مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

ہندوستان اور جرمنی نے ارادے کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کیا


دونوں فریقوں نے مستقبل کے لیے تیار ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر(بنیادی ڈھانچے) کی تعمیر اور عالمی معیارات پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اظہار کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 FEB 2026 6:28PM by PIB Delhi

اٹھارہ فروری 2026 کو نئی دہلی کے سنچار بھون میں شمال مشرقی خطے کی ترقی اور مواصلات کے مرکزی وزیر جیوتی رادتیہ ایم سندھیا اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے ڈیجیٹل تبدیلی اور حکومتی جدید کاری کے وفاقی وزیر کارسٹن وائلڈبرگر کے درمیان ایک دو طرفہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد وسیع تر ہند–جرمن اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانا تھا۔ بات چیت میں دونوں ممالک کی تکنیکی کامیابیوں کے لیے باہمی احترام اور قدردانی کا واضح اظہار دیکھنے میں آیا۔ دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور ٹیلی کمیونیکیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں گہرے اور وسیع تر تعاون کے لیے نہایت اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔

یہ میٹنگ اس اعتبار سے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ 10 جنوری 2026 کو منعقدہ ہندوستان–جرمنی سمٹ کے دوران مشترکہ اعلامیہ (جے ڈی آئی) پر دستخط کے بعد ہوئی۔ یہ مشترکہ اعلامیہ وسیع تر ہند–جرمن اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم ورک کے اندر ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں منظم تعاون کے لیے ایک وژنری مگر غیر پابند خاکہ فراہم کرتا ہے۔

دونوں فریقوں نے جے ڈی آئی کو ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں کھلے پن، اعتماد، اختراع اور لچک جیسی مشترکہ اقدار کی عکاسی کرنے والا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ جے ڈی آئی بہترین طریقۂ کار کے تبادلے، پالیسی ڈائیلاگ، سائنسی و تکنیکی تعاون، اور مشترکہ مقاصد کو ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے ایک لچکدار پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جس میں مشترکہ ایکشن پلان کی تیاری بھی شامل ہے۔

جناب سندھیا نے اس بات پر زور دیا کہ شراکت داری کو محض ارادوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ٹھوس منصوبہ بندی اور نتائج پر مبنی عمل درآمد کی سمت بڑھنا چاہیے۔ ہندوستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 1.23 ارب ٹیلی کام صارفین اور قریب ایک ارب انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں۔ فائیو جی (5جی) کوریج تقریباً 99.9 فیصد اضلاع تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اوسط ڈیٹا ٹیرف تقریباً 0.10 امریکی ڈالر فی جی بی ہونے کے باعث ڈیجیٹل رابطہ عام لوگوں کے لیے وسیع پیمانے پر قابلِ رسائی اور سستا بن چکا ہے۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندوستان نے ایک مضبوط ڈیجیٹل پائپ لائن تیار کی ہے، جو بین الاقوامی تعاون کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے آواز اور ڈیٹا کی سستی ترین شرحوں پر روشنی ڈالی، جو عالمی سطح پر کم ترین میں شمار ہوتی ہیں، اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کی تعمیر میں ہندوستان کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کیا۔ بالخصوص، انہوں نے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے انقلابی اثرات کی نشاندہی کی، جو باہمی قابلِ استعمال ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک عالمی ماڈل کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ مکمل طور پر دیسی نظام سالانہ تقریباً 250 ارب لین دین پر عمل درآمد کرتا ہے اور متعدد شراکت دار ممالک اسے اپنانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

جرمن وزیر نے ہندوستان کی تکنیکی کامیابیوں کی بھرپور ستائش کی اور جدید ٹیلی کمیونیکیشن نظام، ڈیجیٹل گورننس اور محفوظ نیٹ ورکس کے شعبوں میں منصوبہ بند اور مستقبل بیں تعاون میں جرمنی کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کوانٹم انکرپشن اور محفوظ معلوماتی ترسیل کے شعبے میں جرمنی کے تجربات کا بھی حوالہ دیا، جن میں 35 کلومیٹر طویل لنک پر مسلسل 11 دن تک کوانٹم کمیونیکیشن کا کامیاب مظاہرہ شامل ہے۔ انہوں نے سکس جی (۶جی) ٹیکنالوجی کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوستان کے ساتھ فعال اور پائیدار شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں فریقوں نے جے ڈی آئی فریم ورک کے تحت پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ جلد بلانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، تاکہ ابتدائی دو سالہ ورک پلان کو حتمی شکل دی جا سکے، ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور کلیدی تعاونی پروگراموں کا آغاز کیا جا سکے۔ اس ضمن میں واضح ٹائم لائنز کے تعین، ہر ترجیحی شعبے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی شناخت، اور نتائج پر مبنی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً ورچوئل جائزہ اجلاسوں کے انعقاد پر خصوصی زور دیا گیا۔

ہندوستان اور جرمنی نے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جن میں 5جی/5جی-ایڈوانسڈ، 6جی معیارات کی تیاری پر ابتدائی سطح پر مشغولیت، نیٹ ورک کی جدید کاری کے ذریعے محفوظ اور خودمختار 6جی نیٹ ورک کی ترقی، قابلِ اعتماد ٹیلی کام فنِ تعمیر اور سپلائی چین کی لچک، نیز مصنوعی ذہانت (اے آئی) شامل ہیں۔ جرمنی نے ہندوستان کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے 6جی کی مکمل صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

دونوں فریقوں نے باہمی روابط کو فروغ دینے اور عالمی ٹیلی مواصلاتی معیارات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی فورمز، بشمول بین الاقوامی ٹیلی مواصلات یونین (آئی ٹی یو)، میں مربوط اور ہم آہنگ مشغولیت کی اہمیت پر زور دیا۔

تحقیق اور اختراعی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو شراکت داری کا ایک مضبوط ستون قرار دیا گیا۔ اس تناظر میں جرمنی کے مستحکم صنعتی و تعلیمی ماڈل کو تسلیم کرتے ہوئے تحقیقی اداروں اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گہری، منظم اور مسلسل مشغولیت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلیمیٹکس (سی-ڈاٹ) اور فرونہوفر ہینرچ-ہرٹز انسٹی ٹیوٹ (ایچ ایچ آئی) کے درمیان جاری تعاون کو ایک مثالی نمونہ قرار دیا گیا، جس میں جدید ٹیلی مواصلاتی تحقیق و ترقی، کوانٹم مواصلات، مصنوعی ذہانت اور اگلی نسل کی نیٹ ورک ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں شراکت داری شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی، اوپن سورس انوویشن نیٹ ورکس اور اوپن آر اے این ماحولیاتی نظام میں شرکت کے مواقع بھی زیرِ غور آئے۔

دونوں فریقوں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ 6جی، اوپن آر اے این، 5جی کے استعمال کے مختلف منظرنامے، کوانٹم مواصلات، ٹیلی مواصلات میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی تعاون کے کلیدی شعبے ہیں۔ ان شعبوں میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو بہترین طریقوں کے تبادلے، صلاحیت سازی اور صنعتی روابط کے ذریعے مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ہندوستانی فریق نے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین میں بیورو آف ریڈیو کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے محترمہ ایم۔ ریواتی کی ہندوستانی امیدواری، 2027 تا 2030 کی مدت کے لیے آئی ٹی یو کونسل میں ہندوستان کے دوبارہ انتخاب، اور 2030 میں آئی ٹی یو پلین پوٹینشیری کانفرنس کی میزبانی کے لیے ہندوستان کی پیشکش پر جرمنی کی حمایت کی درخواست کی۔

ہندوستان اور جرمنی نے مشترکہ اعلامیے کے فریم ورک کے تحت مسلسل تعاون کے ذریعے قابلِ اعتماد نیٹ ورکس، لچکدار سپلائی چینز اور مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے اپنے مشترکہ عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔

ٹویٹ کا لنک:
https://x.com/jm_scindia/status/2024019813539213723

مزید معلومات اور تازہ اپ ڈیٹس کے لیے محکمۂ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) کے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈلز کو فالو کریں:

ایکس (X):
https://x.com/DoT_India

انسٹاگرام:
https://www.instagram.com/department_of_telecom

فیس بک:
https://www.facebook.com/DoTIndia

یوٹیوب:
https://youtube.com/@departmentoftelecom

 

***

UR-2680

(ش ح۔اس ک  )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2229983) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी