ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: سیلاب اور سمندری طوفان کے لیے ابتدائی وارننگ کے نظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAR 2026 12:17PM by PIB Delhi

فی الحال بھارتی موسمیات محکمہ (آئی ایم ڈی) شدید بارش اور سمندری طوفان  سے متعلق واقعات کے بارے میں ضلع وار ابتدائی انتباہات تیار کرتا ہے اور انہیں روزانہ چار مرتبہ اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ یہ موسمی پیش گوئیاں سات دن تک کے عرصے کے لیے مؤثر ہوتی ہیں۔

آئی ایم ڈی حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں موسم سے متعلق انتباہات اور گرافیکل معلوماتی مواد بھی تیار کرتا ہے، تاکہ موسم کی بروقت نگرانی اور معلومات کی مؤثر ترسیل ممکن ہو سکے۔ یہ انتباہات تمام حساس اور خطرے سے دوچار اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں تاکہ تیاری اور ممکنہ نقصانات میں کمی کے لیے معلومات بروقت فراہم کی جا سکیں۔

مزید برآں، یہ انتباہات مختلف ذرائع کے ذریعے عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائے جاتے ہیں، مثلاً کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی)، موبائل ایپس، ویب سائٹس، واٹس ایپ، اور سوشل میڈیا وغیرہ۔ تاہم خودکار سائرن اور الرٹ کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے انتباہی پیغامات کی ترسیل کی ذمہ داری متعلقہ ریاستوں کی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (ایس ڈی ایم اے) اور اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (ایس ای او سیز) پر عائد ہوتی ہے۔

آئی ایم ڈی اس سلسلے میں سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) کو مشاہدہ شدہ اور متوقع بارش کے اعداد و شمار فراہم کر کے معاونت بھی کرتا ہے۔

سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) ملک میں سیلاب کی پیش گوئی اور ابتدائی سیلابی انتباہ جاری کرنے کے لیے نامزد مرکزی ادارہ ہے۔ اس وقت سی ڈبلیو سی ملک بھر میں 350 پیش گوئی اسٹیشنوں سے سیلابی پیش گوئیاں جاری کرتا ہے، جن میں 150 انفلو فورکاسٹ اسٹیشن بڑے باندھوں اور بیراجوں پر جبکہ 200 لیول فورکاسٹ اسٹیشن بڑی ندیوں پر قائم ہیں۔ یہ نیٹ ورک ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشاورت سے قائم کیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کو لوگوں کو بحفاظت نکالنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنے کی غرض سے سی ڈبلیو سی نے بارش اور بہاؤ کے ریاضیاتی ماڈل کی بنیاد پر دریائی طاس (بیسن) کے لحاظ سے سیلابی پیش گوئی کا ایک ماڈل تیار کیا ہے۔ اس کے ذریعے موجودہ مختصر مدتی پیش گوئی (جو تقریباً 24 گھنٹے تک کی ردِعمل مدت رکھتی ہے) کے علاوہ سات دن پہلے تک کی پیشگی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

سی ڈبلیو سی کی سیلابی پیش گوئی کی خدمات کو بھی کامن الرٹ پروٹوکول (سی اے پی) پر مبنی مربوط انتباہی نظام کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جس کے ذریعے متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (ایس ڈی ایم اے) کو اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حکومت نے سی-فلڈ  نامی ایک ویب پر مبنی پلیٹ فارم شروع کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم گاؤں کی سطح تک دو دن پہلے سیلابی پانی کے پھیلاؤ کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے، جس میں سیلابی نقشوں اور پانی کی سطح کے اندازوں کی شکل میں معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔سی-فلڈ ویب بیسڈ پلیٹ فارم کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • سی۔فلڈ جدید دو بُعدی ہائیڈروڈائنامک ماڈلنگ سے حاصل ہونے والی سیلابی پھیلاؤ کی معلومات کو اس کے رقبے اور گہرائی کے اعداد و شمار کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔
  • اسے ایک متحدہ سیلابی معلوماتی نظام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو قومی اور علاقائی اداروں کی جانب سے مختلف دریائی طاسوں کے لیے تیار کردہ سیلابی ماڈلنگ کے نتائج کو اُن کے متعلقہ ایکشن پلان کے مطابق یکجا کرتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس میں گوداوری، تاپی اور مہانَدی کے دریائی طاسوں کے لیے سیلابی پھیلاؤ کی پیش گوئیاں شامل کی گئی ہیں۔
  • اس ویب پورٹل کو ابتدائی مرحلے میں تین زبانوں — ہندی، انگریزی اور اوڑیا — میں دستیاب بنایا گیا ہے۔
  • اس میں آئندہ دو دنوں کے لیے سیلابی پھیلاؤ کی پیش گوئی شامل ہوتی ہے اور یہ معلومات گاؤں کی سطح تک فراہم کرتا ہے۔
  • اس نظام میں سیلابی پھیلاؤ کی گہرائی کی بنیاد پر سیلابی الرٹ کی تین درجہ بندیاں دی جاتی ہیں:

