امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
چھتیس گڑھ کے رائے پور میں صارفین کے تحفظ سے متعلق علاقائی ورکشاپ کا افتتاح
محکمہ امورِ صارفین اور حکومتِ چھتیس گڑھ نے مشترکہ طور پر صارفین کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک علاقائی ورکشاپ کا انعقاد کیا
دو روزہ علاقائی ورکشاپ میں ڈیجیٹل تبدیلی، مقدمات کے تیز رفتار تصفیے، احکامات کے مؤثر نفاذ اور صارفین کو درپیش نئے چیلنجز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے
ای۔جاگرِتی اور نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن کو ٹیکنالوجی پر مبنی صارف تحفظ کے اہم ستونوں کے طور پر اجاگر کیا گیا
اس ورکشاپ میں بہار، چھتیس گڑھ، گوا، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ بہترین عملی اقدامات کا تبادلہ کیا جا سکے اور صارفین کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے
ورکشاپ میں سماعتوں کے التوا کو کم کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ’’ڈارک پیٹرنز‘‘ جیسے گمراہ کن طریقہ کار سے نمٹنے پر بھی زور دیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 FEB 2026 5:50PM by PIB Delhi
محکمہ امورِ صارفین، حکومتِ ہند نے حکومتِ چھتیس گڑھ کے اشتراک سے 21 اور 22 فروری 2026 کو رائے پور، چھتیس گڑھ میں صارفین کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے موضوع پر دو روزہ علاقائی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ نے ٹیکنالوجی کے استعمال، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ اور بین الریاستی تعاون کے ذریعے صارفین کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کی توثیق کی۔
ورکشاپ کا افتتاح عزت مآب دیال داس باگھیل، وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین، حکومتِ چھتیس گڑھ کی موجودگی میں ہوا۔ اس موقع پر جسٹس اے پی ساہی، صدر، قومی صارف تنازعات ازالہ کمیشن؛ جسٹس گوتم چوردیا، صدر، ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشن، چھتیس گڑھ؛ ندھی کھرے، سکریٹری، محکمہ امورِ صارفین، حکومتِ ہند؛ اور رینا بابا صاحب کانگلے، سکریٹری، محکمہ امورِ صارفین، حکومتِ چھتیس گڑھ بھی موجود تھیں۔

اپنے خطاب میں دیال داس باگھیل، وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین، حکومتِ چھتیس گڑھ نے صارفین کے حقوق کو مضبوط بنانے کے لیے بڑھتے ہوئے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ای فائلنگ، ای سماعت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال جیسے اہم اصلاحاتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ صارفین کو تیز رفتار، قابلِ رسائی اور کم خرچ انصاف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ای کامرس میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں، بالخصوص ڈارک پیٹرنز اور صارف کمیشنوں کے احکامات کے مؤثر نفاذ کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں ندھی کھرے، سکریٹری، محکمہ امورِ صارفین، حکومتِ ہند نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ صارفین کی شکایات کا جلد اور بغیر کسی پیچیدگی کے ازالہ یقینی بنایا جائے اور ان پر مالی بوجھ کم سے کم ہو۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن (این سی ایچ) ایک مؤثر قبل از مقدمہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں دعویٰ کی رقم نسبتاً کم ہو اور صارفین کمیشن سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ 25.04.2025 سے 31 جنوری 2026 تک 31 شعبوں میں این سی ایچ کے ذریعے صارفین کو 52 کروڑ روپے سے زائد کی رقم واپس دلائی جا چکی ہے، جو بروقت اور ٹھوس ریلیف فراہم کرنے میں اس نظام کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔
سکریٹری نے مقررہ مدت کے اندر مقدمات کے تصفیے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور صارف کمیشنوں میں مکمل ڈیجیٹل مقدمہ جاتی نظم و نسق کے لیے ای۔جاگرِتی پلیٹ فارم کے نفاذ کا ذکر کیا، جس سے شفافیت، کارکردگی اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے شکایات کے ازالے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بھی نشاندہی کی، جس کے ذریعے ذہین ڈیٹا تجزیہ، نظامی مسائل کی بروقت نشاندہی اور ای کامرس میں ڈارک پیٹرنز جیسے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی شناخت ممکن ہو رہی ہے۔
انہوں نے صارف کمیشنوں کے احکامات پر عمل درآمد میں درپیش چیلنجوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ این سی ایچ کے ذریعے قبل از مقدمہ نظام کو مضبوط بنانا، جسے ای۔جاگرِتی اور مصنوعی ذہانت سے حاصل شدہ تجزیاتی معلومات کی معاونت حاصل ہو، زیر التوا مقدمات میں نمایاں کمی لائے گا اور تیز تر، ٹیکنالوجی پر مبنی اور صارف دوست انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

اپنے کلیدی خطاب میں جسٹس اے پی ساہی، صدر، قومی صارف تنازعات ازالہ کمیشن نے بھارت میں صارفین کے تحفظ کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے تحت بروقت اور مؤثر ازالہ جاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلسل صلاحیت سازی، ای فائلنگ اور ورچوئل سماعتوں جیسے تکنیکی انضمام، اور قومی، ریاستی و ضلعی کمیشنوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ ڈیجیٹل صارفین کے مسائل اور منڈی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ جسٹس ساہی نے اس امر پر زور دیا کہ صارفین کے لیے قابلِ رسائی انصاف بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس کے لیے باقاعدہ کارکردگی جائزے، خالی آسامیوں کی بروقت تکمیل اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو بطور معاون ذریعہ اختیار کیا جائے، نہ کہ عدالتی صوابدید کے متبادل کے طور پر، تاکہ صارفین کو بااختیار بنایا جا سکے اور شکایات کا تیز رفتار تصفیہ ممکن ہو۔
ورکشاپ میں دو روز کے دوران صارفین کے تحفظ کے اہم عملی اور ابھرتے ہوئے پہلوؤں پر مشتمل چھ موضوعاتی تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے:
- تکنیکی اجلاس اول: ای۔جاگرِتی، ای فائلنگ، ای سماعت اور مصنوعی ذہانت کا استعمال
- تکنیکی اجلاس دوم: شکایت کی منظوری کا طریقہ کار
- تکنیکی اجلاس سوم: ڈیجیٹل اور ای کامرس چیلنجز — آن لائن پلیٹ فارمز میں ڈارک پیٹرنز
- تکنیکی اجلاس چہارم: عمل درآمد کی درخواستوں کا تیز اور مؤثر تصفیہ
- تکنیکی اجلاس پنجم: صارف تحفظ ایکٹ 2019 میں ضروری ترامیم پر غور و فکر
- تکنیکی اجلاس ششم: مقدمات کے تصفیے کے لیے صارف کمیشنوں میں طریقہ کار کی یکسانیت کا دائرہ کار
اسی کے ساتھ قانونی میٹرولوجی سے متعلق ایک متوازی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ای۔ماپ، جن وشواس بل اور ضابطہ کاری میں نرمی جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
ورکشاپ میں قومی صارف تنازعات ازالہ کمیشن کے معزز اراکین، ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشنوں کے صدور، اراکین اور رجسٹرار، مختلف ریاستوں کے ضلعی صارف تنازعات ازالہ کمیشنوں کے نمائندگان، شریک ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران، این آئی سی کے نمائندگان، محکمہ امورِ صارفین کے افسران اور رضاکارانہ صارف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بہار، چھتیس گڑھ، گوا، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور جھارکھنڈ سے آئے معزز مندوبین نے مباحثوں میں فعال حصہ لیا اور صارفین کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بہترین عملی اقدامات کا تبادلہ کیا۔


دو روزہ کانفرنس میں جسٹس سودیپ اہلووالیہ، رکن، قومی صارف تنازعات ازالہ کمیشن؛ اے وی ایم جے راجندر (ریٹائرڈ)، رکن، قومی صارف تنازعات ازالہ کمیشن؛ بی کے گوسوامی، صدر، جھارکھنڈ ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشن؛ جسٹس سنیتا یادو، صدر، مدھیہ پردیش ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشن؛ ورشا بالے، قائم مقام صدر، گوا ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشن؛ اور دلیپ موہاپاترا، قائم مقام صدر، اڈیشہ ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشن کی معزز شرکت رہی۔
محکمہ امورِ صارفین، حکومتِ ہند ملک بھر میں صارف مقدمات کے نتائج کی نگرانی اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل ہدفی اقدامات کر رہا ہے۔ جون 2022 سے محکمہ مختلف خطوں میں علاقائی ورکشاپس اور ریاستی سطح کی مشاورتی نشستیں منعقد کر رہا ہے تاکہ زیر التوا مقدمات کا منظم جائزہ لیا جا سکے، بہترین عملی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے اور صارفین کی شکایات کے ازالے کے نظام کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے قابلِ عمل حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
محکمہ امورِ صارفین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ریاستوں کو ایک مؤثر، قابلِ رسائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی صارف انصاف کے نظام کی تشکیل میں مسلسل تعاون فراہم کرتا رہے گا تاکہ ملک بھر میں صارفین کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 2859 )
(ریلیز آئی ڈی: 2231340)
وزیٹر کاؤنٹر : 7