وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا زراعت اور دیہی تبدیلی پر بجٹ کے بعد کے ویبینار سے خطاب
رواں برس کے مرکزی بجٹ نے زراعت اور دیہی تبدیلی کو نئی سمت دی ہے: وزیر اعظم
حکومت نے زراعت کے شعبے کو مسلسل مضبوط کیا ہے، اہم اقدامات سے کسانوں کے خطرات کم ہوئے ہیں اور انہیں بنیادی اقتصادی تحفظ حاصل ہوا ہے: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے کہا،’’اگر ہم اعلیٰ قدر کی زراعت کو فروغ دیں تو یہ زراعت کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل شعبے میں بدل دے گی۔‘
برآمدی محور پیداوار بڑھنے سے پروسیسنگ اور قیمت میں اضافہ کے ذریعے دیہی علاقوں میں روزگار پیدا ہوگا: وزیر اعظم
ماہی گیری دیہی خوشحالی کے لیے ایک اعلیٰ قدر اور اثر انگیز شعبہ بن سکتی ہے اور برآمدات کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے: وزیر اعظم
حکومت ایگری اسٹیک کے ذریعے زراعت کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہی ہے: وزیر اعظم
’’ٹیکنالوجی تبھی نتائج دیتی ہے ،جب نظام اسے اپنائے، ادارے اسے مربوط کریں اور کاروباری افراد اس میں جدت پیدا کریں‘‘: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 MAR 2026 1:01PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج بجٹ کے بعد منعقد تیسرے ویبینار سے خطاب کیا۔ اس ویبینار کا اہم موضوع ’زراعت اور دیہی تبدیلی‘ تھا۔وزیر اعظم نے گزشتہ سیشنز میں ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی پر کیے گئے غور و خوض کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ تیار کرنے کے دوران متعلقہ فریقین نے قیمتی تعاون فراہم کیا۔ جناب مودی نے کہاکہ اب بجٹ کے بعد، اتنا ہی ضروری ہے کہ ملک اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھائے اوراس سمت میں آپ کے تجاویز اور یہ ویبینار اس لیے اہم ہیں۔‘
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت ہندوستانی معیشت کی بنیاد اور ملک کے طویل مدتی ترقیاتی سفر کے لیے ایک حکمت عملی کا ستون ہے۔ جناب نریندر مودی نے کئی پروگراموں پر روشنی ڈالی، جیسے ‘پی ایم کسان سمان ندھی’ اور ‘کم سے کم امدادی قیمت(ایم ایس پی) میں اصلاحات جو کسانوں کو 1.5 گنا منافع فراہم کرتی ہیں۔جناب مودی نے کہاکہ ہماری حکومت نے مسلسل زراعت کے شعبے کو مضبوط بنایا ہے۔
موجودہ اسکیموں کی کامیابی کے بارے میں اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 10 کروڑ کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی کے طور پر 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ موصول ہوئے ہیں ، اور ’پی ایم فصل بیمہ یوجنا‘ کے تحت تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کے بیمہ دعوؤں کا تصفیہ کیا گیا ہے ۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ ادارہ جاتی قرض کا احاطہ75؍فیصدسے زیادہ ہو گیا ہے ۔ جناب مودی نے کہا کہ اس طرح کی بے شمار اقدمات نے کسانوں کے لیے خطرات کو کم کر کے انہیں بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کیا ہے ۔
غذائی اجناس اور دالوں کی ریکارڈ پیداوار پر وزیر اعظم نے 21 ویں صدی کی دوسری سہ ماہی کے آغاز کے ساتھ ہی اس شعبے کو نئی توانائی فراہم کرنے پر زور دیا ۔ اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ رواں برس کے مرکزی بجٹ میں اس سمت میں نئی کوششیں کی گئی ہیں ، جناب مودی نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ویب نار کے مباحثے سے بجٹ سے وابستہ تجاویز کے نفاذ میں تیزی آئے گی ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ اس ویبینار میں آپ کے درمیان ہونے والی بحث اور اس کے نتیجے میں آنے والی تجاویز سے بجٹ کی دفعات کو جلد از جلد زمینی سطح پر نافذ کرنے میں مدد ملے گی‘ ۔
وزیر اعظم نے عالمی طلب میں تبدیلی اور ہندوستانی زراعت کو برآمدی محور بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پیداوار اور برآمدی طاقت بڑھانے کے لیے ہندوستان کی متنوع آب و ہوا کا مکمل استعمال کرنے کی تلقین کی۔ جناب مودی نے کہاکہ اس ویب نار میں یہ ضروری ہے کہ ہماری زراعت کو برآمدی محور بنانے پر زیادہ سے زیادہ بحث ہو۔
وزیر اعظم نے اعلیٰ قدر والی زراعت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کوکو ، کاجو اور صندل کی لکڑی جیسی فصلوں کے خطے کے مخصوص فروغ کے لیے تفصیلی بجٹ تجاویز پیش کیں ۔ جناب مودی نے شمال مشرق میں اگر ووڈ(عطر بنانےمیں استعمال ہونے والی لکڑی) اور ہمالیائی ریاستوں میں معتدل نٹ(گریدار میوے) کی فصلوں کو فروغ دینے کی بجٹ تجویز پر بھی روشنی ڈالی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی پیداوار پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دیہی روزگار کا باعث بنے گی ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ اگر ہم مل کر اعلیٰ قدر والی زراعت کو بڑھائیں تو یہ زراعت کو عالمی سطح پر مسابقتی شعبے میں تبدیل کر دے گی ۔
وزیر اعظم نے ماہرین، صنعت اور کسانوں کے درمیان ایک متحدہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عالمی معیار اور برانڈنگ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے مقامی کسانوں کو عالمی بازار سے جوڑنے کے لیے واضح اہداف مقرر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ جناب مودی نے کہاکہ ان تمام موضوعات پر گفتگوسے اس ویب نار کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
وزیر اعظم نے ماہی گیری کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے۔ جناب مودی نے مزید بتایا کہ اگرچہ ہمارے مختلف ذخائر اور تالابوں میں تقریباً 4.5 لاکھ ٹن مچھلی پیدا ہوتی ہے، اس میں اضافی 20 لاکھ ٹن پیداوار کی گنجائش موجود ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ماہی گیری برآمدات کے فروغ کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم بن سکتی ہے۔‘
وزیر اعظم نے نیلی معیشت کی صلاحیت کو پورا کرنے کے لیے ہچری، خوراک، اور لاجسٹکس میں نئے کاروباری ماڈلز کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ماہی گیری کے محکمہ اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مضبوط رابطے کی حوصلہ افزائی کی۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ دیہی خوشحالی کے لیے ایک اعلیٰ قدر اور اثر انگیز شعبہ بن سکتا ہے اور آپ کو اس پر مل کر غور کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے اور انڈے کی پیداوار میں دوسرا نمبر رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبے کو مزید ترقی دینے کےلیےافزائش نسل کے معیار، بیماری کی روک تھام اور سائنسی انتظام پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔ جناب مودی نے مزید زور دیتے ہوئے کہاکہ مویشیوں کی صحت ایک اہم موضوع ہے اورجب میں’ایک زمین، ایک صحت‘ کی بات کرتا ہوں تو اس میں مویشیوں کی صحت بھی شامل ہے۔
ویکسین کی پیداوار میں ہندوستان کی خود کفالت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے نیشنل گوکل مشن کے تحت ٹیکنالوجی کی توسیع اور مویشی پروری سے منسلک کسانوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ کی دستیابی کا ذکر کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جانوروں کو پاؤں اور منہ کی بیماری سے بچانے کے لیے 125 کروڑ سے زیادہ خوراکیں پہلے ہی فراہم کرائی جا چکی ہیں ۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مویشی پروری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ بھی شروع کیا گیا ہے ۔
خطرات کو کم کرنے کے لیے وزیر اعظم نے ایک فصل پر انحصار کے بجائے فصلوں کی تنوع کی وکالت کی ۔ انہوں نے خوردنی تیل ، دالوں اور قدرتی کاشتکاری کے مشنوں کو اس شعبے کی طاقت کو بڑھانے کے آلہ کے طور پر پیش کیا ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہاکہ اس لیے ہم فصلوں کی تنوع پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔
وزیر اعظم نے شرکاء کو یاد دلایا کہ چونکہ زراعت ریاست کا موضوع ہے ، اس لیے ریاستوں کو اپنی بجٹ کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ انہوں نےمؤثریت کے لیے ضلعی سطح پر بجٹ سے متعلق تجاویزات کو مضبوط کرنے پر زور دیا ۔
وزیر اعظم نے زراعت میں’ٹیکنالوجی کلچر‘ ، ای- این اے ایم اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے وسیع پیمانے پر بات کی ۔ انہوں نے کسان شناختی کارڈ کی تشکیل اور زمین کے ڈیجٹیل سروے کو تبدیلی لانے والے اقدامات قرار دیا ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ حکومت زراعت میں ’ٹیکنالوجی کلچر’ لانے کےلیے کوشاں ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل سرویز کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی تبھی نتائج دیتی ہے، جب ادارے اور کاروباری افراد اسے مؤثر طریقے سے استعمال کریں۔ انہوں نے اس بات پر تجاویز طلب کی کہ ٹیکنالوجی کو روایتی نظام کے ساتھ کس طرح مؤثر طریقے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس ویب نار سےحاصل ہونے والی تجاویز یہ تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی کہ ہم ٹیکنالوجی کو صحیح طریقے سے کس طرح مربوط کریں۔
وزیر اعظم نے پی ایم آواس یوجنا اور پی ایم گرام سڑک یوجنا جیسے منصوبوں کے ذریعے دیہی خوشحالی کے لیے حکومت کے عزم کو دوہرایا۔ انہوں نے دیہی معیشت پر اپنی مدد آپ گروپوں کے اثرات کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہاکہ ہماری حکومت دیہی علاقوں کو خوشحال بنانے کے لیے عزم ہے۔
وزیر اعظم نے’لکھ پتی دیدی‘ مہم پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ 2029 تک اس طرح کی مزید 3 کروڑ کامیاب خواتین کاروباری بنانے کا ہدف مقرر کیا ۔ انہوں نے مزید تیزی کے ساتھ اس ہدف کو حاصل کرنے کے بارے میں تجاویز طلب کیں ۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ اس ہدف کو اور بھی تیزی سے حاصل کرنے کے بارے میں آپ کی تجاویز اہم ہوں گی ۔
اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بڑے پیمانے پر اسٹوریج مہم اور زرعی فن ٹیک اور سپلائی چین میں اختراع کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا ۔ انہوں نے کاروباریوں پر زور دیا کہ وہ دیہی منظر نامے کو توانائی بخشنے کے لیے ان اہم شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں ۔ وزیر اعظم نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ آج آپ کی بات چیت سے نکلنے والا امرت دیہی معیشت کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