قبائیلی امور کی وزارت
ای ایم آر ایس اسکیم کا تجزیہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 5:30PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب درگا داس اوئیکے نے آج راجیہ سبھا کو آگاہ کیا کہ طلبہ کے داخلے، حاضری، تعلیمی کارکردگی، اعلیٰ جماعتوں میں منتقلی، اور بنیادی سہولیات کی دستیابی جیسے ہاسٹل، کلاس روم، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی، بجلی اور ڈیجیٹل سہولیات ایسے اہم اشاریے ہیں جن کی نگرانی عام طور پر ملک بھر میں ای ایم آر ایس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کی جاتی ہے، جس میں ریاست آندھرا پردیش بھی شامل ہے۔ ان اشاریوں کے نتائج کا جائزہ وقتاً فوقتاً معائنوں، ایم آئی ایس اور ریاستی ای ایم آر ایس سوسائٹیز کی رپورٹوں کے ذریعے لیا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ ای ایم آر ایس طلبا کے لیے بہتر تعلیمی اور ترقیاتی نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔
تمام نئے ای ایم آر ایس ادارے، جن کا رقبہ 15 ایکڑ اور طلبہ کی گنجائش 480 (جماعت ششم سے بارہویں تک) ہے، جدید طرز تعمیر سے آراستہ ہیں۔ ان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ ہاسٹل، مشترکہ ڈائننگ اور کچن کی سہولیات، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے لیے رہائشی کوارٹر، جدید تدریسی آلات سے مزین کلاس روم، سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹری، متنوع تعلیمی وسائل سے بھرپور لائبریریاں اور کھیل کے میدان شامل ہیں۔ عملے کے حوالے سے، بارہویں جماعت تک مکمل گنجائش یعنی 480 طلبہ رکھنے والے ہر ای ایم آر ایس کے لیے 31 تدریسی اور 21 غیر تدریسی اسامیاں منظور کی گئی ہیں۔
این ای ایس ٹی ایس نے ای ایس ایس ای-2023 کے ذریعے 10,391 اسامیوں پر براہ راست بھرتی کے لیے اپنی پہلی مہم شروع کی۔ اس عمل کے تحت منتخب عملے کو مختلف ای ایم آر ایس اداروں میں تعینات کیا گیا ہے، جن میں آندھرا پردیش میں 570 ملازمین بھی شامل ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، جہاں کہیں اسامیاں خالی ہوتی ہیں وہاں ریاستی سوسائٹیز کی جانب سے مہمان اساتذہ بھی مقرر کیے جاتے ہیں۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
11-03-2026
U: 3808
(ریلیز آئی ڈی: 2238470)
وزیٹر کاؤنٹر : 9