سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
بھیک مانگنے کا پیشہ چھوڑنے والوں کی بحالی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 MAR 2026 4:50PM by PIB Delhi
ایس ایم آئی ایل ای (سپورٹ فار مارجنلائزڈ انڈیجنیولز فار لائیولی ہڈ اینڈ انٹرپرائز)کی ذیلی اسکیم "بھیک مانگنے میں ملوث افراد کی جامع بحالی" کا آغاز 23 اکتوبر 2023 کو کیا گیا۔ اس کے تحت بھیک مانگنے کے عمل میں مصروف افراد کے طور پر کل 31,055 افراد کی شناخت کی گئی ہے، جن میں سے 9,855 افراد کو بچایا گیا اور ذیلی اسکیم کے تحت ان کی بحالی کی گئی ہے، جن میں 2,480 بچے بھی شامل ہیں۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
(ایس ایم آئی ایل ای )اسمائل ذیلی اسکیم کو عمل درآمد کرنے والے حکام (آئی اے )، یعنی ضلعی انتظامیہ، شہری مقامی اداروں اور میونسپل کارپوریشنوں کے ساتھ ساتھ بھیک مانگنے کی روک تھام کے شعبے میں کام کرنے والی دیگر ایجنسیوں کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ ذیلی اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق، عمل درآمد کرنے والی اتھارٹی ایک مقررہ انتخابی عمل کے ذریعے عمل درآمد کرنے والی ایجنسی یا غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کا تقرر یا انتخاب کرتی ہے۔ چونکہ یہ اسکیم آئی اے کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہے، اس لیے وزارت کو بحالی کی درخواستیں موصول نہیں ہوتیں، کیونکہ تمام بچائے گئے افراد کو ان کی رضامندی اور دلچسپی کے مطابق اور اسکیم کے رہنما خطوط کی مختلف دفعات کے تحت جامع بحالی فراہم کی جاتی ہے۔
اسمائل ذیلی اسکیم کے تحت مستفیدین کو مرکزی اور ریاستی حکومت کے مختلف پروگراموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ہنر مندی کے فروغ اور روزی روٹی کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ تمام اہل افراد کو مقامی ضرورت اور اہلیت کی بنیاد پر کارپینٹری، سلائی، کھانا پکانے، باغبانی، حفاظتی خدمات، صفائی کے کام، ای رکشہ ڈرائیونگ اور دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ہنر کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ کمیونٹی یا سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کی تشکیل اور آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے لیے مالی مدد حاصل کرنے کی غرض سے بینکوں کے ساتھ روابط قائم کرنے میں بھی اس ذیلی اسکیم کے تحت معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کی تفصیلات بھی ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
ذیلی اسکیم کے تحت مستفیدین کی شناخت، پناہ گاہ کی فراہمی، مشاورت اور ہنر مندی کی ترقی یا پیشہ ورانہ تربیت کو مرکزی اور ریاستی حکومت کے دیگر پروگراموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مناسب فلاحی اور روزی روٹی کی اسکیموں سے جوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا بحال شدہ مستفیدین کی موجودہ ملازمت یا روزی روٹی کی حیثیت سے متعلق اعداد و شمار محکمہ میں محفوظ نہیں رکھے جاتے۔
مزید برآں مؤثر بحالی، پائیدار روزی روٹی اور دوبارہ بھیک مانگنے کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے مقامی ضرورت کے مطابق اجرتی روزگار یا معاشی سرگرمیوں سے متعلق پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت کی ترقی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ روزگار یا خود روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ طویل مدتی اور پائیدار بحالی کے لیے فالو اَپ کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
ضمیمہ-I
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے سروے/شناخت اور بحالی کی فہرست
|
شمار نمبر
|
ریاستیں/یو ٹی
|
سروے/
شناخت کل
|
ریسکیو اور بحالی کا کل
|
اجرت کی ملازمت
|
خود روزگار
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
2569
|
653
|
400
|
50
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
140
|
99
|
80
|
0
|
|
3
|
آسام
|
1840
|
605
|
116
|
263
|
|
4
|
بہار
|
476
|
375
|
198
|
62
|
|
5
|
چندی گڑھ (یوٹی)
|
499
|
352
|
198
|
20
|
|
6
|
دہلی این سی ٹی
|
3318
|
372
|
186
|
50
|
|
7
|
گجرات
|
1141
|
453
|
195
|
75
|
|
8
|
ہماچل پردیش
|
27
|
1
|
1
|
0
|
|
9
|
جموں و کشمیر
|
1143
|
510
|
166
|
8
|
|
10
|
کرناٹک
|
875
|
88
|
40
|
26
|
|
11
|
کیرالہ
|
674
|
178
|
93
|
20
|
|
12
|
مدھیہ پردیش
|
1772
|
1291
|
357
|
208
|
|
13
|
مہاراشٹر
|
1601
|
1025
|
244
|
80
|
|
14
|
منی پور
|
64
|
0
|
0
|
0
|
|
15
|
میزورم
|
16
|
0
|
0
|
0
|
|
16
|
ناگالینڈ
|
107
|
22
|
22
|
0
|
|
17
|
اوڈیشہ
|
784
|
288
|
78
|
100
|
|
18
|
پڈوچیری
|
485
|
178
|
8
|
73
|
|
19
|
پنجاب
|
128
|
6
|
6
|
0
|
|
20
|
راجستھان
|
79
|
0
|
0
|
0
|
|
21
|
تمل ناڈو
|
9145
|
1590
|
357
|
298
|
|
22
|
تلنگانہ
|
580
|
53
|
53
|
0
|
|
23
|
اتر پردیش
|
3592
|
1716
|
1223
|
223
|
|
کل
|
31055
|
9855
|
4021
|
1556
|
ذیلی اسکیم کے تحت بحال کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد میں وہ بچے بھی شامل ہیں جنہیں اپنے خاندانوں سے دوبارہ ملایا گیا ہے یا چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں اولڈ ایج ہومز، نشہ سے نجات کے مراکز اور دیگر مناسب نگہداشت و معاونت فراہم کرنے والے اداروں سے منسلک کرکے مرکزی اور ریاستی حکومت کی دیگر اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے بحال کیا گیا ہے۔ دیگر تمام افراد کو پیشہ ورانہ یا ہنر مندی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے اور انہیں اجرتی روزگار یا خود روزگار حاصل کرنے میں سہولت دی جاتی ہے۔
یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
UR-3693
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2237872)
وزیٹر کاؤنٹر : 13