سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ترواننت پورم میں پدم وبھوشن پرمیشورن یادگاری خطبہ پیش کیا اور ہندوستان کے تہذیبی استحکام سے ٹیکنالوجی لیڈر شپ تک کے سفر کا خاکہ پیش کیا



ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پرمیشورن یادگاری خطبے میں کہا کہ ہندوستان جلد ہی دنیا کی سرفہرست تین معیشتوں میں شامل ہوگا؛ وکست بھارت 2047 اب محض خواب نہیں بلکہ ایک واضح مشن ہے

انہوں نے کہا کہ ‘نازک پانچ’ سے عالمی ترقی کے رہنما تک کا سفر ہندوستان میں ایک دہائی کے اندر آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے؛ عالمی اختراعی اشاریہ میں ملک 81ویں سے38ویں مقام تک پہنچا ہے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق ہندوستان سائنسی اشاعتوں اور زیادہ حوالہ دی جانے والی تحقیق میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے؛ اوشن مشن مستقبل کی ترقی کے لیے گہرے سمندری وسائل کو بروئے کار لانے کی راہ ہموار کرے گا

انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان ہی آزادی کے 100 برس مکمل ہونے پر ہندوستان کی سمت متعین کرے گا



پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 FEB 2026 4:18PM by PIB Delhi

  وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ 2014 میں “نازک پانچ” معیشتوں میں شمار ہونے سے لے کر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کے طور پر ابھرنے تک ہندوستان کا سفر قومی اعتماد، صلاحیت اور سمت میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب مضبوطی کے ساتھ جلد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے اور 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کے حصول کی راہ پر گامزن ہے۔

کوڈیار، تروننت پورم میں “وکست بھارت @2047: قومی تبدیلی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اختراع” کے موضوع پر پی پرمیشورن یادگاری خطبہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس موقع کو  اہم قرار دیا کیونکہ اس  خطبہ کا اہتمام قومی یومِ سائنس کے  موقع پر ہوا۔ اس پروگرام کا اہتمام “بھارتیہ وچار کیندرم” نے معروف مفکر، نظریہ ساز اور سماجی رہنما جناب پی پرمیشورن کی یاد میں کیا تھا۔

اپنے خطاب کا آغاز ہندوستان کے تہذیبی سفر پر غور و فکر سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک قدیم تہذیب ہے جس نے حملوں، نوآبادیاتی اقتدار اور منظم استحصال کا سامنا کیا، لیکن ہر بار نئے اعتماد اور خود اعتمادی کے ساتھ ابھرا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں جمہوریت کی حقیقی روح مزید گہری ہوئی ہے، جس نے انتہائی محروم شہری کو بھی بغیر کسی رکاوٹ کے خواب دیکھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اُس وقت بامعنی بنتی ہے جب غریب ترین گھرانے کی ایک ماں بھی یہ خواب دیکھ سکے کہ اُس کا بچہ سائنس دان، ڈاکٹر یا سول سرونٹ بن سکتا ہے اور اسے یقین ہو کہ نظام اُس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا موقع فراہم کرے گا۔

اختراع کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ2014 میں عالمی اختراعی اشاریہ میں ہندوستان کا  مقام 81واں تھا جو اب بڑھ کر 38ویں مقام تک پہنچ چکا ہے۔ ملک میں اس وقت دو لاکھ سے زائد نوآغاز ادارے (اسٹار ٹ اپ)قائم ہیں جو اکیس لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب 2015 میں “اسٹارٹ اپ انڈیا” کا اعلان کیا گیا تو یہ تصور بہت سوں کے لیے نیا تھا، مگر آج یہ ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان نوآغاز اداروں میں سے تقریباً نصف درجۂ دوم اور درجۂ سوم کے شہروں سے ابھر رہے ہیں، جبکہ قابلِ ذکر تعداد خواتین کی قیادت میں چلنے والے اداروں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق روایتی بیانیہ بدل رہا ہے، کیونکہ آج خواتین سائنس دان اور موجد ملک کے خلائی، سائنسی اور انتظامی شعبوں کی اہم قومی مہمات کی قیادت کر رہی ہیں۔

تحقیقی پیداوار کے بارے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پیٹنٹ درخواستوں کے اندراج میں ہندوستان عالمی سطح پر چھٹے مقام پر ہے، جن میں ساٹھ فیصد سے زائد درخواستیں مقامی ہندوستانیوں کی جانب سے داخل کی گئی ہیں۔ سائنسی اشاعتوں کے اعتبار سے بھی ملک سرفہرست ممالک میں شامل ہے اور زیادہ حوالہ دی جانے والے تحقیقی مقالوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہزاروں ہندوستانی سائنس دان عالمی سطح پر سرفہرست دو فیصد میں شامل ہیں، جو ہندوستانی سائنسی صلاحیت کی عالمی پہچان کا ثبوت ہے۔

خلائی اور جوہری شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ پالیسی اصلاحات نے نجی شعبے کی شمولیت کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی خلائی معیشت میں نمایاں وسعت آئی ہے۔ دفاع اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مقامی صلاحیتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں اور خود کفالت مضبوط ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اوشن مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دنیا میں یہ واحد ملک ہے جس کے نام پر ایک سمندر موسوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وسائل، گہرے سمندر کی معدنیات اور حیاتیاتی تنوع کی تلاش مستقبل میں قومی معیشت میں قدر افزائی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020، اٹل اختراعی مشن، وزیر اعظم مدرا یوجنا، وزیر اعظم وشوکرما یوجنا اور وزیر اعظم سواندھی جیسے پالیسی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جو روایتی سرکاری ملازمت سے آگے مواقع کو وسعت دے رہے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، روایتی دستکاروں کی معاونت اور ریڑھی بانوں و چھوٹے کاروباری افراد کو باعزت اور مستحکم معاشی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اسے “ہندوستان میں رہنے کا بہترین دور” قرار دیتے ہوئے  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نوجوان ہندوستانیوں، بالخصوص بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی ترقی کی داستان سے جڑے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی تجربہ اہمیت رکھتا ہے، مگر آج کا ہندوستان تحقیق، اختراع اور کاروبار کے میدان میں بے مثال مواقع فراہم کر رہا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2047 کا وکست بھارت آج کے نوجوانوں کے ہاتھوں تشکیل پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ صلاحیت سازی کرے، اداروں کو مضبوط بنائے اور ایسا سازگار ماحول قائم کرے کہ جب ہندوستان آزادی کے 100 برس مکمل کرے تو وہ ایک مکمل ترقی یافتہ، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر باوقار قوم کے طور پر ابھرے۔

d1.jpg

مرکزی وزیرڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کے روز ترواننت پورم میں بھارتیہ وچار کیندرم(بی وی کے) کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچویں پی پرمیشورن جی یادگاری خطبے کے دوران “وکست بھارت 2047” کے موضوع پر کلیدی خطبہ دیتے ہوئے۔

d2.jpg

d3.jpg

            ***

ش ح۔م م۔ش ب ن

U-3252                  


(ریلیز آئی ڈی: 2234423) وزیٹر کاؤنٹر : 24