سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نشا مکت بھارت ابھیان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 MAR 2026 4:49PM by PIB Delhi

نشا مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) کے پانچویں سال کے جشن کے موقع پر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے شہریوں کو متحرک کرنے کے لیے یکم اگست 2025 سے نومبر 2025 تک ایک قومی مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اس مہم میں مسابقتی اور شراکتی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ شامل تھا، جس کے ذریعے اجتماعی طور پر 6.5 کروڑ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی گئی۔ بیداری پیدا کرنے کی سرگرمیوں کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے اگست 2025 کے بعد این ایم بی اے کے نتائج پر مبنی نئے اہداف درج ذیل شعبوں پر مرکوز کیے گئے ہیں:

  • این ایم بی اے کے یوتھ/ماسٹر رضاکاروں کو مضبوط بنانا، ان کی تربیت اور صلاحیت سازی
  • شواہد پر مبنی مواد کے ساتھ آئی ای سی ٹولز اور تکنیکوں پر توجہ مرکوز کرنا
  • کمزور اور خطرے سے دوچار گروپوں کے لیے ہدف شدہ مداخلت کا طریقہ کار
  • مسلسل کوششوں کے لیے ایمان پر مبنی اور روحانی تنظیموں کی شمولیت
  • متعلقہ وزارتوں کے ساتھ بین الوزارتی تعاون اور ہم آہنگی
  • معیاری ڈی ایڈکشن، علاج، بحالی اور ٹیلی میڈیسن خدمات کی فراہمی

اس محکمے نے نیشنل ڈرگ ڈیپینڈینس ٹریٹمنٹ سینٹر (این ڈی ڈی ٹی سی)، ایمس کو ہندوستان میں مادہ کے استعمال کی وسعت اور رجحانات پر دوسرا قومی سروے کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، تاکہ ملک میں مختلف مادوں کا استعمال کرنے والے افراد اور مادہ کے استعمال کی خرابیوں (نقصان دہ استعمال اور مختلف مادوں پر انحصار) میں مبتلا افراد کے تناسب اور مجموعی تعداد کے قومی، ریاستی اور ضلعی سطح کے تخمینے فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ مخصوص آبادیاتی گروہوں میں مادہ کے استعمال اور اس کے نتائج کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

نشا مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) کے تحت ہدف شدہ مداخلتوں کے لیے زیادہ خطرے والے اضلاع کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیات این ڈی ڈی ٹی سی، ایمس کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

ملک میں نشہ آور اشیا کے استعمال کے مسئلے کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے محکمے نے این ڈی ڈی ٹی سی، ایمس کے ذریعے ہندوستان میں نشہ آور اشیا کے استعمال کی وسعت پر ایک جامع قومی سطح کا سروے کرایا تھا، جو 2019 میں شائع ہوا۔ تاہم اس سروے میں صرف قومی اور ریاستی سطح پر نفسیاتی مادوں کے استعمال کرنے والے افراد کی تعداد/فیصد اور مادہ کے استعمال کی خرابیوں سے متاثرہ افراد کے تخمینے فراہم کیے گئے تھے، کیونکہ اس کا طریقہ کار ضلعی یا دیگر ذیلی ریاستی سطح پر ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔

ملک بھر میں نشے کی لت کے علاج کی سہولیات کو معیاری بنانے اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے مقصد سے حکومت سے گرانٹ حاصل کرنے یا اس کے لیے درخواست دینے والی ہر تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیتی آیوگ کے این جی او درپن پورٹل پر اندراج کرے اور متعلقہ ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقے سے سفارش حاصل کرے۔ یہ سفارش اسی صورت میں جاری کی جاتی ہے جب تنظیم تمام متعلقہ قوانین، قواعد اور ضوابط کی مکمل پابندی کر رہی ہو۔

مزید برآں ہر گرانٹ اِن ایڈ ادارہ (جی آئی اے) کو این اے پی ڈی ڈی آر کے رہنما خطوط کے مطابق وزارت کی جانب سے نامزد اداروں سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔ اس مقصد کے لیے منظوری کا عمل اس وقت نیشنل ایکریڈیشن بورڈ فار ہاسپٹلز (این اے بی ایچ) کے ذریعے جاری ہے۔

بامعنی روزی روٹی کی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے مہارت کی ترقی، پیشہ ورانہ تربیت اور نشہ آور اشیا استعمال کرنے والے افراد کی بحالی کے لیے روزی روٹی سے متعلق معاون پروگرام گرانٹ اِن ایڈ اداروں (جی آئی اے) کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔ ان میں انٹیگریٹڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر فار ایڈکٹس (آئی آر سی اے) اور ڈسٹرکٹ ڈی ایڈکشن سینٹر (ڈی ڈی اے سی) شامل ہیں۔ محکمہ، مہارت کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت اور دیگر وزارتوں و محکموں کے ساتھ مل کر ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جن میں وہ روحانی تنظیمیں بھی شامل ہیں جو نشا مکت بھارت ابھیان سے وابستہ ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران محکمہ کی جانب سے تعاون یافتہ نشہ سے نجات کے مراکز سے مستفید ہونے والوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

ضمیمہ-I

گزشتہ تین برسوں کے دوران محکمہ کی جانب سے تعاون یافتہ نشہ سے نجات کے مراکز سے مستفید ہونے والوں کی ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں۔

شمار نمبر

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

مالی سال 2022-23

مالی سال 2023-24

مالی سال 2024-25

1

آندھرا پردیش

20036

48094

76061

2

اے اینڈ این جزائر

0

0

0

3

اروناچل پی آر

5

0

0

4

آسام

26869

40328

36674

5

بہار

1487

1639

29429

6

چندی گڑھ

1145

5440

5465

7

چھتیس گڑھ

17262

16742

16848

8

ڈی اینڈ این حویلی اور دامن اور دیو

182

187

192

9

دہلی

26635

44454

41000

10

گوا

0

0

0

11

گجرات

1607

17658

20824

12

ہریانہ

6893

6790

6550

13

ہماچل پردیش

3207

2683

3218

14

جموں و کشمیر

9774

31432

35948

15

جھارکھنڈ

194

190

11515

16

کرناٹک

7179

7501

8248

17

کیرالہ

10385

12747

12943

18

لداخ

0

0

1138

19

لکشدیپ

0

0

0

20

مدھیہ پردیش

55461

78015

100472

21

مہاراشٹر

8705

10347

28739

22

منی پور

10313

18920

32528

23

میگھالیہ

196

417

627

24

میزورم

2196

8790

8931

25

ناگالینڈ

1293

2556

6757

26

اڑیسہ

32241

39965

48306

27

پڈوچیری

463

4628

4571

28

پنجاب

11239

11486

11603

29

راجستھان

28982

52713

71355

30

سکم

165

114

294

31

تمل ناڈو

3668

15938

44271

32

تلنگانہ

6174

6995

12032

33

تریپورہ

416

0

0

34

اتر پردیش

31041

71721

96749

35

اتراکھنڈ

5230

5537

5472

36

مغربی بنگال

8942

17786

20133

 

کل

339585

581813

798893

منشیات کی مانگ میں کمی کے لیے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) کی تنظیم نو کے سلسلے میں محکمہ نے متعدد اسٹیک ہولڈرز، یعنی ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں، این جی اوز، سی بی اوز، جی آئی اے، ماہرین اور متعلقہ وزارتوں و محکموں (جیسے صحت، تعلیم اور جیل) کے ساتھ مشاورت کے لیے چنتن شیویر اور علاقائی جائزہ اجلاسوں سمیت مختلف مشاورتی نشستوں کا انعقاد کیا ہے۔ مسلسل کوششوں کے تحت این اے پی ڈی ڈی آر کے رہنما خطوط کی تنظیم نو کے لیے ایک ماہر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

***

 

UR-3694

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2237877) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी