زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مالی سال 2023-24 میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے)بڑھ کر 48.77 لاکھ کروڑ روپےسے زیادہ ہو گئی، غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافہ جاری    

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 MAR 2026 6:12PM by PIB Delhi

وزارت شماریات اور پروگرام کے نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کے جاری کردہ مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے ) تازہ ترین تخمینوں کے مطابق زراعت اور اس سے منسلک شعبے کل جی وی اے کا تقریباً 18 فیصد ہیں۔ مزید برآں، قومی اکاؤنٹس کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2014-15 میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے جی وی اے کا تخمینہ 20,93,612 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، جبکہ مالی سال 2023-24 میں اس کے بڑھ کر 48,77,867  کروڑ روپے ہونے کا امکان ہے۔ موجودہ قیمتوں پرزراعت اور اس سے منسلک شعبوں نے مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2023-24 کے دوران 8.83 فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ ترقی کی شرح (سی اے جی آر) درج کی ہے۔

قومی اکاؤنٹس کے اعدادوشمار کے مطابق، لائیوا سٹاک، فصلیں اور ماہی پروری و آبی زراعت کا بالترتیب 30.87فیصد، 54.39فیصد، اور 7.55فیصد، زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کا ہے۔ مالی سال 2014-15 میں مویشیوں کے جی وی اے کا تخمینہ5,10,411 کروڑروپے لگایا گیا تھا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 15,05,615 کروڑ روپےہونے کا تخمینہ ہے۔ فصلوں کا جی وی اے مالی سال 2014-15 میں 12,92,874 کروڑروپے تھا، جس کے مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر26,52,891 کروڑ روپے ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح ماہی پروری اور آبی زراعت کا جی وی اے مالی سال 2014-15 میں تقریباً 1,16,567 کروڑروپے سے بڑھ کر مالی سال 2023-24 میں تقریباً 3,68,124 کروڑ روپےہونے کا امکان ہے۔

گزشتہ 10 برسوں میں ملک میں غذائی اجناس کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی کل غذائی اجناس کی پیداوار کا تخمینہ مالی سال 2015-16 میں 2515.42 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا، جس کے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3577.32 لاکھ میٹرک ٹن ہونے کا امکان ہے۔ اس مدت کے دوران تقریباً 3.6فیصد کی جامع سالانہ ترقی کی شرح (سی اے جی آر) ریکارڈ کی گئی ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 کے پہلے پیشگی تخمینہ کے مطابق، خریف کی فصلوں کی خوراک کی پیداوار ریکارڈ 1733.30 لاکھ میٹرک ٹن ہونے کا امکان ہے۔

مالی سال 2025-26 کے لیے سالانہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے دوسرے پیشگی تخمینہ کے مطابق، زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) کا تخمینہ52,08,800 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جو کہ 2.4 فیصد کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔

ملک میں زرعی گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی کا تخمینہ وقتاً فوقتاً قومی شماریاتی دفتر (این ایس او)، وزارت شماریات اور پروگرام عمل درآمد (ایم او ایس پی آئی) کے ذریعے کرائے جانے والے ‘‘زرعی گھرانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے والے سروے ( ایس اے ایس)’’ کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔

تازہ ترین 77 ویں این ایس ایس ویں راؤنڈ سروے (جنوری 2019 - دسمبر 2019) کے مطابق ملک کے دیہی علاقوں میں فی زرعی گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدنی، مختلف ذرائع سے — جیسے کہ فصل کی پیداوار، مویشی پالنا، اجرت، غیر زرعی کاروباراور زمین لیز پر — کا تخمینہ تقریباً180 روپے ہے۔ مقامی زرعی موسمی حالات، کھیت کے سائز، اور فصل کے نمونوں کے لحاظ سے ان ذرائع کی شراکت ریاستوں میں مختلف ہوتی ہے۔ ان سروے کے مطابق، مالی سال 2012-13 (این ایس ایس70ویں راؤنڈ) میں فی زرعی گھرانے کی تخمینہ اوسط ماہانہ آمدنی 6,426 روپےسے بڑھ کر مالی سال 2018-19 (این ایس ایس 77ویں راؤنڈ) میں10,218 ہو گئی ہے۔

یہ معلومات زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے آج ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 

********

ش ح-ظ الف-ن م

UR No. 3732

 


(ریلیز آئی ڈی: 2237999) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी