زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
شیوراج سنگھ چوہان کی “روزانہ ایک پودا” لگانے کے عہد کی مہم کو پانچ سال مکمل، ماحول کے لیے سازگار گرین مہم کا یہ عہد قومی عوامی تحریک کی جانب گامزن ہے
وزارت زراعت ، آئی سی اے آر ، زرعی یونیورسٹیوں ، کے وی کے اور محکمہ دیہی ترقی کے تمام پروگراموں کا آغاز اب شجرکاری سے کیا جائےگا:جناب شیوراج سنگھ چوہان
استقبالیہ تحفے کے طور پر یادگاری اشیاء دینے کے بجائے درخت لگانے اوراس کی تصویر شیئر کرنے کی گزارش کی جاتی ہے: جناب شیوراج سنگھ
ٹری بینک اور‘ انکور’ جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے ملک بھر میں ایک بڑی مہم کا خاکہ: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 FEB 2026 8:36PM by PIB Delhi
زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے آج نئی دہلی کے اے.پی.شندے ہال میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران اپنے ’’روزانہ ایک پودا‘‘ کے عہدے کے پانچ سال مکمل ہونے کا اعلان کیا۔اس پروگرام نے ان کے ذاتی عہد کو قومی سطح کی ’’سبز‘‘ عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کی جانب ٹھوس اقدامات کی بنیاد رکھ دی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ہدایت دی کہ ان کے تمام محکموں کے پروگراموں کا آغاز شجرکاری سے کیا جائے۔انہوں نے اپیل کی کہ استقبالیہ مواقع پر یادگاری تحائف دینے کے بجائے لگائے گئے پودوں کی تصاویر پیش کی جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے ’’درخت بینک‘‘ اور ’’انکور‘‘ جیسے تصورات پیش کیے تاکہ ملک گیر سطح پر شجرکاری کی منظم اور مؤثر مہم چلائی جا سکے۔
اس موقع پر سادھوی دیدی ماں رِتمبھرا، ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر انیل جوشی، زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل(آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم۔ ایل۔ جاٹ، محترمہ سادھنا سنگھ، سینئر صحافی اشوتوش جھا اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔تقریب کے آغاز میں تمام مہمانوں نے پُوسا کیمپس کے احاطے میں شجرکاری کی۔
نرمدا یاترا سے ’’انکور مہم‘‘ تک: سبز پس منظر
شیوراج سنگھ چوہان نے پروگرام کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد کسی ایک دن کے جذباتی جذبے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ برسوں میں پروان چڑھنے والے ایک ماحولیاتی وژن کا ثمرہ ہے۔ سن 2017 میں اُن کی قیادت میں نکالی گئی تاریخی نرمندا سیوا یاترا کے اختتام پر مدھیہ پردیش میں 6 کروڑ سے زائد پودے لگائے گئے، جس نے دریا، جنگلات اور ماحول کے تحفظ کو ایک عوامی تحریک میں بدل دیا۔اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’انکور مہم‘‘ شروع کی گئی، جس میں شہریوں کو ایک پودا لگانے، اس کی تصویر یا سیلفی پورٹل پر اپ لوڈ کرنے اور اس کی حفاظت کا عہد لینے کی ترغیب دی گئی۔ اس مہم کے تحت تقریباً ایک کروڑ پودے لگائے گئے اور معاشرے کے مختلف طبقات ماحول کے لیے سازگار اس گرین سفر میں شریک ہوئے۔وقت کے ساتھ یہ پہل مدھیہ پردیش سے نکل کر قومی اور بین الاقوامی سطح تک پھیل گئی۔ سالگرہ، شادی کی سالگرہ اور دیگر خصوصی مواقع پر لوگوں نے درخت لگا کر اس سفر کو اپنی ذاتی خوشی اور جشن کا حصہ بنا لیا۔
ہر پروگرام کا آغاز شجرکاری سے
شیوراج سنگھ چوہان نے اسٹیج سے اعلان کیا کہ:
• وزارتِ زراعت کے تمام پروگراموں کا آغاز اب شجرکاری سے کیا جائے گا۔
• آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’آئی سی اے آر کے تحت ہر پروگرام، سیمینار، کانفرنس اور تقریب کا آغاز درخت لگانے کے بعد ہی ہوگا۔‘‘
• زرعی یونیورسٹیوں کی اسناد تقسیم کی تقریبات میں سب سے پہلے درخت لگائے جائیں گے اور طلبہ سے یہ عہد لیا جائے گا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں ہر سال اپنی سالگرہ پر ایک پودا ضرور لگائیں گے۔
• کرشی وگیان کیندر، زرعی کالجوں اور تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق ہر تقریب کا آغاز بھی شجرکاری سے کیا جائے گا۔
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ جب محکمۂ زراعت ہر پروگرام کا آغاز درخت لگا کر کرے گا تو اس طرح فطری طور پر بڑی تعداد میں پودے لگائے جائیں گے، اور اس سے بہتر کوئی اور آغاز نہیں ہو سکتا۔
اب یادگاری تحائف نہیں، ’’درخت لگائیں اور تصویر بھیجیں‘‘:اعزاز کی نئی روایت
شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے بارے میں ایک اہم ذاتی فیصلہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنے استقبال میں پھولوں کے گلدستے، ہار، شال یا یادگاری تحائف قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اعزاز شخصیت سے زیادہ عہدے کو دیا جاتا ہے، اور جب عہدہ ختم ہو جاتا ہے تو وہی ہجوم بھی غائب ہو جاتا ہے، اس لیے اس وہم سے باہر آنا ضروری ہے۔
اگر کوئی ادارہ یا فرد ان کا استقبال کرنا چاہے تو پانچ سو روپے کی یادگار دینے کے بجائے پانچ پودے لگائے اور ان کی تصویر بطور تحفہ پیش کرے،یہی ان کے لیے حقیقی اعزاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کپڑے کی شال یا ہار بعد میں کسی کام نہیں آتے، جبکہ اسی رقم سے لگایا گیا درخت آنے والی نسلوں کے لیے زندگی بخش ورثہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ ان کی وزارت اور دیگر منتظمین بھی یادگاری تحائف کے بجائے درخت لگا کر تصویر پیش کرنے کی روایت اپنائیں۔
ٹری بینک اور ’’انکور‘‘ پلیٹ فارم: قرارداد سے عظیم مہم تک کا خاکہ
مرکزی وزیر نے ’’ٹری بینک‘‘ کا تصور پیش کیا، جس کے تحت عطیہ دہندگان یا ادارے بڑی تعداد میں پودے خریدنے کے لیے مالی تعاون دے سکیں گے۔ ایک مخصوص ادارہ گڑھے کھودنے، پودے لگانے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری لے گا، تاکہ وہ افراد بھی عطیہ کے ذریعے شجرکاری میں حصہ لے سکیں جن کے پاس وقت نہیں ہے۔
انہوں نے ایک قومی پلیٹ فارم بنانے کی تجویز بھی دی، جس کا نام ’’سمبھاونہ‘‘ یا ’’انکور‘‘ رکھا جا سکتا ہے، جہاں شہری اپنی سالگرہ، شادی کی سالگرہ، بچوں کی سالگرہ، یا عزیزوں کی پیدائش و وفات کی برسی کے موقع پر پودا لگانے یا لگوانے کے لیے رجسٹریشن کرا سکیں۔ میٹرو شہروں میں رہنے والے افراد ایک مقررہ رقم (مثلاً 100 تا 150 روپے) ادا کر کے اپنے نام سے درخت لگوا سکیں گے، اور بدلے میں انہیں اس درخت کی تصویر اور مقام کی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عطیہ دہندگان کی کمی نہیں، کمی صرف منظم نظام اور عملی ہاتھوں کی ہے؛ اگر یہ نظام قائم ہو جائے تو ’’روزانہ ایک پودا‘‘ جیسی قرارداد ایک عظیم قومی مہم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
عوامی شمولیت کے لیے مس کال نظام کی تجویز
انہوں نے تجویز پیش کی کہ مہم میں شامل ہونے کے خواہش مند شہریوں کے لیے ایک مس کال نمبر مقرر کیا جائے۔ جو بھی اس نمبر پر مس کال دے یا پیغام بھیجے، اسے بعد میں خصوصی پروگراموں، اجتماعی شجرکاری اور تربیتی سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے، تاکہ یہ تحریک مجبوری سے نہیں بلکہ رضاکارانہ جذبے اور ترغیب سے آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح معذور افراد، بچوں اور دیگر طبقات کی خدمت عبادت ہے، اسی طرح درخت لگانا بھی خدمت ہے ،بلکہ پوری دنیا کی خدمت ہے، کیونکہ درخت کا مطلب آکسیجن، جانوروں کے لیے پناہ، بارش اور دریاؤں کا وجود، اور پوری حیاتاتی چین کا تحفظ ہے۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان :ذاتی عہد سےبڑے پیمانے پر عوامی شرکت کی مہم تک
آخر میں شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ بھارت کی 140 سے 144 کروڑ کی آبادی کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر ان میں سے صرف 2 سے 5 کروڑ افراد بھی شجرکاری کی تحریک سے جڑ جائیں تو کروڑوں درخت لگائے جا سکتے ہیں اور بھارت دنیا کے لیے رہنما بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زندگی کے کتنے دن باقی ہیں یہ کسی کے اختیار میں نہیں، لیکن باقی سانسوں کو ایک بہتر دنیا، اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے نام کرنا ہمارے اختیار میں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ روزانہ، ماہانہ یا خصوصی مواقع پر کم از کم کوئی نہ کوئی عہد کریں اور اپنی سطح پر ’’روزانہ ایک پودا‘‘ کے جذبے کو اپنائیں تاکہ زندگی کو بامعنی بنایا جا سکے۔ تقریب کے شرکاء نے اجتماعی طور پر شجرکاری کا عہد بھی کیا۔
سادھوی دیدی ماں رِتمبھرا نے اپنے پُراثر خطاب میں درختوں کو سناتن ثقافت کی روح سے جوڑا اور جذباتی اپیل کی کہ فضول نمود و نمائش، آتش بازی اور عارضی خوشیوں پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے لوگ اپنے مبارک مواقع پر شجرکاری کو ہی ’’ٹرو یوجنا‘‘ سمجھیں اور ہر پودے کی اسی مذہبی فریضے کے ساتھ حفاظت کریں جس طرح ہم مندروں میں کیے گئے اپنے عہد و نذر کی پاسداری کرتے ہیں۔
ڈاکٹر انل جوشی نے کہا کہ شیوراج سنگھ چوہان کی جانب سے شروع کی گئی تحریکیں ملک کے حالات کو بدلنے، لوگوں کو مثبت سوچ سے جوڑنے اور فطرت کے لیے کام کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔
سینئر صحافی، ادیب اور مفکر اشوتوش جھا نے اس موقع پر سب سے اپیل کی کہ وہ شیوراج سنگھ چوہان کے شجرکاری کے عہد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی مصروف اور تیز رفتار زندگی میں درخت ہر ایک کو سکون عطا کرتے ہیں؛ درخت محض پودے نہیں ہوتے بلکہ نسلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درخت لگانا ایک نیک عمل ہے، ہر شخص کو درختوں سے لگاؤ رکھنا چاہیے اور ہمیں فطرت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
روزانہ شجرکاری مہم:عہد سے عمل تک
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے 19 فروری 2021 کو نرمدا جینتی کے موقع پر امرکنٹک میں دریائے نرمدا کے کنارے ’’رودرکش‘‘ اور ’’سال‘‘ کے پودے لگا کر یہ عہد کیا تھا کہ وہ روزانہ کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں گے۔ انہوں نے اس عہد کو پانچ برس تک بلا تعطل نبھایا اور اس عرصے میں 6 ہزار سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔کووڈ-19 کی وبا کے مشکل دور سے لے کر وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مصروف عوامی زندگی اور اب مرکزی وزیر کے طور پر ملکی و غیر ملکی دوروں تک، کسی بھی حالت میں یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ شجرکاری ان کے روزمرہ معمول اور ماحولیاتی پیغام کا مستقل حصہ بنی رہی۔بہت سے لوگ ماحولیاتی تحفظ کا عہد کرتے ہیں، لیکن اسے عملی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے جس تسلسل اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کم ہی دیکھنے میں آتی ہےاور ’’روزانہ ایک پودا‘‘ کا عہد اسی پائیدار عزم کی ایک زندہ مثال ہے۔
****
ش ح۔ع ح۔ ش ا
U NO: 2770
(ریلیز آئی ڈی: 2230650)
وزیٹر کاؤنٹر : 7