صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
بھارت نے اعضاءکے عطیہ اور پیوند کاری کے شعبے میں تاریخی پیش رفت درج کی ہے، جس میں نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) مرکزی کردار ادا کر رہی ہے
ملک میں اعضا ءکی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2013 میں یہ تعداد 5 ہزار سے بھی کم تھی جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے، یعنی اس میں چار گنا اضافہ درج کیا گیا ہے
فی الحال ہونے والی کل پیوند کاری میں سے تقریباً 18 فیصد ایسی ہیں جن میں مرحوم عطیہ دہندگان سے اعضاء حاصل کیے گئے ہیں
17 ستمبر 2023 سے آدھار پر مبنی تصدیقی نظام کے ذریعے اب تک 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد شہری موت کے بعد اعضاء اور ٹشو کے عطیے کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں
بھارت ہاتھوں کی پیوندکاری (ہینڈ ٹرانسپلانٹ) کے میدان میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میںسب سے زیادہ ہاتھ کی پیوند کاری (ہینڈ ٹرانسپلانٹ)انجام دے رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 FEB 2026 8:49PM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ‘من کی بات’ کے اپنے پروگرام میں اعضاء عطیہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ملک میں اعضاءکے عطیہ کی تحریک کو نئی رفتار عطا کی ہے۔
بھارت نے اعضاء کے عطیہ اور پیوندکاری کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) کی قیادت میں ملک بھر میں اعضا کے عطیے، مختص کئے جانے اور پیوند کاری کے شعبے میں غیر معمولی پیش رفت درج کی گئی ہے۔ 2013 میں جہاں ملک میں اعضاء کی پیوند کاری کی تعداد 5 ہزار سے بھی کم تھی، وہیں یہ تعداد 2025 میں بڑھ کر تقریباً 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جو چار گنا اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت تقریباً 18 فیصد پیوندکاریاں ایسے اعضاء سے کی جا رہی ہیں جو مرحوم عطیہ دہندگان سے حاصل کیے گئے ہیں۔
سال 2025 میں 1200 سے زائد کنبوں نے اپنے پیاروں کے انتقال کے بعد ان کے اعضاء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے ہزاروں زندگیاں بچائی گئیں اور بے شمار مریضوں کی زندگی کا معیار بہتر ہوا۔ اب ہر عطیہ دہندہ کثیر الاعضا (ملٹی آرگن) ڈونر بن کر متعدد افراد کی زندگی بدل رہا ہے۔ 17 ستمبر 2023 سے آدھار پر مبنی تصدیقی نظام کے تحت 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد شہری موت کے بعد اعضاء اور ٹشوس کے عطیے کے لیے رجسٹر کئے جا چکے ہیں۔
بھارت نے دل، پھیپھڑوں اور لبلبہ (پینکریاس) جیسے پیچیدہ اعضا کی پیوندکاری میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ مزید یہ کہ، بھارت ہاتھوں کی پیوندکاری میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہاتھوں کی پیوند کاری (ہینڈ ٹرانسپلانٹس) انجام دے رہا ہے۔ یہ شاندار حصولیابیاں حکومتِ ہند کی مضبوط اور مسلسل پالیسی حمایت کا نتیجہ ہیں، جس نے وژن کو عملی اور جان بچانے والے نتائج میں تبدیل کیا ہے۔بھارت کے اعضاء کی پیوند کاری کرنے والے ماہرین اور سرجنز دنیا کے بہترین ماہرین کے برابر نتائج حاصل کر رہے ہیں، اور وہ بھی نسبتاً کم لاگت پر۔
گزشتہ ایک سال کے دوران مرحوم عطیہ دہندگان کی تعداد میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، بہتر ٹرانسپلانٹ کوآرڈی نیشن، اور قومی سطح پر اعضا کی مؤثر تقسیم کاری کے نظام نے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو بروقت اور منصفانہ بنیاد پر زندگی بچانے والی سہولت فراہم کی ہے۔
نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) کی مضبوط کارکردگی اس بات کی عکاس ہے کہ بھارت ایک ذمہ دار، اخلاقی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ٹرانسپلانٹ نظام (اعضاء کی پیوند کاری کے نظام)کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
سرکاری حکمتِ عملی کے مثبت نتائج نمایاں
حالیہ کامیابیاں حکومت کی جامع اور کثیرجہتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں، جن میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:
نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) کو قومی رابطے کے ادارے کے طور پر مزید مضبوط بنانے سے بروقت (ریئل ٹائم) میں اعضا کی منصفانہ تقسیم اور بین ریاستی تعاون کو فروغ حاصل ہوا۔
* نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ رجسٹری کی توسیع اور جدید کاری کی گئی، تاکہ شفافیت، پتہ لگانے اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