“فلڈ واچ انڈیا” کے نام سے ایک موبائل ایپ بھی سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) نے تیار کی ہے، جسے 17 اگست 2023 کو جاری کیا گیا تھا۔ اس ایپ کے ذریعے فی الحال 200 اسٹیشنوں پر سیلاب کی پیش گوئی، مزید 500 اسٹیشنوں پر موجودہ سیلابی صورتحال کی نگرانی، اور ملک کے 150 بڑے آبی ذخائر کی ذخیرہ آب کی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ایپ مرکزی، ریاستی، ضلعی اور مقامی سطح پر کام کرنے والے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے ساتھ ساتھ عام عوام کے لیے بھی مفید ہے، کیونکہ یہ سیلاب سے متعلق بروقت الرٹس فراہم کرتی ہے، تاکہ حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔

پنجاب، مغربی بنگال اور بہار کی ریاستوں کے حوالے سے ضلعی سطح پر رنگین درجہ بندی  کے ساتھ شدید بارش کی وارننگ تیار کرنے اور اسے بروقت اپ ڈیٹ کرنے میں کوئی خاص کمی نہیں ہے۔ اسی طرح کیچمنٹ علاقوں کے مطابق سیلابی وارننگ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے سنٹرل واٹر کمیشن کو بارش کے تازہ اعداد و شمار اور مقداری بارش کی پیش گوئی (کیو پی ایف) بھی وقتاً فوقتاً فراہم کی جاتی ہے۔

مقامی سطح پر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے مکمل مواصلاتی نظام میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ سمندری طوفان  سے متعلق وارننگ کی ترسیل کے لیے بھارتی موسمیات محکمہ (آئی ایم ڈی) دستیاب تمام ذرائع ابلاغ استعمال کرتا ہے تاکہ ڈیزاسٹر مینیجرز، میڈیا اور عام عوام تک معلومات پہنچائی جا سکیں۔

یہ وارننگز آئی ایم ڈی کی قومی اور ریاستی ویب سائٹس اور ٹراپیکل سائیکلون کے لیے مخصوص ویب سائٹ کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی)، رجسٹرڈ صارفین کو ایس ایم ایس الرٹس، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ایکس (X)، واٹس ایپ گروپس اور موبائل ایپس کے ذریعے بھی شیئر کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، قومی اور ریاستی سطح پر پریس ریلیز اور میڈیا بریفنگز کے ذریعے بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ماہی گیروں کے لیے وارننگز باقاعدگی سے آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے نشر کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈین نیشنل سینٹر فار اوشن انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس) کے نیٹ ورک کے ذریعے ماہی گیروں کو  ایس ایم ایس کے ذریعے بھی انتباہات بھیجے جاتے ہیں، جبکہ گہرے سمندر میں موجود ماہی گیروں تک وارننگ این اے وی آئی سی نظام کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ڈی سائیکلون کے موسم سے پہلے مرکزی اور ریاستی سطح کے ڈیزاسٹر مینیجرز کے ساتھ پری سائیکلون میٹنگز بھی منعقد کرتا ہے تاکہ بروقت تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ خراب موسمی حالات کے دوران مرکزی اور ریاستی سطح کے ڈیزاسٹر مینیجرز کو ڈائریکٹر جنرل، آئی ایم ڈی کی جانب سے براہِ راست بریفنگ بھی دی جاتی ہے۔

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) اور ریاستی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ایس ای او سی) اپنی ریاستی سطح کی ڈیزاسٹر وارننگ کمیونیکیشن نیٹ ورک کے ذریعے حساس اور خطرے سے دوچار آبادی تک انتباہات پہنچاتے ہیں۔ تاہم، خطرے سے دوچار افراد تک آخری مرحلے (لاسٹ مائل) تک مؤثر اور قابلِ اعتماد وارننگ پہنچانے کے لیے مقامی سطح پر موبائل اور ڈیجیٹل رابطے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سائرن نصب کرنا، عام لوگوں میں بیداری پیدا کرنا، اور ماہی گیروں کے لیے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو مزید مستحکم کرنا بھی ضروری ہے۔

ریاستی سطح پر ابتدائی وارننگ سسٹم کے مؤثر اور بہتر عمل کے لیے ضروری سرگرمیوں — جیسے مقامی سطح پر معلومات کی ترسیل کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، مختلف آفات کے اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنا، اور ابتدائی وارننگ سسٹم کے بارے میں عوامی ردعمل کو بہتر بنانا — کے لیے وسائل ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر میٹیگیشن فنڈ (ایس ڈی ایم ایف) کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر ریاستوں کی جانب سے مالی امداد کی درخواست کی جاتی ہے تو مرکزی حکومت اس پر نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) اور نیشنل ڈیزاسٹر میٹیگیشن فنڈ (این ڈی ایم ایف) سے متعلق رہنما اصولوں کے مطابق غور کرتی ہے۔

 

یہ معلومات آج لوک سبھا میں وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے ارضیاتی سائنس ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے فراہم کیں۔

********************

 

 

(ش ح  ۔ ا  ع خ۔  ت ع)

Urdu No. 3760


(ریلیز آئی ڈی: 2238173) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali