مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تروپتی کا فضلہ رجحان ساز(ٹرینڈ سیٹر) بن گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 4:51PM by PIB Delhi

سوچھ بھارت مشن۔اربن 2.0 کے تحت، تروپتی میونسپل کارپوریشن نے اپنے جامع اَپ سائیکلنگ اقدام کے ذریعے سرکلر معیشت کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے، جہاں فضلہ اپنے انجام کو نہیں پہنچتا بلکہ ایک نئی شروعات اختیار کرتا ہے۔ “سوچھ عادات سے سوچھ بھارت” کے اصول سے رہنمائی لیتے ہوئے یہ اقدام صفائی، سماجی ہمدردی اور تخلیقی جدت کو یکجا کر کے ایک صاف، سرسبز اور پائیدار شہر کی تشکیل کی جانب گامزن ہے۔

اس منصوبے کا مرکزی تصور اَپ سائیکلنگ ہے—یعنی استعمال شدہ مواد کو لینڈ فل کی نذر کرنے کے بجائے اسے زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات میں تبدیل کرنا۔ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تروپتی میں خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ اَپ سائیکلنگ ڈراپ باکسز نصب کیے گئے، جو مستقل آر آر آر مراکز سے مربوط ہیں۔

ان ڈراپ باکسز میں پرانی کتابوں، ملبوسات اور جوتوں کے لیے علیحدہ خانے مختص کیے گئے ہیں، جس سے سو فیصد ماخذی سطح پر علیحدگی ممکن ہو سکی ہے۔ یہ دانشمندانہ ڈیزائن ثانوی چھانٹی کی ضرورت کو ختم کرتا ہے، مواد کے معیار کو برقرار رکھتا ہے اور شہریوں کے لیے ذمہ دارانہ انداز میں اشیا جمع کروانا نہایت آسان بنا دیتا ہے۔ رہائشی فلاحی انجمنوں (آر ڈبلیو اے)، اپارٹمنٹ کمپلیکسز اور گیٹڈ کمیونٹیز میں حکمتِ عملی کے تحت نصب یہ ڈراپ باکسز زیادہ مقدار اور بہتر معیار کی قابلِ استعمال اشیا کے حصول کو یقینی بناتے ہیں۔ ہفتہ وار باقاعدہ شیڈول کے تحت مخصوص گاڑیوں کے ذریعے یہ مواد آر آر آر مراکز تک منتقل کیا جاتا ہے۔

آر آر آر مراکز میں اشیا کو قابلِ استعمال اور ناقابلِ استعمال زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بہتر حالت میں موجود کپڑے اور جوتے اولڈ ایج ہومز، یتیم خانوں، بے گھر افراد اور معاشی طور پر کمزور طبقات میں تقسیم کیے جاتے ہیں، جب کہ کتابیں سرکاری و میونسپل اسکولوں میں کتب خانوں کے قیام اور مطالعے کے فروغ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، یوں انہیں بامعنی دوسری زندگی ملتی ہے۔

ناقص یا خراب مواد کو بھی ضائع نہیں کیا جاتا۔ استعمال شدہ کپڑے سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی )کے سپرد کیے جاتے ہیں، جہاں ٹیکسٹائل کی وزارت اور ٹیکسٹائل کمیٹی، ممبئی کی معاونت سے تربیت یافتہ خواتین انہیں بیگز اور ڈورمیٹس جیسی ماحول دوست مصنوعات میں تبدیل کرتی ہیں، جس سے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ جوتوں کو یا تو مقامی سطح پر مرمت کر کے دوبارہ تقسیم کیا جاتا ہے یا بنگلورو میں قائم اَپ سائیکلنگ یونٹس کو ری سائیکلنگ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

ایس ایچ جیز کے ذریعے تیار کردہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں 275 ڈورمیٹس، 1,025 فٹ میٹس، 2,500 کپڑے کے تھیلے اور تقریباً نصف ٹن گاڑیوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا شامل ہے۔ یہ مصنوعات کھلی منڈی میں کامیابی سے فروخت کی جا چکی ہیں، جس سے ایک طرف روزگار کو تقویت ملی ہے اور دوسری جانب پائیدار فضلہ انتظام کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ اسی سلسلے میں پرانی کتابوں کو میونسپل اسکولوں کے کتب خانوں کو مستحکم بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نئی نسل میں علم و مطالعے کی ثقافت کو فروغ مل رہا ہے۔ ضائع شدہ جوتوں کو مجاز فیکٹریوں میں منتقل کر کے انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے، یوں فضلہ کو معاشی قدر میں تبدیل کر کے وسائل کی مؤثر کارکردگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

عوامی سطح پر پُرجوش شرکت کے نتیجے میں اس اقدام نے لینڈ فل میں جانے والے فضلے کو نمایاں طور پر کم کیا ہے، سماجی بہبود کو مضبوط بنایا ہے، سیلف ہیلپ گروپس کو بااختیار کیا ہے اور شہریوں میں ماحولیاتی ذمہ داری کے شعور کو فروغ دیا ہے۔ اس جامع اور بصیرت افروز حکمتِ عملی کے ذریعے تروپتی مسلسل ایک کچرا سے پاک شہر کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، اور یہ ثابت کر رہا ہے کہ جب صاف ستھری عادات طرزِ زندگی کا حصہ بن جائیں تو شہر صرف کچرے کا انتظام نہیں کرتے بلکہ اسے نئی قدر اور نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔

***

UR-2796

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2230880) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu