ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمنٹ کا سوال: سمندری ساحلی کناروں میں معدنیات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 4:52PM by PIB Delhi
محکمہ جوہری توانائی (ڈی اے ای) کے ذیلی ادارے، ایٹامک منرلز ڈائریکٹوریٹ برائے ایکسپلوریشن اینڈ ریسرچ (اے ایم ڈی) نے بیچ سینڈ منرلز (بی ایس ایم) کے ذخائر سرخ (تیری) ریت اور ساحلی ریت میں دریافت کیے ہیں۔ یہ ذخائر آندھرا پردیش، اوڈیشہ، تمل ناڈو، کیرالا، مہاراشٹر، گجرات، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کے بعض حصوں میں پائے گئے ہیں۔
دسمبر 2025 تک ملک میں اقتصادی اہمیت رکھنے والے بھاری معدنیات (جن میں بیچ سینڈ منرلز اور اندرونِ ملک پلیسر ذخائر شامل ہیں) کے کل وسائل 1,309.42 ملین ٹن (تقریباً 1,309 ملین ٹن) ہیں۔ دسمبر 2025 تک ریاست وار کل بھاری معدنی وسائل (ملین ٹن) کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
ریاست
|
ڈپازٹ
|
المینائٹ
|
روٹائل
|
لیوکوکسین
|
مونازائٹ
|
زرکون
|
گارنیٹ
|
سلمانائٹ
|
ٹی ایچ ایم
|
|
اوڈیشہ
|
13
|
172.25
|
7.19
|
0.94
|
3.22
|
6.00
|
71.60
|
90.17
|
351.36
|
|
آندھرا پردیش
|
25
|
178.75
|
11.46
|
3.64
|
4.05
|
12.75
|
67.30
|
81.85
|
359.79
|
|
تمل ناڈو
|
54
|
191.29
|
8.35
|
6.56
|
2.55
|
10.75
|
71.15
|
39.99
|
330.64
|
|
کیرالہ
|
35
|
144.02
|
8.74
|
8.23
|
1.84
|
7.96
|
7.38
|
64.72
|
242.88
|
|
مہاراشٹر
|
5
|
5.50
|
0.01
|
0.06
|
0.004
|
0.03
|
0.02
|
0.01
|
5.64
|
|
گجرات
|
2
|
11.64
|
0.03
|
0.33
|
0.07
|
0.06
|
0.38
|
0.04
|
12.53
|
|
مغربی بنگال
|
1
|
2.05
|
0.19
|
-
|
1.20
|
0.38
|
-
|
1.63
|
5.45
|
|
جھارکھنڈ
|
1
|
0.73
|
0.01
|
-
|
0.21
|
0.08
|
-
|
0.08
|
1.12
|
|
کُل
|
136
|
706.24
|
35.98
|
19.75
|
13.15
|
38.00
|
217.83
|
278.48
|
1,309.42
|
| |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
مرکزی بجٹ 2026 میں اعلان کیا گیا ہے کہ معدنیات سے مالا مال ساحلی ریاستوں اوڈیشہ، کیرالا، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی مدد کی جائے گی تاکہ ریئر ارتھ کاریڈور قائم کیے جا سکیں۔ ان کا مقصد معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ، تحقیق اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔ یہ ریئر ارتھ کاریڈور بھارت میں مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ریئر ارتھ ماحولیاتی نظام تیار کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے تحت NdPr (نیوڈیمیم-پراسیوڈیمیم) اور سامیریم آکسائیڈ کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا اور ریئر ارتھ میگنیٹس کی تیاری کے لیے ملک کے اندر طلب کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹائٹینیم، زرکونیم اور دیگر متعلقہ ویلیو چین صنعتوں کے قیام کو بھی آسان بنایا جائے گا۔ ان مخصوص ریئر ارتھ کاریڈور کا مقصد بھارت کو ریئر ارتھ، ٹائٹینیم اور اہم معدنیات کی ویلیو ایڈیشن کے لیے ایک قومی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے، تاکہ صنعتی ترقی اور قومی تزویراتی ضروریات دونوں کو پورا کیا جا سکے۔
مونا زائٹ بھارت میں پایا جانے والا ایک معروف ریئر ارتھ عناصر رکھنے والا معدنی مادہ ہے۔ یہ عموماً ساحلی ریت میں پائے جانے والے چھ دیگر بھاری معدنیات کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ چونکہ مونا زائٹ میں تابکاری عنصر موجود ہوتا ہے، اس لیے ساحلی علاقوں سے اس کا استخراج ایک طویل، پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ مونا زائٹ کی کان کنی ایٹامک منرل ڈائریکٹوریٹ (اے ایم ڈی) کے منظور کردہ مائننگ پلان کے مطابق کی جاتی ہے، جو مختلف قانونی و ضابطہ جاتی اداروں کی مقررہ حدود کے تابع ہوتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں زیادہ آبادی، ضابطہ جاتی منظوریوں کے تقاضے اور ماحولیاتی پائیداری جیسے عوامل کے باعث مونا زائٹ کے استخراج کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کسی مخصوص ساحلی ذخیرے سے ریئر ارتھ معدنیات کے استخراج کے لیے متوقع مدت عام طور پر 4 سے 5 سال تک ہو سکتی ہے، جو ممکنہ لیز ہولڈر کے نامزد ہونے سے لے کر قانونی منظوریوں کے حصول، مائننگ لیز کے معاہدے کے اجرا اور ذخیرے کے عملی استعمال تک کے مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس وقت اے ایم ڈی ساحلی ریت کے ذخائر میں مونا زائٹ (جو ریئر ارتھ عناصر اور تھوریم کا حامل معدنی مادہ ہے) کے مزید وسائل کی نشاندہی کے لیے تحقیق کر رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں درج ذیل علاقوں میں جاری ہیں: ڈاکٹر امبیڈکر کوناسیما ضلع، آندھرا پردیش، پوری ضلع، اوڈیشہ، توتھوکودی ضلع، تمل ناڈو۔ اس کے علاوہ اے ایم ڈی سخت چٹانی علاقوں میں ریئر ارتھ عناصر (آر ای ای) کے وسائل میں اضافے کے لیے بھی تحقیق کر رہا ہے، جن میں شامل ہیں: جودھپور، بالوترا اور اُدے پور اضلاع (راجستھان)، چھوٹا ادے پور ضلع (گجرات)، سیلم ضلع (تمل ناڈو) اور وارنگل اور سوریاپیٹ اضلاع (تلنگانہ)۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔
*****
ش ح۔ ف ش ع
U: 3814
(ریلیز آئی ڈی: 2238679)
وزیٹر کاؤنٹر : 5