الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
اے آئی کے اگلے مرحلے میں شمولیت، مواقع اور انسانی صلاحیت کو ترجیح دی جائے گی، جس سےہندوستان اور عالمی صنعت کی نمایاں شخصیات اے آئی پر مبنی مستقبل میں سب سے آگے ہوں گی: ماہرین
وجے شیکھر شرما نے’اے آئی انڈیا‘ انقلاب پر روشنی ڈالی اور مالیات، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں اس کے حقیقی اثرات پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 9:30PM by PIB Delhi
اے آئی سمٹ میں دیے گئے تین اہم خطابوں نے فن ٹیک، تحقیق اور عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے کی نمایاں شخصیات کو ایک ساتھ لاتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ مصنوعی ذہانت کس طرح محض تجربات تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی دنیا میں مالیات، کاروبار اور انسانی صلاحیتوں کے شعبوں میں تبدیلی لا رہی ہے۔

اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے پیٹیم کے بانی اور سی ای او وجے شیکھر شرما نے اس سمٹ کوہندوستان کے لیے ایک فخر کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیے کہ اے آئی سے وابستہ دنیا کی نمایاں شخصیات ہمارے ملک میں جمع ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح اسٹارٹ اپ انڈیا نے کاروباری جذبے کی لہر پیدا کی، اسی طرح اب ملک ’اے آئی انڈیا‘ کے عروج کا گواہ بن رہا ہے۔
جدت سے اثر کی سمت میں آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ’اے آئی اب صرف چیٹ یا فوٹو ایڈیٹنگ تک محدود نہیں ہے، یہ کاروبار، مالیات، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں بھی داخل ہو رہا ہے اور بڑے پیمانے پر حقیقی دنیا کے مسائل کا حل فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالیاتی خدمات کے شعبے میں اے آئی پر مبنی بصیرت قرض تک رسائی کو بڑھا سکتی ہے اور آخر تک بامعنی شمولیت فراہم کر سکتی ہے۔ ’یہ ملازمتوں کم ہونے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ اے آئی پر مبنی خوشحالی سے متعلق ہے اور ہندوستان اس انقلاب کی قیادت کرے گا۔‘

ادارہ جاتی جدت اور جدید تحقیق کے نقطہ نظر سےبرلا اے آئی لیبز کی اننیا برلا نے ایک دوہرا مقصد بیان کیا: صنعت کے اندر عملی اے آئی حل تیار کرنا اور بنیادی تحقیق کو آگے بڑھانا۔ انہوں نے کہاکہہم منظم بنیادی ماڈلز تیار کر رہے ہیں اور ایسی تحقیق کو آگے بڑھا رہے ہیں جو یہ سوال کرے کہ کیا اے آئی واقعی دنیا کے ڈھانچے کو سمجھتا ہے، صرف پیٹرن تک محدود نہیں۔‘انہوں نےاس دوران صنعت کی ذمہ داری پر زور دیا کہ اے آئی کے انسانی ادراک اور صلاحیت پر اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ مائیکروفنانس میں اے آئی کی تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے پورٹ فولیو میں کوئی جگہ ہے جہاں اے آئی سب سے زیادہ مؤثر اور سب سے زیادہ انسانی محسوس ہوتا ہے، وہ ہماری مائیکروفنانس کاروبار ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ آپریشنز میں اے آئی کو شامل کرنے سے پیداوار میں قابل ذکر اضافہ ممکن ہے اور اس سے کم سہولت والے طبقے کے لیے مالی رسائی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

عالمی ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے فوجیتسو کےچیئر مین اور سی ای او تاکاہیتو توکیتا نے اے آئی کو ایک وسیع تر سماجی مشن کے تناظر میں پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ جدت کے ذریعے معاشرے میں اعتماد پیدا کر کے دنیا کو زیادہ پائیدار بنا نا ہمارا اہم مقصد ہے۔انسان مرکزیت والے نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا’’اے آئی کو لوگوں کی جگہ نہیں لینی چاہیے اور نہ ہی انسانی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنا چاہیے؛ اس کا بنیادی کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ منفرد انسانی صلاحیتوں، ہماری تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور پیچیدہ فیصلہ سازی کو بڑھائے۔‘‘
تینوں اہم خطابوں نے مل کر ایک مشترکہ خیال کو مضبوط کیا: اے آئی کا اگلا مرحلہ نہ صرف تکنیکی مہارت سے متعین ہوگا، بلکہ اس کی صلاحیت پر بھی مبنی ہوگا کہ وہ مواقع کو بڑھائے، شمولیت کو گہرا کرے اور انسانی صلاحیت کو مضبوط بنائے، جس سے ہندوستان اور عالمی صنعت کے رہنما اے آئی سے چلنے والے مستقبل میں سب سے آگے ہوں گے۔
****
ش ح۔م ع ن۔ م ش
U. No. 2947
(ریلیز آئی ڈی: 2232046)
وزیٹر کاؤنٹر : 22