کامرس اور صنعت کی وزارتہ
1.91 لاکھ کروڑ روپے لاگت والی پیداوار سے متعلق ترغیبی اسکیم نے 14 اہم شعبوں میں صنعت کی مضبوط شمولیت کو فروغ دیا
پی ایل آئی اسکیم کا مقصد ہندوستان کے مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنا اور مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 12:13PM by PIB Delhi
پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) کے تحت 1.91 لاکھ کروڑ روپے کاترغیبی بجٹ مختص کیاگیا ہے، جو ہندوستان کے پیداوار شعبے کی بنیاد کو مضبوط بنانے کے مقصد سے شروع کی گئی ایک اہم اصلاحی پہل ہے۔ 14 اہم شعبوں میں 836 درخواستوں کی منظوری کے ساتھ یہ اسکیم صنعت کے مضبوط اعتماد اور اس کے وسیع استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ آغاز سے ہی پی ایل آئی اسکیم کو صنعت مسلسل اپنا رہی ہے اور مینوفیکچرنگ صلاحیت میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔
مورخہ31 دسمبر 2025 تک اسکیم کے تحت مجموعی کارکردگی درج ذیل ہے:
- منظور شدہ درخواستیں: 14 شعبوں میں 836 درخواستیں
- سرمایہ کاری: مجموعی سرمایہ کاری 2.16 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ
- پیداوار / فروخت: مجموعی فروخت 20.41 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ
- برآمدات: مجموعی برآمدات 8.3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ
- روزگار: براہ راست اور بالواسطہ 14.39 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے
- ترغیبی رقم کی ادائیگی: 31 دسمبر 2025 تک 28,748 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے
یہ نتائج ہدف شدہ شعبوں میں سرمایہ کاری کے پھیلاؤ، پیداوار میں توسیع، برآمدات کی نمو اور روزگار پیدا کرنے میں مسلسل ترقی کا عندیہ دیتے ہیں۔
اہم شعبوں میں اسکیم کے مثبت اثرات کاخلاصہ:
الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی ہارڈویئر
پی ایل آئی اسکیم نے ہندوستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا ہے، جس سے ملک موبائل فونز اور آئی ٹی ہارڈویئر مصنوعات جیسے لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، سرورز اور آل-ان-ون پرسنل کمپیوٹرز کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ مالی سال 21-2020 سے موبائل فون کی درآمدات میں تقریباً 77 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ ملک میں مانگ کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ اب مقامی پیداوار کے ذریعے پورا ہو رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ کا دائرہ اسمبلی سے آگے بڑھ کر پرنٹڈ سرکٹ بورڈ اسمبلیز، بیٹریز، کیمرہ اور ڈسپلے ماڈیولز، اینکلوژرز اور دیگر اہم سب اسمبلیز تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی ویلیو چین کے ساتھ مضبوط انضمام ممکن ہوا ہے۔ آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے ملکی پیداوار کی صلاحیت میں بھی توسیع ہوئی ہے اور اجزاء کے بتدریج مقامی ہونے سے درآمدات پر انحصار کم ہوا ہے۔
فارماسوٹیکل اور میڈیکل ڈیوائسز
اس اسکیم کے تحت 191 تھوک دواؤں کی پہلی بار ملکی پیداوار ممکن ہوئی ہے، جس سے تقریباً 1,785 کروڑ روپے کی درآمدات کی تبدیلی ہوئی اور ملکی قیمت میں اضافہ 83.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ بایوسیمیلرز، مونوکلونل اینٹی باڈیز اور نئے کیمیکل اینٹٹیز کی مقامی ترقی نے دوا کی برآمدات اور سپلائی چین کی مضبوطی میں اضافہ کیا ہے۔ امیجنگ سسٹمز، امپلانٹس اور تشخیصی آلات جیسی میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی پیداوار سے عالمی معیار کے مطابق معیار کے نظام اپنانے کے باعث درآمدات پر انحصار کم ہوا ہے۔
آٹوموبائل اور ایڈوانسڈ آٹوموٹو ٹیکنالوجی
اس اسکیم نے الیکٹرک موبلٹی، پاور الیکٹرانکس اور ایڈوانسڈ سیفٹی سسٹمز میں سرمایہ کاری کو تیز کیا ہے۔ مالی سال 26-2025میں 32,879 کروڑ روپے کی فروخت ٹیکنالوجی پر مبنی آٹوموٹو مینوفیکچرنگ اور سپلائر ایکو سسٹم کی ترقی میں ابتدائی رفتار کی عکاسی کرتی ہے۔
ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات
ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات کی فروخت بنیادی سال (مالی سال 20-2019) کے مقابلے میں چھ گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جبکہ برآمدات بڑھ کر 21,033 کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ ایک اہم کامیابیبی ایس این ایل کے ذریعے ہندوستان کی مقامی اینڈ ٹو اینڈ 4جی ٹیکنالوجی کا نفاذ ہے، جس سے ہندوستان ان چند ممالک کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے، جن کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔
ڈبہ بند خوراک
پی ایل آئی نے منظور شدہ منصوبوں میں 9,200 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا ہے۔ اے آر بی بی ایم مصالحہ پروسیسنگ سسٹمز، ٹیٹرا ریکارٹ پیکیجنگ اور خودکار سمندری خوراک کی پروسیسنگ آلات جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے اپنانے سے کارکردگی، معیار اور برآمدات کی تیاری میں اضافہ ہوا ہے۔
گھریلو آلات – ایئر کنڈیشنرز اور ایل ای ڈی لائٹس
کمپریسرز، موٹرز، کاپر ٹیوبز اور ایل ای ڈی ڈرائیورز جیسے اہم اجزاء کی ملکی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔29-2028 تک ملکی قیمت میں اضافہ 80-75فیصد تک کرنے کا ہدف ہے، جس سے اجزاء کے ایکو سسٹم کو مضبوطی ملے گی۔
ٹیکسٹائل – ایم ایم ایف اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل
اس اسکیم نے اعلیٰ قیمت والا انسان ساختہ ریشہ اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مصنوعات کی طرف منتقلی کو فروغ دیا ہے اور پی ایم مترا پارکس کے انضمام سے بڑے پیمانے پر پیداوار اور بہتر لاجسٹکس ممکن ہوئے ہیں۔
اعلیٰ کارکردگی والے شمسی پی وی ماڈیولز
اس اسکیم کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت 48 گیگاواٹ کی مکمل طور پر مربوط سولر پی وی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں تقریباً 52,942 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ذمہ داریاں شامل ہیں، جس سے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں درآمدات پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔
ہندوستان کا پیداوار کا ماحولیاتی نظام پہلے نسبتاً زیادہ درآمدات پر انحصار کر رہا تھا، لیکن اب پی ایل آئی اسکیم کے تعاون سے ملکی صلاحیتوں میں بتدریج مضبوطی آ رہی ہے۔ مسلسل سرمایہ کاری، پیداوار کی صلاحیت میں توسیع، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حمایت سے یہ اسکیم مینوفیکچرنگ کے مقابلہ کو بڑھانے کے لیے ایک اہم پالیسی آلہ کے طور پر ابھری ہے۔
اہم شعبوں کی حمایت، ٹیکنالوجی اپنانے کی ترغیب اور ملکی سپلائی چینز کو مضبوط کرنے کے ذریعے پی ایل آئی اسکیم بہتر مقامی پیداوار، عالمی ویلیو چینز کے ساتھ بہتر انضمام اور ہندوستان کے پیداواریت کی بنیادکے طویل مدتی مضبوطی میں کردار ادا کر رہی ہے۔
پیداوار سے متعلق ترغیبی اسکیم(پی ایل آئی) کو 2020 میں ہندوستان کے مینوفیکچرنگ بیس کو مضبوط بنانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے، عالمی مقابلہ میں اضافہ کرنے اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ایک اہم اصلاحاتی پہل کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ یہ اسکیم کارکردگی سے منسلک مالیاتی ترغیبوں کے ذریعے پیداوار میں اضافے کو فروغ دیتی ہے، جس سے پیداوار کا دائرہ بڑھانے، ٹیکنالوجی اپنانے اور سپلائی چین کے انضمام کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
پی ایل آئی فریم ورک نے روایتی ان پٹ پر مبنی ترغیبات سے ہٹ کر نتائج پر مبنی حمایت کی طرف ایک انقلابی تبدیلی کی، جس میں ترغیبات براہِ راست ہندوستان میں تیار شدہ اشیاء کی مقررہ بنیادی سال میں فروخت میں اضافے سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر کارکردگی، شفافیت اور بہتر صنعتی نتائج کو یقینی بناتا ہے، جبکہ کمپنیوں کو صلاحیت بڑھانے، ملکی قدر میں اضافہ کرنے اور پیداواریت بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
****
(ش ح۔م ع ن۔خ م)
U- 2776
(ریلیز آئی ڈی: 2230704)
وزیٹر کاؤنٹر : 11