ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
سی اے کیو ایم نے دلّی-این سی آر میں تعمیراتی اور انہدامی منصوبوں میں دھول کے خاتمے کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی ہدایت جاری کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 7:55PM by PIB Delhi
قومی دارالحکومت خطے (این سی آر) میں تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں (سی اینڈ ڈی) سے پیدا ہونے والی دھول کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے، ہوا کے معیار کے بندوبست سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) نے آج قانونی ہدایت نمبر 97 جاری کی، جس کا مقصد دھول کم کرنے کے اقدامات کو مضبوط بنانا اور خطے میں انہدام کے فضلہ کے انتظام کو مربوط کرنا ہے۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ سی اینڈ ڈی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول علاقے کی فضا میں ذراتی مواد (پی ایم₁₀ اور پی ایم₂.₅) کی بلند سطحوں میں مستقل طور پر اضافہ کررہی ہے۔ موجودہ قانونی ہدایات اور رہنما اصولوں کے باوجود، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ (ایس پی سی بی)، دلّی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) اور کمیشن کی فیلنگ اسکواڈکی جانب سے کی گئی جانچ میں خاص طور پر تعمیراتی مواد اور انہدام کے ملبے کے ہینڈلنگ اور نقل و حمل کے عمل میں تعمیل کے خلا نظر آئے۔
قانونی ہدایت نمبر 97 میں حال ہی میں نوٹیفائی شدہ ماحولیات (تعمیر و انہدام) فضلہ بندوبست سے متعلق ضوابط ، 2025 کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔ یہ قواعد ماحول دوست فضلہ انتظام، سرکلر اکانومی کے اصول، پروڈیوسر کی وسیع ذمہ داری اور مضبوط تعمیل کے میکانزم پر زور دیتے ہیں۔
کمیشن نے نوٹ کیا کہ دلّی-این سی آر کے بڑے شہروں میں وسیع پیمانے پر تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیاں جاری ہیں اور یہ مجموعی پی ایم₁₀ اور پی ایم₂.₅ کی مقدار میں اضافہ کررہی ہیں۔ اس پس منظر میں، میونسپل ادارے اور ترقیاتی اتھارٹیز کو ایسے اقدامات کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا ضروری ہے،جبکہ منصوبے کے پیش قدم ذمہ دار ہیں کہ وہ تعمیر شروع کرنے سے قبل انہدامی فضلہ کو ذمہ داری کے ساتھ منظم کریں، میونسپل اداروں اور اتھارٹیز پر یہ لازم ہے کہ وہ انہدامی فضلہ کے سائنسی انتظام کو یقینی بنانے کے لیے موثر میکانزم قائم کریں۔
اسی کے پیش نظر، دلی-این سی آر کے بڑے شہروں میں (جن میں میونسپل کارپوریشنز بشمول نیو دہلی میونسپل کونسل اور/یا ترقیاتی اتھارٹیز شامل ہیں) انہدامی فضلہ کے مؤثر انتظام کے لیے مضبوط نظام تیار کرنے کے لیے، کمیشن نے درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں:
- دلی-این سی آر کی میونسپل کارپوریشنز / ترقیاتی اتھارٹیز یہ یقینی بنائیں کہ جمع کرنے کے مراکز، عبوری فضلہ اسٹوریج کی سہولیات اور پروسیسنگ کی سہولیات تعمیر و انہدام فضلہ انتظام قواعد، 2025 کے مطابق قائم کی جائیں، اس طرح کہ ان کے دائرہ اختیار میں ہر 5 کلومیٹر × 5 کلومیٹر کے گرڈ میں کم از کم ایک جمع کرنے کا مرکز موجود ہو۔
- متعلقہ شہروں میں بلڈنگ پلان کی منظوری دینے والے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام منصوبوں کے لیے، جن کے پلاٹ کا رقبہ 200 مربع میٹر یا اس سے زیادہ ہو اور تعمیر یا دوبارہ تعمیر سے قبل انہدام لازمی ہو، بلڈنگ پلان کی منظوری دینے سے قبل متوقع انہدامی فضلہ کی مقدار کا اعلامیہ حاصل کیا جائے۔
- میونسپل کارپوریشنز / ترقیاتی اتھارٹیز یہ یقینی بنائیں کہ تمام منصوبوں کے لیے، جن کے پلاٹ کا رقبہ 200 مربع میٹر یا اس سے زیادہ ہو اور جہاں انہدام لازمی ہو، منصوبے کے پیش قدم (پروجیکٹ پروموٹر) تعمیر یا دوبارہ تعمیر شروع کرنے سے قبل اپنا انہدامی فضلہ کسی بھی مقرر شدہ جمع کرنے کے مرکز یا اسٹوریج / پروسیسنگ کی سہولت پر جمع کرائیں اور اس کی رسید حاصل کریں۔
- متعلقہ شہروں میں تمام ادارے جو کمپلیشن سرٹیفکیٹ (سی سی) / اوکیوپیشن سرٹیفکیٹ (او سی) جاری کرنے کے ذمہ دار ہیں، وہ سی سی / او سی جاری کرنے سے قبل پروجیکٹ پروموٹر کی جانب سے جمع کرائے گئے انہدامی فضلہ کی رسید کی تصدیق کریں۔
- میونسپل کارپوریشنز / ترقیاتی اتھارٹیز یہ یقینی بنائیں کہ اپنے دائرہ اختیار میں تعمیراتی و انہدامی فضلہ کی نقل و حمل اور نمٹارہ موجودہ ضوابط کے مطابق ماحول کے لیے ساز گارطریقے سے کی جائے۔
- یہ ہدایات یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
اس کے علاوہ این سی آر کی ریاستی حکومتوں اور این سی ٹی دلّی کی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک مربوط ویب پورٹل قائم کریں، فضلہ جمع کرنے کے مراکز اور اسٹوریج یا پروسیسنگ کی سہولیات کے لیے جیو ٹیگنگ کریں اور تعمیراتی و انہدامی فضلہ کی نقل و حمل کے لیے جی پی ایس ٹریکنگ کا انتظام کریں، تاکہ کمیشنوں کی ہدایات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
***
UR-3042
(ش ح۔ ا ع خ۔ص ج)
(ریلیز آئی ڈی: 2232706)
وزیٹر کاؤنٹر : 24