صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود، جناب جگت پرکاش نڈا نے آج ہماچل پردیش میں واقع سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں اندرونِ ملک تیار کردہ ٹیٹنس اور بالغ افراد کے لیے ڈپتھیریا(ٹی ڈی)ویکسین کا آغاز کیا
انہوں نے اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی ویکسین کا آغاز ملک کے عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے
مرکزی وزیرِ صحت نے کہا کہ اندرونِ ملک تیار کردہ ٹی ڈی ویکسین سے صحت کے شعبے میں خود کفالت کے حکومت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے
صحت کے مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ بھارت نے 99 فیصد ویکسین کوریج حاصل کر کے صحت عامہ میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے
ٹی ڈی ویکسین کے باضابطہ آغاز کے ساتھ ، سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اپریل 2026 تک سب کے لیے ٹیکہ کاری پروگرام کی خاطر 55 لاکھ ڈوز فراہم کرے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 FEB 2026 1:53PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود، جناب جگت پرکاش نڈّانے آج ہماچل پردیش کےسینٹر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں اندر ون ملک تیار کردہ ٹیٹنس اور بالغ افراد کے لیے ڈپتھیریا( ٹی ڈی)ویکسین کا باضابطہ طور پر آغاز کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی آر آئی)، کسولی کے سائنسدانوں، تکنیکی ماہرین اور عملے کو مبارکباد دی اور ٹیٹنس اور بالغ افراد کے لیے ڈپتھیریا (ٹی ڈی) ویکسین کے آغاز کو ایک تاریخی اور اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آغاز سے صحت سے متعلق قومی سلامتی اور بھارت کے عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

وزیرموصوف نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے صحت اور دواسازی کے شعبوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے واضح اہداف مقرر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندرونِ ملک تیار کردہ ٹی ڈی ویکسین کا آغاز صحت اور دوائی کے شعبے میں "آتم نربھر بھارت" کے وژن کی جانب ایک ٹھوس قدم کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹی ڈی ویکسین کے باضابطہ آغاز کے ساتھ، یہ ویکسین اب یونیورسل امیونائزیشن پروگرام (یو آئی پی) کے تحت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیرموصوف نے بتایا کہ سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اپریل 2026 تک یو آئی پی کو 55 لاکھ ڈوز فراہم کرے گا، اور آئندہ برسوں میں پیداوار بتدریج بڑھانے کی توقع ہے تاکہ بھارت حکومت کے یونیورسل امیونائزیشن پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

وزیرموصوف نے بھارت کی عالمی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو وسیع پیمانے پر’’دنیا کی فارمیسی‘‘ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ دنیا کے سرکردہ ویکسین تیار کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے ریگولیٹری سسٹمز کے عالمی بینچ مارکنگ میں میچورٹی لیول 3 حاصل کیا ہے، جو اس کے ویکسین ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جیسے اداروں نے ان معیارات کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مرکزی وزیر صحت نے یاد دلایا کہ تاریخی طور پر ویکسین اور ادویات کی ترقی کے لیے طویل وقت درکار ہوتا تھا—عالمی سطح پر ٹیٹنس ویکسین کی تیاری میں دہائیاں لگیں، تپ دق کی دوائیوں کے ارتقاء میں تقریباً 30 سال لگے، اور جاپانی انسفیلائٹس ویکسین کی تیاری میں تقریباً ایک صدی کی سائنسی محنت درکار رہی۔ اس کے برعکس، کووڈ-19 وبا کے دوران بھارت نے نو ماہ کے اندر دو مقامی ویکسین تیار کیں اور 220 کروڑ سے زائدڈوزز، بشمول بوسٹرڈوز، لگائیں۔ انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ کووڈ-19 ویکسینیشن کے سرٹیفیکیٹس ڈیجیٹل طور پر فراہم کیے گئے، جو عوامی صحت کی ترسیل میں بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی واضح مثال ہے۔

بھارت کی عالمی یکجہتی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ ویکسین مایتری اقدام کے تحت بھارت نے تقریباً 100 ممالک کو ویکسین فراہم کیں، جن میں سے 48 ممالک کو ویکسین مفت فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سی آر آئی جیسے سرکاری اداروں کی شراکت نے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنایا تاکہ وہ ملکی اور عالمی ضروریات دونوں کو پورا کر سکے۔
جناب نڈا نے زور دیا کہ سی آر آئی وہ پہلا سرکاری ادارہ ہے جو گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز (جی ایم پی)کے معیار کے تحت ویکسین تیار کرتا ہے، جو سرکاری شعبے کے ویکسین بنانے والے یونٹس کی جدید کاری اور تجدید کی عکاسی کرتا ہے۔
یونیورسل امیونائزیشن پروگرام(یو آئی پی)کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ویکسینیشن پروگرام ہے۔ یو آئی پی اس وقت 11 ویکسین فراہم کرتا ہے جو 12 ویکسین سے بچائی جانے والی بیماریوں سے تحفظ دیتی ہیں، جن میں سی آر آئی نے نمایاں تعاون دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال تقریباً 2 سے 2.5 کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں خواتین حاملہ ہوتی ہیں۔ حمل کی رجسٹریشن کے وقت سے مستفید افراد کو یو-وِن جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ٹریک کیا جاتا ہے۔ حکومت یہ یقینی بناتی ہے کہ حاملہ خواتین زچگی سے پہلے کی پانچ جانچ کرائیں، جس میں کم از کم ایک ماہر ڈاکٹر کے ذریعہ کیا جانا شامل ہے۔ ویکسینیشن اور ٹریکنگ کا عمل بچے کی 16 سال کی عمر تک جاری رہتا ہے، اور اس پروگرام کے تحت 27 ڈوز دی جاتی ہیں۔

وزیرموصوف نے بتایا کہ سالانہ ویکسینیشن گروپ میں تقریباً 5 کروڑ مستفید افراد شامل ہیں، جن میں تقریباً 2.5 کروڑ حاملہ خواتین اور 2.5 کروڑ بچے شامل ہیں۔ منظم ٹریکنگ اور مسلسل ویکسینیشن کی کوششوں کی بدولت ملک میں ویکسین کوریج تقریباً 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کے عوامی صحت کے منظرنامے میں ایک انقلابی تبدیلی قرار دیا، جس میں سی آر آئی جیسے اداروں کا کلیدی کردار ہے۔
آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا سرکاری مدد پر مبنی صحت کا پروگرام ہے، جس سے 62 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت 70 سال سے زائد عمر کے تمام شہری، سماجی یا اقتصادی معیار سے قطع نظر، ہر سال 5 لاکھ روپے تک صحت کی سہولیات کے لیے اہل ہیں۔

وزیر موصوف نے ادارہ جاتی اقدامات میں بہتری کو بھی اجاگر کیا، جو 79 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جس سے ملک بھر میں حاملہ خواتین کی صحت کی خدمات کی مضبوطی اور صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کی پالیسی اقدامات اور ادارہ جاتی مضبوطی ظاہر کرتی ہیں کہ مستقل حکومتی کوششیں کس طرح عوامی صحت کے نتائج کو تبدیل کر سکتی ہیں اور قومی صحت کی سلامتی کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔

اس موقع پر وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر حکام، ریاستی صحت کے محکموں کے نمائندگان، ڈاکٹر ڈِمپل کسانہ، ڈائریکٹر، سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کسولی، عوامی صحت کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقین موجود تھے۔
پس منظر
اس پس منظر میں، عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے 2006 میں تجویز دی کہ ممالک ٹیٹنس ٹوکسوئڈ (ٹی ٹی) ویکسین سے ٹی ڈی ویکسین کی طرف منتقلی کریں۔ یہ سفارش ڈبلیو ایچ اوکے ٹیٹنس ویکسین پوزیشن پیپر (2017) اور 2002 و 2016 میں سٹریٹجک ایڈوائزری گروپ آف ایکسپرٹس (ایس اے جی ای)کی مشاورت کے ذریعے دوبارہ دہرائی گئی۔
نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن(این ٹی اے جی آئی)، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے بھی بھارت کے امیونائزیشن پروگرام میں تمام عمر کے گروپوں، بشمول حاملہ خواتین کے لیے، ٹی ٹی ویکسین کو ٹی ڈی ویکسین سے تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد ٹیٹنس کے ساتھ ساتھ ڈپتھیریا کے خلاف تحفظ کو بڑھانا اور مضبوط کرنا ہے، جبکہ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں میں ٹیٹنس کے خاتمے اور معمول کی ویکسینیشن کی سرگرمیوں میں حاصل شدہ فوائد کو برقرار رکھا جائے۔
اس اقدام میں مدد کے لیے، سی آر آئی نے ٹی ڈی ویکسین کی تیاری کا آغاز کیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے ترقیاتی مطالعے کامیابی سے مکمل کیے، ٹیسٹ لائسنس حاصل کیا، پری کلینیکل اسٹڈیز اور فیز I، II، III کلینیکل ٹرائلز کے لیے رعایات حاصل کیں، مارکیٹنگ کی اجازت اور تیاری و فروخت کا لائسنس حاصل کیا، تجارتی پیداوار کا آغاز کیا اور سینٹرل ڈرگز لیبارٹری، کسولی سے ریلیز حاصل کی۔
***********
(ش ح –اع خ ۔ ر ا)
U.No:2845
(ریلیز آئی ڈی: 2231218)
وزیٹر کاؤنٹر : 11