سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
ایم او آر ٹی ایچ نے ’’پی ایم راحت‘‘ — سڑک حادثات کے متاثرین کے لیے بلا رقم علاج — کے سلسلے میں متعلقہ فریقین کو حساس اور بیدار کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 FEB 2026 7:29PM by PIB Delhi
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت(ایم او آر ٹی ایچ) نے معزز وزیر جناب نتن جیرام گڈکری اور وزرائے مملکت جناب اجے تمتا اور جناب ہرش ملہوترا کی صدارت میں ہائبرڈ طریقۂ کار کے تحت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا، جس میں 13-02-2026 کو معزز وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے شروع کی گئی پی ایم راحت (روڈ ایکسیڈنٹ وکٹمز ہاسپٹلائزیشن اینڈ ایشورڈ ٹریٹمنٹ) اسکیم کے ملک گیر ہموار نفاذ کے لیے کیے جا رہے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا مقصد متعلقہ شراکت داروں کے درمیان مجموعی تیاری اور باہمی تال میل کا جائزہ لینا تھا، جس میں ہنگامی ردِعمل کے نظام کا انضمام، پلیٹ فارم پر شمولیت اور سسٹم کی تیاری، نامزد اسپتالوں کے نیٹ ورک کی توسیع اور ان کی تیاری، نیز مؤثر حکمرانی اور شکایات کے ازالے کے فریم ورک کو یقینی بنانا شامل تھا، تاکہ سڑک حادثات کے متاثرین کو بروقت اور مؤثر بلا رقم علاج فراہم کیا جا سکے۔

بھارت میں ہر سال سڑک حادثات کے باعث بڑی تعداد میں اموات ریکارڈ کی جاتی ہیں، جن میں سے متعدد بروقت طبی امداد کے ذریعے روکی جا سکتی ہیں۔ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر متاثرین کو حادثے کے پہلے ایک گھنٹے کے اندر اسپتال پہنچا دیا جائے تو تقریباً 50 فیصد اموات سے بچا جا سکتا ہے۔ایمرجنسی ریسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس) 112 ہیلپ لائن کے ساتھ انضمام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ حادثے کے متاثرین ’’گولڈن آور‘‘ کے اندر اسپتال پہنچ سکیں۔ سڑک حادثے کے متاثرین، راہ ویر (نیک شہری)، یا جائے حادثہ پر موجود کوئی بھی فرد 112 پر کال کرکے قریبی نامزد اسپتال کی تفصیلات اور ایمبولینس کی سہولت حاصل کر سکتا ہے، جس سے ہنگامی خدمات، پولیس حکام اور اسپتالوں کے درمیان فوری رابطہ ممکن ہوتا ہے۔
اس اسکیم کے تحت کسی بھی قسم کی سڑک پر پیش آنے والے حادثے کا ہر اہل متاثرہ فرد، حادثے کی تاریخ سے سات دن کی مدت تک، فی متاثرہ فرد 1.5 لاکھ روپے تک کی کیش لیس طبی سہولت کا حقدار ہوگا۔ غیر جان لیوا معاملات میں 24 گھنٹے تک اور جان لیوا معاملات میں 48 گھنٹے تک استحکامی علاج فراہم کیا جائے گا، بشرطیکہ مربوط ڈیجیٹل نظام پر پولیس کی تصدیق حاصل ہو۔پی ایم راحت ایک مضبوط، ٹیکنالوجی پر مبنی فریم ورک کے تحت نافذ کی جا رہی ہے، جس میں سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کے الیکٹرانک ڈیٹیلڈ ایکسیڈنٹ رپورٹ پلیٹ فارم کو نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے ٹرانزیکشن مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ یہ انضمام حادثے کی رپورٹنگ سے لے کر اسپتال میں داخلے، پولیس تصدیق، علاج کی فراہمی، دعوے کی کارروائی اور حتمی ادائیگی تک مکمل ڈیجیٹل ربط کو یقینی بناتا ہے۔ پولیس کی توثیق مقررہ مدت کے اندر ضروری ہے—غیر جان لیوا معاملات میں 24 گھنٹے اور جان لیوا معاملات میں 48 گھنٹے—تاکہ جوابدہی برقرار رہے اور ہنگامی طبی امداد بلا رکاوٹ جاری رہے۔
اسپتالوں کو ادائیگی موٹر وہیکل ایکسیڈنٹ فنڈ (ایم وی اے ایف) کے ذریعے کی جائے گی۔ اگر قصوروار گاڑی بیمہ شدہ ہو تو ادائیگی جنرل انشورنس کمپنیوں کے تعاون سے کی جائے گی۔ غیر بیمہ شدہ اور ہِٹ اینڈ رن معاملات میں ادائیگی حکومتِ ہند کے بجٹ سے کی جائے گی۔ ریاستی صحت ایجنسی کی جانب سے منظور شدہ دعووں کی ادائیگی 10 دن کے اندر کی جائے گی، جس سے اسپتالوں کو مالی یقین دہانی ملے گی اور علاج کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔
سڑک حادثے کے متاثرین کی شکایات کے ازالے کے لیے ضلع روڈ سیفٹی کمیٹی کے تحت نامزد شکایات ازالہ افسر مقرر ہوگا، جس کی صدارت ضلع کلکٹر / ضلع مجسٹریٹ / ڈپٹی کمشنر کریں گے، تاکہ ضلع سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
***
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 3113 )
(ریلیز آئی ڈی: 2233258)
وزیٹر کاؤنٹر : 12