
118.36
|
28.06
|
28.06
|
|
13
|
اوڈیشہ
|
0.00
|
0.00
|
31.49
|
31.49
|
30.88
|
30.88
|
51.48
|
51.48
|
30.57
|
30.25
|
|
14
|
پنجاب
|
16.50
|
16.50
|
12.50
|
12.50
|
18.42
|
18.42
|
0.00
|
0.00
|
12.31
|
11.75
|
|
15
|
راجستھان
|
41.50
|
41.50
|
71.66
|
71.66
|
80.41
|
80.41
|
58.35
|
58.35
|
70.24
|
60.66
|
|
16
|
تمل ناڈو
|
35.66
|
35.66
|
133.85
|
133.85
|
0.00
|
0.00
|
61.27
|
61.27
|
39.15
|
37.10
|
|
17
|
تلنگانہ
|
0.00
|
0.00
|
26.61
|
26.61
|
0.00
|
0.00
|
1.96
|
1.96
|
9.95
|
9.20
|
|
18
|
اتراکھنڈ
|
80.00
|
80.00
|
0.00
|
0.00
|
13.75
|
13.75
|
46.14
|
46.14
|
4.18
|
3.38
|
|
19
|
اتر پردیش
|
219.00
|
219.00
|
0.00
|
0.00
|
102.96
|
102.96
|
174.12
|
174.12
|
36.05
|
35.42
|
|
20
|
مغربی بنگال
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
18.00
|
18.00
|
22.22
|
22.22
|
26.10
|
18.56
|
|
کل (A)
|
551.86
|
551.86
|
713.35
|
713.35
|
916.13
|
916.13
|
944.34
|
944.34
|
663.00
|
565.82
|
|
شمال مشرقی ریاستیں (B)
|
|
1
|
اروناچل پردیش
|
4.09
|
4.09
|
32.38
|
32.38
|
0.00
|
0.00
|
6.24
|
6.24
|
1.33
|
1.33
|
|
2
|
آسام
|
27.40
|
27.40
|
25.00
|
25.00
|
40.00
|
40.00
|
40.75
|
40.75
|
33.59
|
20.68
|
|
3
|
منی پور
|
0.00
|
0.00
|
12.85
|
12.85
|
0.00
|
0.00
|
3.71
|
3.71
|
2.89
|
0.52
|
|
4
|
میگھالیہ
|
28.02
|
28.02
|
50.00
|
50.00
|
33.72
|
33.72
|
35.79
|
35.79
|
5.40
|
5.40
|
|
5
|
میزورم
|
9.50
|
9.50
|
0.00
|
0.00
|
8.85
|
8.85
|
13.57
|
13.57
|
11.22
|
11.22
|
|
6
|
ناگالینڈ
|
13.27
|
13.27
|
0.00
|
0.00
|
4.39
|
4.39
|
4.00
|
4.00
|
1.00
|
0.00
|
|
7
|
سکم
|
0.00
|
0.00
|
2.27
|
2.27
|
2.70
|
2.70
|
0.00
|
0.00
|
3.42
|
3.24
|
|
8
|
تریپورہ
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
40.49
|
40.49
|
20.00
|
20.00
|
16.68
|
6.13
|
|
کل (B)
|
82.28
|
82.28
|
122.5 0
|
122.50
|
130.15
|
130.15
|
124.06
|
124.06
|
75.53
|
48.52
|
|
مرکزی کے زیر انتظام علاقے (C)
|
|
1
|
انڈومان نکوبارجزائر
|
0.46
|
0.46
|
0.00
|
0.00
|
0.49
|
0.49
|
0.075
|
0.075
|
0.00
|
0.00
|
|
2
|
چنڈی گڑھ
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
|
3
|
دادرا اینڈ نگر حویلی
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
|
4
|
دمن اور دیو
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
|
5
|
دلی
|
30.00
|
30.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
16.50
|
16.50
|
10.00
|
0.87
|
|
6
|
جموں و کشمیر
|
20.00
|
20.00
|
12.60
|
12.60
|
12.00
|
12.00
|
31.50
|
31.50
|
10.00
|
7.45
|
|
7
|
لداخ
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
1.40
|
1.40
|
6.925
|
6.925
|
7.00
|
7.00
|
|
8
|
لکشدیپ
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
|
9
|
پڈوچیری
|
0.00
|
0.00
|
9.55
|
9.55
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
5.00
|
0.00
|
|
|
کل
|
50.46
|
50.46
|
22.15
|
22.15
|
13.89
|
13.89
|
55.00
|
55.00
|
32.00
|
15.32
|
|
مجوعی تعداد (A+B+C)
|
684.60
|
684.60
|
858.00
|
858.00
|
1,060.17
|
1,060.17
|
1,123.40
|
1,123.40
|
770.53
|
629.66
|
*28 فروری 2026 تک
*********
ش ح ۔ش م ۔ ت ا
U. No.3874
(ریلیز آئی ڈی: 2238850)
وزیٹر کاؤنٹر : 6