ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
سی اے کیو ایم کی جانب سے دہلی-این سی آر میں صنعتوں کے لیے ذراتی مادّہ کے اخراج کے سخت تر معیارات نافذ کرنے سے متعلق قانونی ہدایات جاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 FEB 2026 1:51PM by PIB Delhi
نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) میں صنعتی اخراج پر مزید مؤثر کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے، کمیشن برائے فضائی معیار انتظام این سی آر و ملحقہ علاقہ جات (سی اے کیو ایم) نے ہفتہ کے روز قانونی ہدایت نمبر 98 جاری کرتے ہوئے دہلی۔این سی آر میں منتخب صنعتوں کے لیے معلق ذرّات کے اخراج کی یکساں اور مزید سخت حد 50 ملی گرام فی نارمل مکعب میٹر مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
کمیشن نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی سفارشات، جو کہ بھارتی ادارۂ ٹیکنالوجی کانپور کی تحقیق اور سی پی سی بی کی تشکیل کردہ تکنیکی کمیٹی کی رپورٹوں پر مبنی ہیں، پر غور کرتے ہوئے یہ رائے قائم کی ہے کہ 50 ملی گرام فی نارمل مکعب میٹر کی حد تکنیکی طور پر قابلِ حصول اور ماحولیاتی طور پر ناگزیر ہے۔ نظرثانی شدہ معیار سے صنعتی اخراج میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی علاقوں کے قرب و جوار میں رہنے والے افراد کو فائدہ پہنچے گا اور پورے خطے کے فضائی معیار میں بہتری آئے گی۔
کمیشن نے درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں:
اوّل: مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے نشان زدہ انتہائی آلودگی پھیلانے والی 17 صنعتوں کی اقسام، لال زمرے کی درمیانی اور بڑی فضائی آلودگی پیدا کرنے والی صنعتیں، خوراک اور خوراک سازی کے یونٹ، بھٹیوں یا حرارتی سیال گرم کرنے والے آلات رکھنے والی ٹیکسٹائل صنعتیں، اور دہلی۔این سی آر میں کام کرنے والی دھاتی صنعتیں جن میں بھٹیاں چل رہی ہوں—ان سب کے لیے معلق ذرّات کے اخراج کی زیادہ سے زیادہ حد 50 ملی گرام فی نارمل مکعب میٹر ہوگی۔
یہ معیار اُن صنعتی یونٹوں پر لاگو نہیں ہوگا جن کے لیے کسی منظور شدہ اجازت، ہدایت یا قانونی ضابطے کے تحت 50 ملی گرام فی نارمل مکعب میٹر سے کم حد پہلے ہی مقرر کی جا چکی ہو۔
دوّم: نظرثانی شدہ اخراجی معیار درج ذیل شیڈول کے مطابق نافذ ہوگا:
الف) بڑی اور درمیانی صنعتوں کے لیے یکم اگست 2026 سے،
ب) باقی صنعتوں کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے۔
صنعتی چمنیوں سے خارج ہونے والا دھواں دہلی۔این سی آر میں معلق ذرّات کی بلند سطح کا ایک اہم سبب ہے اور یہ ثانوی ذرّات کی تشکیل کا باعث بھی بنتا ہے، جس سے خطے کے فضائی معیار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ کمیشن نے اپنے قیام سے اب تک متعدد ہدفی اقدامات کیے ہیں، جن میں صاف ایندھن کی لازمی منتقلی، حیاتیاتی ایندھن اور دیگر ایندھن پر چلنے والی بھٹیوں اور فرنسز کے لیے اخراجی معیارات کا تعین، اور منظور شدہ ایندھن کی فہرستوں کا اجرا شامل ہے۔
اس پس منظر میں این سی آر کی متعلقہ ریاستی حکومتوں، قومی دارالحکومت علاقہ دہلی کی حکومت، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان کے آلودگی کنٹرول بورڈز، اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس قانونی حکم نامے پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، خصوصاً نظرثانی شدہ اخراجی معیار پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کی پابندی کرائیں۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ آگاہی اور شعور بیداری کے لیے بھرپور معلوماتی، تعلیمی اور ابلاغی سرگرمیاں انجام دیں تاکہ متعلقہ فریقین کو حساس بنایا جا سکے اور عوام میں آگاہی پھیلائی جا سکے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2841
(ریلیز آئی ڈی: 2231198)
وزیٹر کاؤنٹر : 9