* ریاستی آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشنز (ایس او ٹیٹی اوز) اور علاقائی او ٹی ٹی اوز (آر او ٹی ٹی اوز) کی مرکوزصلاحیت سازی میں اضافہ اور تربیت۔
* ٹرانسپلانٹ کے طریقۂ کار اور معیاری عملی ضوابط (ایس او پیز) کو عالمی بہترین روایات کے مطابق ہم آہنگ کرنا اور مؤثر بنانا۔
* عطیہ دہندگان اور مریضوں کے رجسٹریشن اور اسپتالوں کے باہمی ربط کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں اضافہ۔
* گرین کوریڈورز کے فروغ اور مختلف ذرائعٔ نقل و حمل کے لیے معیاری عملی ضوابط کے نفاذ کے ذریعے شہروں اور ریاستوں کے درمیان اعضاء کی تیز اور محفوظ منتقلی کو یقینی بنانا۔
ان اصلاحات کے نتیجے میں لاجسٹک رکاوٹوں میں نمایاں کمی آئی ہے، طبی نتائج میں بہتری ہوئی ہے اور اعضا عطیہ کے نظام پر عوامی اعتماد بھی مزید مضبوط ہوا ہے۔
عوام پر مرکوز، جان بچانے والی تحریک
اعضا عطیہ سے متعلق عوامی بیداری مہم، کمیونٹی کی شمولیت اور مسلسل ترغیبی اقدامات نے معاشرتی رویّوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ کنبے شدید غم کے لمحات میں بھی زندگی کا تحفہ دینے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں اور اپنے نقصان کو بے شمار مریضوں کے لیے امید میں بدل رہے ہیں۔نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) سرکاری اداروں، تعلیمی و سماجی تنظیموں اور دیگر ادارہ جات میں اعضاء اور ٹشوس کے عطیے کے کلچر کو فروغ دینے کی اپیل کرتا ہے۔ این او ٹی ٹی او ہر خاندان کے لیے کثیر الاعضا عطیے (ملٹی آرگن ڈونیشن) کو ایک حق کے طور پر اجاگر کر رہا ہے۔ اس کے تعلق سے بیداری سے متعلق رسائی میں پنچایتی راج اداروں اور ضلع و بلاک سطح کی انتظامیہ کی سرگرم شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اب اسپتال اور نظام اس قابل ہو چکے ہیں کہ عطیہ شدہ اعضاء کو مؤثر طریقے سے قبول کریں، اور انتظار میں موجود مریضوں تک ان کی منصفانہ و بروقت تقسیم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ استفادے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) اور اس کے علاقائی و ریاستی ادارے نوجوانوں اور طلبہ، خصوصاً اسکولی بچوں سے رابطہ کر کے انہیں اس نیک مقصد میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ملک بھر کے شہریوں اور نوجوانوں کی جانب سے اعضاء عطیہ جیسے بے لوث عمل کی بھرپور حمایت دراصل ہم وطنوں کے غم اور تکلیف کم کرنے کے لیے یکجہتی کا مظہر ہے۔
ملک بھر کے صحت کے اداروں نے بھی سنجیدگی اور نئے عزم کے ساتھ مثبت ردعمل دیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈونر کی شناخت، اعضاء کے حصول اور پیوندکاری کے عمل میں زیادہ مؤثریت دیکھنے میں آئی ہے۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں، ٹرانسپلانٹ اسپتالوں، معالجین اور سول سوسائٹی کے درمیان باہمی تعاون نے ایک مضبوط، منظم اور ہمدردانہ نظام تشکیل دیا ہے۔
خود انحصاری اور منصفانہ ٹرانسپلانٹ نظام کی جانب پیش رفت
نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) کی قیادت میں حاصل ہونے والی پیش رفت صحت عامہ میں بھارت کے جدید خود انحصاری کے وژن کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ اس سے بیرونِ ملک ٹرانسپلانٹس پر انحصار کم ہو رہا ہے اور ملک کے اندر ہی اخلاقی، شفاف اور منصفانہ طریقۂ کار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
آج بھارت اس بات کی عالمی مثال بن کر ابھر رہا ہے کہ مضبوط حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی شمولیت سے کس طرح مل کر ہزاروں جانیں بچا ئی جاسکتی ہیں۔
آگے کا سفر
حکومت اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مرحوم عطیہ دہندگان کی شرح میں مزید اضافہ، پسماندہ علاقوں میں ٹرانسپلانٹ بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ڈیجیٹل انضمام اور قومی سطح پر رابطہ کاری کو مزید مستحکم بنانے کے تئیں پرعزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری کو مسلسل فروغ دے کر اعضاء کے عطیے کو ایک قومی تحریک کی شکل دینے کی کوشش جاری رہے گی۔
نیشنل آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (این او ٹی ٹی او ) کی حالیہ حصولیابیاں محض ایک ادارہ جاتی کارنامہ نہیں ہیں بلکہ یہ بھارت کے اس اجتماعی عزم کا بھی ثبوت ہیں کہ انسانی جان، وقار اور ہمدردی کو صحت عامہ کی پالیسی کے مرکز کے طور پر رکھا جائے۔
***
ش ح۔ش م۔م ق ا
U- 2880
(ریلیز آئی ڈی: 2231672)
وزیٹر کاؤنٹر : 9