کامرس اور صنعت کی وزارتہ
کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ممبئی میں‘‘ای وائی انٹرپرینیور آف دی ایئر ایوارڈز’’ پیش کرتے ہوئے یوتھ پاور ، اے آئی اور عالمی تجارت کواجاگر کیا
ہندوستان کی ہنر، ٹکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ ترقی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھائے گی: تجارت اور صنعت کےمرکزی وزیر کابیان
اے ا ٓئی ،ایف ٹی اے اور نوجوانوں کی قیادت وکست بھارت وژن کی کلیدہیں: جنا ب پیوش گوئل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 FEB 2026 10:32PM by PIB Delhi
کامرس اور صنعت کےمرکزی وزیرجناب پیوش گوئل نے آج شام ممبئی میں ای وائی انٹرپرینیور آف دی ایئر ایوارڈز کے 27ویں ایڈیشن میں کلیدی خطاب کیا۔ اس پروگرام میں ملک کے معروف کاروباری رہنما، صنعت کے سرکردہ افراد اور اسٹارٹ اپس کے بانی شریک ہوئے، اس تقریب میں وزیرموصوف نے ایوارڈز تقسیم کیے۔
اجتماع سےخطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت کے نوجوان اور انسانی وسائل قوم کی ترقی کی داستان کے مرکز میں ہیں۔ بانیوں اور کاروباری رہنماؤں سے اپنی بات چیت کی عکاسی کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ جذبہ، جدت اور ہنر مند افرادی قوت بھارت کے سب سے بڑے مسابقتی فوائد ہیں۔ نئی دہلی میں حال ہی میں منعقدہ اے آئی سمٹ کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ عالمی ردعمل نے بھارت کے اختراعی ماحولیاتی نظام اور تکنیکی صلاحیتوں کی گہرائی اور پختگی کو ظاہر کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور روزگار کے حوالے سے خدشات پر جناب گوئل نے کہا کہ اے آئی نوکریوں کو ختم کرنے کے بجائے اسے نوکریوں میں تبدیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہر سال تقریباً 2.3 ملین ایس ٹی ای ایم گریجویٹس تیار کرتا ہے اور نوجوان، قابلِ تطبیق اور پرعزم صلاحیتوں کے بے مثال ذخیرے کا حامل ہے۔وائی2کے دور کے تناظر میں وزیرموصوف نےاے آئی کو اگلا اہم سنگِ میل قرار دیا جو بہتر مواقع، اعلیٰ قیمت والے کام، مضبوط برآمدات اور بھارتی کاروباروں کے لیے عالمی انضمام کو فروغ دے گا، اور سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا پروٹیکشن اور سسٹم گورننس جیسے شعبوں میں ہنر مند پیشہ ور افراد کی مانگ میں اضافہ کرے گا۔
وزیر موصوف نے بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی تجارتی اثر و رسوخ کوبھی اجاگرکیا اورکہا کہ ملک نے 38 ممالک پر محیط 9 آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی ایز) طے کیے ہیں، جو بھارتی کاروباروں کو عالمی تجارت کے تقریباً دو تہائی حصے تک ترجیحی رسائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے بھارتی اشیاء، خدمات، زرعی و ماہی گیری مصنوعات، اور مزدور پر مبنی شعبوں کو نئی منڈیوں تک پہنچانے، عالمی قدر کی زنجیروں میں انضمام اور ہنر کی نقل و حرکت کو فروغ دینے میں مدد فراہم کریں گے۔
جناب پیوش گوئل نے کہا کہ خود کفالت کا مطلب الگ تھلگ ہونا نہیں بلکہ آتم نربھر بھارت مضبوط، قابل اعتماد اور متنوع سپلائی چینز کی تشکیل کے ذریعے عالمی رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کاروباری افراد اور صنعت کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ایم ایس ایم ایز ، کسانوں، برآمد کنندگان اور ماہی گیروں کے لیے عالمی مواقع کو ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں۔ وزیرموصوف نے اس اعتماد کابھی اظہار کیا کہ نوجوان بھارت امرت کال کے دوران 2047 تک ملک کو ایک ترقی یافتہ معیشت بنانے میں قیادت کرے گا۔
ایوارڈز کے فاتحین کو مبارکباد دیتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت کا ترقیاتی سفر مسلسل جاری رہے گا، جس کی قیادت اس کے نوجوان اور کاروباری افرادکریں گے، اور انہوں نے تمام متعلقہ فریقین سے کہا کہ وہ متحد ہو کر وکست بھارت کے وژن کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے کام کریں۔
***
UR-3088
(ش ح۔ش م ۔ ف ر)
(ریلیز آئی ڈی: 2233118)
وزیٹر کاؤنٹر : 4