الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
اے آئی کوڈ سے آگے: بنیادی ڈھانچہ، رسائی اور عالمی اعتماد مستقبل کے راستے کی تشکیل کر رہے ہیں
اے آئی سمٹ میں طاقت، پالیسی اور عوام کو اگلے ٹیکنالوجی انقلاب کی کلید قرار دیا گیا
جمہوری رسائی کے فروغ کے لیے رہنماؤں کی کوششوں کے ساتھ 2027 کا اے آئی سمٹ جنیوا میں منعقد ہوگا
اے آئی کی جمہوریت کاری اور انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر زور: رہنماؤں نے آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا
ذمہ دار اور قابل توسیع اے آئی کے نئے دور میں بھارت کی قیادت کا اہم لمحہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 6:39PM by PIB Delhi
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں کلیدی خطابات کے ایک نئے سلسلے میں مصنوعی ذہانت کی بنیادوں، حکمرانی اور عالمی سطح پر اس کے پھیلاؤ پر توجہ مرکوز کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اے آئی کی کامیابی اور امکانات کا انحصار جتنا الگورتھم پر ہے، اتنا ہی بنیادی ڈھانچے اور باہمی تعاون پر بھی ہے۔
اے آئی کے مادی ڈھانچے کے تناظر کو واضح کرتے ہوئے گیورڈانو البرٹازی، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ورٹیو نے زور دیا کہ اے آئی پر گفتگو صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا: ”جب ہم اے آئی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ڈیٹا سینٹر، یعنی اس مادی حصے کی بھی بات کرنی چاہیے جو دراصل اے آئی کو ممکن بناتا ہے۔“ انہوں نے ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا: ”اگر اے آئی دماغ ہے تو انفراسٹرکچر جسم ہے۔ ہر چیز کو ہم آہنگ، باہمی تعاون کے قابل اور ایک مربوط نظام کے طور پر انجینئر کیا جانا چاہیے تاکہ اس رفتار، پیمانے اور کثافت کی ضروریات پوری کی جا سکیں جن کا اے آئی اب تقاضا کرتا ہے۔“ ان کے بیانات نے توانائی، کولنگ اور مربوط نظاموں کے اس کلیدی کردار کو اجاگر کیا جو اے آئی کی تیز رفتار اور بڑھتی ہوئی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
عالمی تعاون کے تناظر میں مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے، تھامس شنائیڈر، سفیر اور نائب ڈائریکٹر، فیڈرل آفس آف کمیونیکیشنز(او ایف سی او ایم) نے اعلان کیا کہ اگلا اے آئی سمٹ 2027 میں جنیوا میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے کہا: ”ہماری تحریک محض ایک نمائشی تقریب منعقد کرنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے میں بامعنی کردار ادا کرنا ہے کہ انسانیت اے آئی کی بے مثال اور انقلابی صلاحیت کو بھلائی کے لیے استعمال کرے، نقصان کے لیے نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کو ”تمام لوگوں کے معیار زندگی کو بڑھانا چاہیے—کم نہیں کرنا چاہیے“ جس سے انسانی وقار، امن اور عملی کثیر جہتی تعاون کے لیے عزم کو مضبوط کیا جا سکے۔
عالمی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کے تناظر میں، میتھیو پرنس، چیف ایگزیکٹو آفیسر، کلاؤڈ فلیئر نے اے آئی تک جمہوری رسائی کی وکالت کی۔ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”جیسے پرنٹنگ پریس جرمنی میں شروع ہوا لیکن جلد ہی بغیر کسی مرکزی کنٹرول کے پورے یورپ میں پھیل گیا، اسی طرح اے آئی کو بھی چند کمپنیوں یا ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔“ انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کو تخلیق کاروں، چھوٹے کاروباروں اور متنوع ثقافتوں کو با اختیار بنانا چاہیے، نہ کہ انہیں ایک جیسا بنانا چاہیے۔“ اے آئی کو ہماری انسانیت کو ختم نہیں کرنا چاہیے؛ اسے تیز تر اور بہتر بنانا چاہیے۔ یہ ٹیکنالوجی سب کے لیے قابل رسائی ہونی چاہیے، صرف امیر افراد تک محدود نہیں۔“
اختتامی حصے میں، مارکس ویلنبرگ، چیئرمین ایس ای بی اور ایس اے اے بی نے بھارت کے قیادتی لمحے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس سمٹ کے انعقاد کے ذریعے بھارت نے ”قومی عزم اور صنعتی ہم آہنگی“ کا مظاہرہ کیا، جو اس کی سابقہ انقلابی پہل کاریوں کے پس منظر میں بھی نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا: ”جیسے جیسے اے آئی مختلف صنعتوں میں پھیلتی جائے گی، یہ نہ صرف مسابقت میں اضافہ کرے گی بلکہ بالکل نئے کاروباری ماڈل اور سماجی نتائج کو بھی ممکن بنائے گی۔“ انہوں نے عالمی سطح پر اے آئی کو وسعت دینے کے لیے بھارت کے وسیع ٹیلنٹ بیس اور مضبوط آئی ٹی ماحولیاتی نظام کو کلیدی برتری قرار دیا۔
مجموعی طور پر خطابات نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا اگلا باب صرف ماڈلوں میں جدت سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ مضبوط انفراسٹرکچر، شمولیتی حکمرانی، کھلی رسائی اور سرحد پار تعاون سے تشکیل پائے گا، تاکہ اے آئی کی انقلابی طاقت پائیدار بھی ہو اور وسیع پیمانے پر سب کے ساتھ شیئر کی جا سکے۔
*********
ش ح۔ ف ش ع
U: 2814
(ریلیز آئی ڈی: 2230968)
وزیٹر کاؤنٹر : 8