سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایس سی کمیونٹی کے لیے اسکالرشپ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 MAR 2026 4:52PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کا محکمہ اور قبائلی امور کی وزارت درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے بالترتیب درج فہرست ذات کے طلبا کے لیے قومی فیلوشپ اسکیم‘ (این ایف ایس سی) اور درج فہرست قبائل کے طلبا کے لیے قومی فیلوشپ اسکیم‘ (این ایف ایس ٹی) نافذ کر رہے ہیں۔

ان اسکیموں کے تحت ایس سی اور ایس ٹی طلبا کے لیے اہلیت کے معیارات درج ذیل ہیں۔

اسکیم

اہلیت

درج فہرست ذات کے طلبا کے لیے قومی فیلوشپ اسکیم (این ایف ایس سی) |

(i) یو جی سی-نیٹ (جے آر ایف) یا مشترکہ یو جی سی-سی ایس آئی آر نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کرنا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) سے تسلیم شدہ یونیورسٹیوں یا اداروں میں داخلہ حاصل کرنا۔
(ii) عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔

درج فہرست قبائل کے طلبا کے لیے قومی فیلوشپ اسکیم (این ایف ایس ٹی) |

(i) پوسٹ گریجویشن میں کم از کم 55 فیصد نمبر حاصل کرنا اور یو جی سی-نیٹ یا مشترکہ یو جی سی-سی ایس آئی آر نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کرنا، نیز اسکیم کے تحت آنے والی یونیورسٹیوں یا اداروں میں داخلہ لینا۔
(ii) زیادہ سے زیادہ عمر 36 سال ہے۔

نیشنل فیلوشپ اسکیم فار شیڈولڈ کاسٹ اسٹوڈنٹس (این ایف ایس سی) اور نیشنل فیلوشپ اسکیم فار شیڈولڈ ٹرائب اسٹوڈنٹس (این ایف ایس ٹی) کے تحت اسکالرشپ یا فیلوشپ کے الگ زمرے نہیں ہیں۔ تاہم این ایف ایس سی اسکیم کے تحت سالانہ 2000 سلاٹس میں سے 1500 سلاٹس یو جی سی-نیٹ (ہیومینیٹیز) کے لیے اور 500 سلاٹس مشترکہ یو جی سی-سی ایس آئی آر نیٹ (سائنس کے شعبے) کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے ایس سی اور ایس ٹی مستفیدین کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

ایس سی اور ایس ٹی پی ایچ ڈی اسکالرز کو اسکالرشپ تک رسائی، آگاہی اور بروقت تقسیم کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک مخصوص آن لائن اسکالرشپ اور فیلوشپ مینجمنٹ پورٹل (ایس ایف ایم پی) کے ذریعے اسکیموں کا نفاذ، اہل درخواست دہندگان کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے فیلوشپ کی ادائیگی، تصدیق کے عمل کو آسان بنانا، اور اہل طلبا میں وسیع پیمانے پر آگاہی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ، این ایس ایف ڈی سی اور یو جی سی کی ویب سائٹس کے ساتھ ساتھ آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے ذریعے معلومات کی فراہمی شامل ہے۔

ضمیمہ-I

2022-23 سے 2024-25 کے دوران این ایف ایس سی اور این ایف ایس ٹی اسکیموں کے تحت آنے والے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے اسکالرز کی سال وار اور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تعداد کی تفصیلات۔

شمار نمبر

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

 

اسکالرز کی تعداد

2022-23

2023-24

2024-25

ایس سی

ایس ٹی

ایس سی

ایس ٹی

ایس سی

ایس ٹی

1

انڈمان اور نیکوبار جزائر

12

0

20

1

6

1

2

آندھرا پردیش

77

106

147

90

105

59

3

اروناچل پردیش

1

129

0

133

0

142

4

آسام

51

180

70

189

86

195

5

بہار

49

15

93

13

85

10

6

چندی گڑھ

12

0

16

0

19

0

7

چھتیس گڑھ

31

101

43

109

54

113

8

دہلی

196

0

250

0

260

0

9

گوا

0

1

0

1

1

0

10

گجرات

37

145

53

146

47

113

11

ہریانہ

194

0

258

0

263

0

12

ہماچل پردیش

125

45

157

54

160

35

13

جموں اور کشمیر

57

119

73

119

69

103

14

جھارکھنڈ

24

74

31

73

34

67

15

کرناٹک

150

296

213

289

200

203

16

کیرالہ

90

14

125

12

140

11

17

لداخ

0

51

0

55

0

53

18

لکشدویپ

0

1

0

1

0

1

19

مدھیہ پردیش

59

67

118

53

107

36

20

مہاراشٹر

102

79

147

81

149

69

21

منی پور

18

138

32

147

43

139

22

میگھالیہ

1

122

1

142

1

138

23

میزورم

0

292

0

288

0

340

24

ناگالینڈ

0

186

0

216

0

222

25

اوڈیشہ

68

141

106

142

84

191

26

پڈوچیری

3

0

4

2

5

1

27

پنجاب

212

0

243

0

221

0

28

راجستھان

128

102

176

104

174

88

29

سکم

3

20

4

21

4

20

30

تمل ناڈو

75

27

107

24

102

22

31

تلنگانہ

111

353

166

313

122

173

32

دادرا نگر حویلی اور دامن اور دیو

0

0

0

1

0

1

33

تریپورہ

6

35

6

46

4

51

34

اتر پردیش

462

10

735

15

776

17

35

اتراکھنڈ

58

6

88

8

95

8

36

مغربی بنگال

483

83

687

87

727

76

 

کل

*2895

2938

*4169

2975

*4143

2698

چونکہ این ایف ایس سی اسکیم کے تحت فیلوشپ کی مدت پانچ سال تک ہوتی ہے اور ایک اسکالر کا اندراج کئی برسوں میں دہرایا جاتا ہے، اس لیے متعدد ادائیگیوں کے باوجود سال کے دوران ایک ہی اسکالر کو ایک مرتبہ شمار کیا جاتا ہے۔

ماخذ: اسکالرشپ اینڈ فیلوشپ مینجمنٹ پورٹل (ایس ایف ایم پی)

یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاوالے نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

***

UR-3695

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2237903) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी