ارضیاتی سائنس کی وزارت
سیلاب اور طوفانوں کے لیے ضلعی سطح پر ابتدائی انتباہی نظام کمزور اضلاع میں کام کر رہا ہے: لوک سبھا میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا جواب
ٹیکنالوجی پر مبنی ابتدائی انتباہی نظام سے آفات کی تیاری کو مضبوط کیا جا رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
فلڈ واچ انڈیا ایپ 200 پیشن گوئی کے مراکز سے ریئل ٹائم الرٹ فراہم کرتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
حکومت ابتدائی موسمی انتباہات کے سلسلے میں عوامی بیداری اور مقامی تیاری کو بہتر کر رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 7:18PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیرِ اعظم کے دفتر، وزرات عملہ، عوامی شکایات و پنشن، وزارت جوہری توانائی اور خلا کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ ملک کے حساس اضلاع میں سیلاب اور طوفان کے لیے ضلع سطح کے ابتدائی انتباہی نظام فعال ہیں، جن کے ذریعے بروقت اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
وزیر موصوف نے یہ بیان رکنِ پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڑی کے سوال کے جواب میں دیا، جنہوں نے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا ملک کے حساس اضلاع میں سیلاب اور طوفان کے لیے ضلع سطح کے ابتدائی انتباہی نظام قائم کیے گئے ہیں اور ایسے انتباہات کو مقامی سطح تک مؤثر طریقے سے پہنچانے کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ ہندوستانی محکمۂ موسمیاتِ روزانہ چار مرتبہ اضلاع کے لحاظ سے ابتدائی انتباہی اطلاعات تیار اور جاری کرتا ہے، جن کی پیش گوئی عموماً سات دن تک کے لیے ہوتی ہے، بالخصوص شدید بارش اور طوفان سے متعلق حالات کے لیے اس کی پشگوئی مؤثر ہوتی ہے۔ یہ انتباہات مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جن میں مشترکہ انتباہی نظام، موبائل ایپلی کیشن، سرکاری ویب سائٹس، سماجی رابطے کے پلیٹ فارم اور پیغام رسانی کی خدمات شامل ہیں، تاکہ حکام اور عوام تک بروقت معلومات پہنچ سکیں۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ محکمۂ موسمیاتِ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بروقت موسمی انتباہات اور نقشہ جاتی معلوماتی مواد موسم کے نظاموں کی مسلسل نگرانی میں مدد دیتے ہیں، جن سے آفات سے نمٹنے والے اداروں کو حساس اضلاع میں ضروری تیاری اور حفاظتی اقدامات کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیلاب کی پیش گوئی اور ابتدائی انتباہ کے لیے مرکزی آبی کمیشن کو مرکزی ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 350 پیش گوئی مراکز سے سیلاب کی اطلاعات جاری کی جاتی ہیں، جن میں بڑے ڈیموں اور بیراجوں پر 150 آمدِ آب کی پیش گوئی مراکز اور بڑی ندیوں پر200 سطحِ آب کی پیش گوئی مراکز شامل ہیں۔ یہ مراکز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مشورے سے قائم کیے گئے ہیں۔
تیاری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مرکزی آبی کمیشن نے بارش اور بہاؤ کے ریاضیاتی نمونوں پر مبنی دریائی حوض کے حساب سے سیلاب کی پیش گوئی کے ماڈل تیار کیے ہیں، جن کے ذریعے سات دن پہلے تک مشاورتی پیش گوئیاں جاری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ قلیل مدتی پیش گوئیاں بھی جاری کی جاتی ہیں جن کا ردِ عمل وقت چوبیس گھنٹوں تک ہوتا ہے۔ اس طرح مقامی حکام کو انخلا اور دیگر احتیاطی اقدامات کی منصوبہ بندی کے لیے اضافی وقت مل جاتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے “سی۔فلڈ” نامی ویب پر مبنی پلیٹ فارم کا بھی ذکر کیا، جو گاؤں کی سطح تک دو دن پہلے تک ممکنہ سیلابی پھیلاؤ کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام میں تفصیلی نقشوں کے ذریعے زیرِ آب آنے والے علاقوں اور پانی کی سطح کے اندازے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم جدید دو جہتی ہائیڈرو ڈائنامک ماڈلنگ، سیٹلائٹ سے حاصل شدہ معلومات اور زمینی آبی مشاہدات کو یکجا کر کے پیش گوئی کی درستگی کو بہتر بناتا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سی۔فلڈ پلیٹ فارم ابتدائی مرحلے میں اس وقت گوداوری، تاپی اور مہاندی دریاؤں کے حوضوں کا احاطہ کر رہا ہے اور زیرِ آب آنے کی گہرائی کی بنیاد پر رنگوں کے ذریعے سیلابی انتباہات فراہم کرتا ہے۔ ان میں پیلا، نارنجی اور سرخ انتباہ شامل ہیں، جو سیلاب کی شدت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ مرکزی آبی کمیشن کی جانب سے اگست2023 میں شروع کی گئی “فلڈ واچ انڈیا” موبائل ایپلی کیشن بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ ایپ ملک بھر میں200 مراکز پر سیلاب کی پیش گوئی، 500 سے زائد مراکز پر سیلابی نگرانی کے اعداد و شمار اور150 بڑے آبی ذخائر میں پانی کے ذخیرے کی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے آفات سے نمٹنے والے اداروں اور عام لوگوں کو بروقت معلومات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ احتیاطی اقدامات کیے جا سکیں۔
کچھ سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پنجاب، مغربی بنگال اور بہار جیسی ریاستوں کے لیے ضلع وار شدید بارش کے انتباہات جاری کرنے کے نظام میں کوئی بڑی کمی سامنے نہیں آئی ہے۔ محکمۂ موسمیاتِ ہند مسلسل بارش کے مشاہداتی اعداد و شمار اور مقداری بارش کی پیش گوئیاں مرکزی آبی کمیشن کو فراہم کرتا ہے تاکہ متعلقہ آبی حوضوں میں سیلاب کی پیش گوئی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
اپنے جواب میں وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت میں طوفان سے متعلق انتباہات کی ترسیل کے لیے آغاز سے انجام تک رابطہ نظام کی کوئی کمی نہیں ہے۔ محکمۂ موسمیاتِ ہند مختلف ذرائع ابلاغ جیسے سرکاری ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز، مختصر پیغامات، سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم، پریس ریلیز اور میڈیا بریفنگز کے ذریعے آفات سے نمٹنے والے اداروں، میڈیا تنظیموں اور عام عوام تک بروقت معلومات پہنچاتا ہے۔
ماہی گیروں کے لیے خصوصی مواصلاتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ موسمی انتباہات آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے نشر کیے جاتے ہیں، جبکہ گہرے سمندر میں کام کرنے والے ماہی گیروں کو مختصر پیغامات اور نیوک سیٹلائٹ نیویگیشن نظام کے ذریعے اطلاعات بھیجی جاتی ہیں، جنہیں انڈین نیشنل سینٹر فار اوشن انفارمیشن سروسز کے توسط سے فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید بتایا کہ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز بھی اپنے ریاستی سطح کے انتباہی مواصلاتی نیٹ ورک اور مقامی انتباہی نظام کے ذریعے حساس علاقوں کی آبادی تک یہ اطلاعات پہنچاتے ہیں۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آخری سطح تک انتباہی اطلاعات پہنچانے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ ان میں حساس علاقوں میں موبائل اور ڈیجیٹل رابطے کو بہتر بنانا، مقامی سائرن نظام نصب کرنا، ماہی گیروں کے لیے سیٹلائٹ مواصلاتی سہولت کو بڑھانا اور آفات سے نمٹنے کی تیاری و ردِ عمل کے بارے میں عوامی بیداری کو فروغ دینا شامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریاستی سطح پر ابتدائی انتباہی نظام اور ردِ عمل کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے مالی وسائل ریاستی آفاتِ ردِ عمل فنڈ اور ریاستی آفاتِ تخفیف فنڈ کے ذریعے دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ مقررہ ضابطوں کے مطابق قومی آفاتِ ردِ عمل فنڈ اور قومی آفاتِ تخفیف فنڈ کے تحت بھی اضافی مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

YY9F.jpeg)
9373.jpeg)

******
(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)
Urdu No-3745
(ریلیز آئی ڈی: 2238614)
وزیٹر کاؤنٹر : 7