امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی سی پی اے نے گمراہ کن اشتہار دینے پر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پر 15 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا


اہم معلومات چھپانا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے

بار بار ہونے والے جرائم پر بھاری سزائیں لاگو ہوتی ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 FEB 2026 5:14PM by PIB Delhi

سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے سول سروسز امتحان (سی ایس ای) 2023 کے حوالے سے گمراہ کن اشتہارات جاری کرنے پر وجی راؤ اینڈ ریڈی انسٹی ٹیوٹ پر پندرہ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق انسٹی ٹیوٹ نے دانستہ طور پر اپنے اشتہارات میں اہم معلومات، یعنی کامیاب امیدواروں کی جانب سے اختیار کیے گئے مخصوص کورسز کی تفصیل، مخفی رکھی۔

انسٹی ٹیوٹ نے 16.04.2024 کو نتائج کے اعلان کے فوراً بعد اپنی سرکاری ویب سائٹ پر یو پی ایس سی سی ایس ای 2023 کے کامیاب امیدواروں کے ناموں اور تصاویر کے ساتھ درج ذیل دعوے شائع کیے:

  • "یو پی ایس سی سی ایس ای 2023 کی 1016 آسامیوں میں سے 645 سے زائد امیدوار وجی راؤ اینڈ ریڈی انسٹی ٹیوٹ سے منتخب"
  • "ٹاپ 10 اے آئی آر میں 6"
  • "ٹاپ 50 اے آئی آر میں 35"
  • "ٹاپ 100 اے آئی آر میں 64"

سی سی پی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر یہ دعوے اسی وقت شائع کیے جب وہ اپنے مختلف کورسز، مثلاً جی ایس/مکمل کورس/فاؤنڈیشن کورس، پری فاؤنڈیشن کورس، ویک اینڈ کورس، اختیاری مضمون کا کورس اور جی ایس پری کم مینز کورس، کی تشہیر کر رہا تھا۔

اس طرزِ پیشکش سے صارفین میں یہ گمراہ کن تاثر پیدا ہوا کہ تمام کامیاب امیدواروں نے انسٹی ٹیوٹ کے انہی باقاعدہ اور مشتہر کردہ کورسز میں داخلہ لیا تھا۔

اہم معلومات کو مخفی رکھنا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے

اشتہار میں "اہم معلومات" کی نوعیت ہر معاملے میں مختلف ہوتی ہے اور اس کا تعین صارف کے نقطۂ نظر سے کیا جانا چاہیے۔ موجودہ صورتِ حال میں کسی کامیاب امیدوار کی جانب سے اختیار کردہ مخصوص کورس ایک یو پی ایس سی امیدوار کے لیے اہم معلومات کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ معلومات انسٹی ٹیوٹ کی فراہم کردہ خدمات کی افادیت، دائرہ کار اور معیار کے بارے میں ممکنہ امیدواروں کے تاثر کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ ایسی معلومات ظاہر نہ کرنے سے یہ گمراہ کن تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کامیاب امیدواروں کو امتحان کے تمام مراحل—ابتدائی، مینز اور انٹرویو—میں انسٹی ٹیوٹ ہی نے مکمل رہنمائی فراہم کی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔

اس طرح دانستہ طور پر معلومات چھپانے سے صارفین کی اس صلاحیت پر منفی اثر پڑتا ہے کہ وہ کس کورس میں داخلہ لیں اور سول سروسز امتحان کی تیاری کے کس مرحلے کے لیے مناسب انتخاب کریں۔ کامیاب امیدواروں کی جانب سے کیے گئے مخصوص کورس یا کورسز کے بارے میں درست اور دیانت دارانہ انکشاف ہی امیدواروں کو باخبر تعلیمی فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ لہٰذا ایسی اہم معلومات کو مخفی رکھنا صارفین کے تحفظ کے قانون 2019 کی دفعہ 2(9) کے تحت صارفین کے حقوق کو دبانے اور ان کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

اندراج کے ریکارڈ میں تضادات

کارروائی کے دوران سی سی پی اے نے انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے کامیاب امیدواروں کے داخلہ فارموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس میں یہ بات سامنے آئی کہ 431 داخلہ فارموں میں اس کورس کی کوئی وضاحت یا ذکر موجود نہیں تھا جس میں طلبہ نے داخلہ لیا تھا۔ مزید برآں، ان فارموں میں یہ تاریخ بھی درج نہیں تھی کہ انہیں کب پُر کیا گیا۔ سی سی پی اے نے یہ تضادات انسٹی ٹیوٹ کے سامنے اٹھائے، تاہم اس سلسلے میں کوئی تسلی بخش وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔ انسٹی ٹیوٹ اپنے دعوؤں کی تائید کے لیے مصدقہ دستاویزی ثبوت، جیسے فیس کی رسیدیں یا دیگر متعلقہ ریکارڈ، پیش کرنے میں بھی ناکام رہا۔ انکشاف کی اس کمی اور معاون دستاویزات کی عدم موجودگی نے اشتہارات میں کیے گئے دعوؤں کی صداقت اور اتھارٹی کے روبرو پیش کردہ ریکارڈ کی معتبریت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

باقی داخلہ فارموں کے جائزے سے، جن میں کورس کے نام درج تھے، یہ مشاہدہ ہوا کہ ان میں سے بڑی تعداد صرف "انٹرویو گائیڈنس پروگرام" یا "فرضی انٹرویو" تک محدود تھی۔ اس طرح انسٹی ٹیوٹ کے اپنے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان امیدواروں نے صرف انٹرویو گائیڈنس پروگرام کے لیے داخلہ لیا تھا، جو یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کے ابتدائی اور مینز مراحل کے بعد منعقد ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے امیدوار ابتدائی اور مینز کے مراحل پہلے ہی اپنی محنت سے کامیابی سے طے کر چکے تھے اور صرف آخری مرحلے میں فرضی انٹرویو یا انٹرویو رہنمائی کے لیے انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہوئے۔ لہٰذا اس نوعیت کے اشتہارات درحقیقت فراہم کی جانے والی خدمات کے دائرۂ کار کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کرتے ہیں۔

خلاف ورزی کا اعادہ

سی سی پی اے نے مزید نوٹ کیا کہ وجی راؤ اینڈ ریڈی انسٹی ٹیوٹ کے خلاف اس سے قبل بھی یو پی ایس سی سی ایس ای 2022 کے نتائج کے حوالے سے گمراہ کن اشتہارات شائع کرنے پر کارروائی کی جا چکی ہے، جس میں اس پر سات لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ سابقہ ریگولیٹری مداخلت اور تنبیہ کے باوجود انسٹی ٹیوٹ نے بعد کے اشتہارات میں بھی اسی نوعیت کے دعوے جاری رکھے، جو مناسب احتیاط اور ضابطہ جاتی تعمیل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ خلاف ورزی کے بار بار ہونے کے پیشِ نظر موجودہ معاملے کو بعد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں صارفین کے تحفظ کے مفاد میں زیادہ جرمانہ عائد کرنا ضروری سمجھا گیا۔

اتھارٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ہر سال تقریباً 11,00,000 امیدوار یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کے لیے درخواست دیتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے اشتہارات ایک بہت بڑے ہدفی حلقے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ صارفین مسابقتی امتحانات کی تیاری میں اپنا قیمتی وقت، محنت اور مالی وسائل صرف کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اشتہارات میں جان بوجھ کر معلومات کو مخفی رکھنا طلبہ اور والدین کو نتائج اور کوچنگ خدمات کی افادیت کے بارے میں غیر حقیقی توقعات دے کر گمراہ کرتا ہے۔

اب تک سی سی پی اے گمراہ کن اشتہارات اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف مختلف کوچنگ اداروں کو 57 نوٹس جاری کر چکا ہے۔ اسی طرح کے گمراہ کن دعووں کو بند کرنے کی ہدایات کے ساتھ 29 کوچنگ اداروں پر مجموعی طور پر 1,24,60,000 روپے جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام کوچنگ ادارے اپنے اشتہارات میں مادی معلومات کا سچا، شفاف اور مکمل انکشاف یقینی بنائیں تاکہ طلبہ منصفانہ اور باخبر تعلیمی فیصلے کر سکیں۔

(حتمی حکم سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے): https://doca.gov.in/ccpa/orders-advisories.php?page_no=1)

***

UR-2922

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2231851) وزیٹر کاؤنٹر : 18
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Malayalam