شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
ہندوستان کے شماریاتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 3:15PM by PIB Delhi
تیزی سے بدلتے ہوئے شماریاتی نظام میں شماریاتی ڈھانچے کی صلاحیت کا جائزہ اور ادارہ جاتی اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے، تاکہ اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید رکھا جا سکے۔ حالیہ عرصے میں وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) نے بھارت کے شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد سرکاری اعداد و شمار کے معیار، تعدد، بروقت فراہمی، باریکی، ہم آہنگی اور رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم توجہ نیشنل سیمپل سرویز کو جدید بنانے پر مرکوز رہی ہے۔ اس کے لیے کمپیوٹر اسسٹڈ پرسنل انٹرویو (سی اے پی آئی) جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ای-سگما پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس میں خودکار ویلیڈیشن چیکس، مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ اور کثیر لسانی انٹرفیس جیسی سہولیات شامل ہیں۔ مزید برآں، وزارت نے مختصر مدت کے سروے بھی شروع کیے ہیں، تاکہ تیزی سے درکار ہونے والے اعلیٰ تعدد کے سماجی و معاشی اشاریے فراہم کیے جا سکیں۔
معاشیاتی شماریات کے شعبے میں بھی نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں، جن میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)، کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) کے بنیادی سال کی نظرِ ثانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وزارت نے ڈیٹا کی ہم آہنگی اور معیاری بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں، جن میں نیشنل میٹا ڈیٹا اسٹرکچر (این ایم ڈی ایس 2.0) کو اختیار کرنا، شماریاتی معیار کے جائزے کا فریم ورک (ایس کیو اے ایف) متعارف کرانا اور قومی و بین الاقوامی درجہ بندی کے معیارات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہے۔ ڈیٹا کی ترسیل اور اس تک رسائی کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایم او ایس پی آئی کی نئی ویب سائٹ، جی او آئی اسٹیٹس موبائل ایپلیکیشن، ای-سنکھیکی پورٹل، مائیکروڈیٹا پورٹل اور ڈیٹا کے تبادلے کے لیے اے پی آئیز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، وزارت نے ایک نیا ویب پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم پیمانہ (پی اے آئی ایم اے این اے) بھی شروع کیا ہے، جس کا مکمل نام (پروجیکٹ اسسمنٹ انفراسٹرکچر مانیٹرینگ اینڈ اینالیٹکس فور نیشن بلڈنگ) ہے۔ اس نظام کے ذریعے 150 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت کے جاری مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی کی جاتی ہے۔
وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ ( ایم او ایس پی آئی) ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹیز) کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے “سپورٹ فار اسٹیٹسٹیکل اسٹرینتھنگ (ایس ایس ایس)” ذیلی اسکیم کے تحت تعاون فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ریاستی شماریاتی نظام کی صلاحیت اور کارکردگی کو بہتر اور مضبوط بنانا ہے تاکہ ذیلی ریاستی سطح پر قابلِ اعتماد سرکاری اعداد و شمار کو جمع کرنے، مرتب کرنے اور عام کرنے کا عمل مؤثر طریقے سے انجام دیا جا سکے۔
اس کے علاوہ نیشنل اسٹیٹسٹیکل سسٹمز ٹریننگ اکیڈمی (این ایس ایس ٹی اے)، جو وزارت کے تحت ایک ممتاز مرکزی تربیتی ادارہ ہے، باقاعدگی سے “سرکاری شماریات اور متعلقہ شعبوں” کے موضوع پر مختلف تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے۔ ان پروگراموں میں ڈیجیٹل آلات، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیٹا گورننس جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں، جن کا مقصد مرکزی اور ریاستی/مرکزی زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے شماریاتی عملے کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے ،تاکہ فیلڈ سے بہتر اور معیاری ڈیٹا جمع کیا جا سکے۔
مزید برآں، وزارت نے مرکزی اور ریاستی شماریاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنایا ہے، جس کے لیے کانفرنسوں، مشاورتی نشستوں، ورک شاپس اور فیڈ بیک کے نظام کو فروغ دیا گیا ہے۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ، وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ ثقافت کے وزیرِ مملکت راؤ اندر جیت سنگھ نے فراہم کیں۔
********************
(ش ح ۔ ا ع خ ۔ ت ع)
Urdu No. 3774
(ریلیز آئی ڈی: 2238317)
وزیٹر کاؤنٹر : 8