سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
جی پی ایس ٹیکنالوجی کار نکوبار میں ماہی گیر برادری کی زندگیوں کو تبدیل کر رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 MAR 2026 2:27PM by PIB Delhi
کار نکوبار میں ماہی گیروں کو فراہم کیے گئے گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس )آلات نے ماہی گیری کو زیادہ مؤثر اور ہدفی بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کے لیے مچھلی کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی ہے۔
اس پیش رفت سے نہ صرف تازہ پروٹین اور ضروری غذائی اجزاء کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کچھ افراد، جیسے ٹیٹوپ گاؤں کے جناب جنید اور چُوچُوچا گاؤں کے جناب عبد الستار، نے خود سے پکڑی ہوئی مچھلیوں کو مقامی منڈیوں میں فروخت کرنا شروع کر دی ہے، جس سے ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
نکوباری برادری کی زندگی اور روزگار روایتی طور پر ماہی گیری سے وابستہ ہے۔ ان کی ماہی گیری کی تکنیکیں تجربے کی بنیاد پر مہارت یافتہ ہیں، لیکن سمندر اور موسم کی غیر متوقع صورتحال اور درست رہنمائی کے آلات کی کمی کی وجہ سے ان کی صلاحیت محدود رہتی تھی۔ اکثر خراب موسم کی وجہ سے کشتیاں راستہ بھٹک جاتی تھیں، جس سے نہ صرف پیداوار میں کمی آتی تھی بلکہ بعض اوقات جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا تھا۔
اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے سینٹرل آئی لینڈ ٹیکنولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے جی پی ایس آلات متعارف کرائے ہیں اور انہیں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایس ای ای ڈی ڈویژن پروگرام کے تحت مقامی سمندری ماحول اور ماہی گیری کے استعمال کے مطابق ڈھال لیا ہے ۔
ماہی گیروں کو جی پی ایس نیویگیشن اور ماہی گیری کی جدید تکنیکوں کی تربیت دی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جی پی ایس آلات کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں ، ماہی گیروں کی ضروریات اور چیلنجوں کا جائزہ لینے اور ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سروے کیے گئے اور قبائلی کونسل کے ذریعے ٹیکنالوجی کو اپنانے کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔
جی پی ایس ٹیکنالوجی کے تعارف نے ماہی گیروں کے لیے مچھلی کے شکار کے مقامات تلاش کرنے کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ اب وہ زیادہ آسانی اور تیزی سے بہترین مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔ان آلات کی مدد سے ان کی مچھلی پکڑنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے جال میں زیادہ مچھلیاں بھرنے لگی ہیں اور ان کے خاندانوں اور وسیع تر برادری کو زیادہ غذائیت سے بھرپور خوراک میسر آ رہی ہے۔
کار نکوبار جزیرے پر ساحلی ماہی گیری کی معلومات کا مرکز قائم کیا گیا ہے ۔ کار نکوبار کے قبائلی ماہی گیروں کو کل 5 جی پی ایس آلات فراہم کیے گئے اور مزید 5 جی پی ایس ماہی گیروں کے مشترکہ استعمال کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔
ان اقدامات کے نتیجے میں روزانہ پکڑی جانے والی مچھلی کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ درست نیویگیشن اور پیداواری ماہی گیری کے مقامات کی مؤثر نشاندہی کی بدولت ماہی گیر اب پہلے کی نسبت کم وقت سمندر میں گزار کر بھی اوسطاً تقریباً 168 فیصد تک زیادہ مچھلی حاصل کر رہے ہیں۔
مچھلیوں کی بڑھتی ہوئی دستیابی نے خاندانوں اور برادری میں غذائیت کی مقدار میں اضافہ کیا ہے ۔ زیادہ آمدنی نے کھانے کے متنوع ذرائع تک بہتر رسائی فراہم کی ہے ، جس سے صحت اور غذائیت میں بہتری آئی ہے ۔
مزید تفصیلات کے لیے ڈاکٹر آر کِروبا شنکر سے rkirubasankar [at] gmail [dot] com پر رابطہ کریں ۔
*************
ش ح ۔ ت ف ۔ ر ب
U. No.3331
(ریلیز آئی ڈی: 2234989)
وزیٹر کاؤنٹر : 66