ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے سکریٹری نے ٹی ای آر آئی کے عالمی پائیدار ترقی سے متعلق سربراہ اجلاس 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا


بھارت کل کی  غریبی کو دور کرنے کیلئے مستقبل میں ماحولیاتی بحران پیدا نہیں کرے گا: جناب تنمے کمار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 FEB 2026 7:52PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت کے سکریٹری جناب  تنمے کمار نے آج نئی دہلی میں ٹی ای آر آئی کے عالمی پائیدار ترقی سے متعلق سربراہ اجلاس (ڈبلیو ایس ڈی ایس) 2026 کے سلور جوبلی ایڈیشن کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اسٹیج پر موجود معزز شخصیات میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی خیرسگالی سفیر محترمہ دیا مرزا، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ محترمہ ازابیل چان، ٹی ای آر آئی کے چیئرمین جناب نتن دیسائی اور ٹی ای آر آئی کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وبھا دھون سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔

اپنے خطاب میں  جناب کمار نے کہا کہ بھارت ترقی کا ایک ایسا ماڈل اختیار کر رہا ہے جو معاشی نمو، غربت کے خاتمے، شہرکاری، صنعتی ترقی اور کاربن کے اخراج میں کمی کو بیک وقت آگے بڑھاتا ہے، جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے ماضی کے زیادہ اخراج والے طریقوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ماحولیاتی بحث تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ترقی، حکمرانی، سلامتی اور انسانی فلاح کا ایک بنیادی چیلنج بن چکی ہے۔

 

 

سکریٹری نے کہا کہ پیرس معاہدے کے پہلے گلوبل اسٹاک ٹیک میں 2030 تک عالمی اخراج میں 43 فیصد کمی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی رجحانات ایک نمایاں خلا ظاہر کرتے ہیں، خصوصاً ترقی یافتہ ممالک کی عدم کارروائی کے سبب۔ جناب کمار نے بتایا کہ 1850 سے 2019 کے درمیان ترقی یافتہ ممالک نے عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً نصف حصہ تعاون کیا، جبکہ بھارت کا تاریخی تعاون نہایت کم رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی 17 فیصد آبادی کا گھر ہے، مگر فی کس اخراج تقریباً دو ٹن سالانہ ہے، جو عالمی اوسط سے کافی کم ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک نے کوئلے پر مبنی ترقی، تیل سے چلنے والی نقل و حرکت اور جنگلات کی کٹائی کے ذریعے صنعتی ترقی کی، وہیں بھارت ابتدا ہی سے صاف ستھری صنعت کاری کی راہ پر گامزن ہے۔

2047 تک “وکست بھارت” کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے، جب بھارت آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا،جناب کمار نے کہا کہ وژن ایک ایسے ترقی یافتہ بھارت کا ہے جو ماضی کی کاربن نقل نہ ہو۔ اس میں ٹرانزٹ پر مبنی شہر، سبز توانائی سے چلنے والی مؤثر صنعتیں، بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی اور ذخیرہ نظام کو مربوط کرنے والا بجلی گرڈ اور مادّی استعمال میں کمی لانے والی سرکلر معیشت شامل ہے۔

برابری اور بین نسلی انصاف پر زور دیتے ہوئے جناب کمار نے کہا کہ بھارت کل کی  غریبی کو دور کرنے کیلئے مستقبل میں ماحولیاتی بحران  پیدا نہیں  کرے گا اور آئندہ نسلوں کے لیے وقار، شمولیت، پیداواریت اور پائیداری کو یقینی بنانے والے ترقیاتی ماڈل پر گامزن رہے گا۔

بھارت کی قابلِ توسیع ماحولیاتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تازہ ترین ایف اے او رپورٹ کے مطابق بھارت جنگلاتی رقبے کے لحاظ سے عالمی سطح پر نویں اور سالانہ خالص جنگلاتی اضافے کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے اسے ترقی کے ساتھ ساتھ مسلسل تحفظ کی کوششوں کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویٹ لینڈ تحفظ میں تیزی سے توسیع ہوئی ہے، اور 2025 میں 11 نئے رامسر مقامات شامل ہونے کے بعد کل تعداد 98 ہو گئی ہے، جو ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔

سکریٹری نے وزارت کی جانب سے حالیہ برسوں میں کیے گئے اہم اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں گرین کریڈٹ پروگرام، ون سنرکشن ایوم سموردھن رولز 2025، ماحولیاتی تحفظ (آلودہ مقامات کے انتظام) ضوابط 2025، ماحولیات آڈٹ قواعد 2025 اور پریوش 2.0 شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات شفاف، مؤثر اور مستقبل پر مبنی ماحولیاتی حکمرانی کے لیے بھارت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ پائیدار معاشی سرگرمی اور جامع ترقی کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

موسمیاتی وعدوں کے حوالے سےجناب کمار نے کہا کہ بھارت 2030 تک جی ڈی پی کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی مقدار میں 45 فیصد کمی کے ہدف کے حصول کی راہ پر گامزن ہے۔ غیر رکازی ایندھن ذرائع سے 50 فیصد مجموعی برقی پیداواری صلاحیت کا نظرثانی شدہ ہدف جون 2025 میں مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنے نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (این ڈی سیز) پر نظرثانی کے عمل میں بھی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سکریٹری نے کہا کہ جہاں ترقی یافتہ دنیا نے “کوئلہ پہلے صنعت کاری” کا ماڈل اپنایا، جس میں فی کس زیادہ اخراج اور خالص جنگلاتی نقصان شامل تھا، وہیں بھارت کا راستہ کم فی کس اخراج، شمسی اور ہوا سے صاف توانائی کی بڑے پیمانے پر توسیع، جنگلات اور درختوں کے رقبے میں اضافہ، اور مشن لائف کے تحت طرزِ زندگی پر مبنی نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔

ٹی ای آر آئی کے ورلڈ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سمٹ کے موقع پر وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ہِم-کنیکٹ کے نام سے ایک خصوصی پلیٹ فارم بھی منعقد کیا، جس کا مقصد ہمالیائی خطے میں کام کرنے والے محققین کو اسٹارٹ اپس، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں سے جوڑنا تھا۔ سمٹ کے دوران ایکٹ 4 ارتھ مینی فیسٹو بھی جاری کیا گیا، جس نے موسمیاتی اقدامات کو تیز کرنے کے لیے اجتماعی عزم کو مزید مضبوط کیا۔

 

 

**********

) ش ح – ع ح-)

U.No. 3375


(ریلیز آئی ڈی: 2235416) وزیٹر کاؤنٹر : 30
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी