الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں اعلیٰ سطحی مذاکرےمیں مصنوعی ذہانت کے دور میں روزگار کےمستقبل پر غور و خوض کیا گیا
چیف اکنامک ایڈوائزر ڈاکٹر وی اننت ناگیشورن نے مصنوعی ذہانت کو وسیع تر روزگار کے مواقع کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے قومی عزم پر زور دیا
مقررین نے کہا کہ ہندوستان کے لیے اے آئی کوقومی صلاحیت کے طور پر فروغ دینا ہوگا جس کی جڑیں ہندوستانی ڈیٹا ، زبانوں اور سماجی ضروریات میں پیوست ہوں،مصنوعی ذہانت کے سبب تیز رفتار تبدیلیوں کے پیش نظر ہنر مندی میں مسلسل فروغ ناگزیرہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 FEB 2026 9:21PM by PIB Delhi
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ2026 میں “مصنوعی ذہانت کے دور میں روزگار کا مستقبل” کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں پالیسی ساز، صنعت کے رہنما، ماہرین تعلیم اور اختراع کاریکجا ہوئے۔ اس دوران اس بات پر غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں قابل ملازمت مہارتوں کو کس طرح از سر نوتشکیل دے رہی ہے، محدود مہارتوں سے انسانی قیادت میں ابھرنے والی صلاحیتوں کی طرف کس طرح تبدیلی آ رہی ہےاور اے آئی کے دور میں ہندوستان کے مواقع اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔
اس اجلاس کی نظامت الوک آگروال، شریک بانی،اے آئی 4انڈیا نے کی، جبکہ اس میں چیف اکنامک ایڈوائزر کا ورچوئل خطاب بھی شامل تھا۔ پینل میں ششی شیکھر ویمپتی، شریک بانی، اے آئی 4انڈیا اور پدم شری ایوارڈ یافتہ، اسمتا پرکاش ،ایڈیٹر،اے این آئی، سنجیو بھیکھ چندانی، شریک بانی، انفو-ایج، ستیش سیتارامیا، سی ای او، ایج -ورو، وینیت نائر،بانی، سمپرک فاؤنڈیشن اور سابق سی ای او، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور پروفیسر انوراگ مائرال ،ایڈجنکٹ پروفیسر، اسٹینفورڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن شامل تھے۔
بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ آٹومیشن کی رفتار تیز ہونے کے ساتھ کون سی مہارتیں، کردار اور ذہنی رویے اہم رہیں گے اور افراد کو قابل ملازمت رہنے کے لیے کیا اقدامات کئےجانے چاہییں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تخلیقی صلاحیت، نظامی سوچ، حالات سے ہم آہنگ ہونے کی اہلیت اور عمر بھر سیکھنے کا جذبہ، محدود اور کام پر مبنی مہارتوں سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے جا رہے ہیں۔
اپنے ورچوئل خطاب میں چیف اکنامک ایڈوائزر ڈاکٹر وی اننت ناگیشورن نے کہا کہ دور اندیشی، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور مستقل عمل درآمد کے ذریعے ہندوستان ایک ایسا وسیع معاشرہ بن سکتا ہے جو حقیقی معنوں میں انسانی وسائل کی فراوانی کا نمونہ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اس وژن کو یا توتقویت دے سکتی ہے یا پھر اسے کمزور بھی کر سکتی ہے اور اس کا نتیجہ خودبخود طے نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی خودبخود نہیں آئے گی بلکہ اس کے لیے فوری اقدامات، سیاسی عزم اور مضبوط ریاستی صلاحیت درکار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے فروغ کو وسیع پیمانے پر روزگار سے ہم آہنگ کرنا ایک واضح قومی عزم ہونا چاہیے اور یہ کوشش صرف حکومت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ٹیم انڈیا کے جذبے کے تحت پالیسی سازوں، صنعت، ماہرین تعلیم اور معاشرے کی مشترکہ کاوش بنے۔
ششی شیکھر ویمپتی نے کہا کہ ہندوستان کے لئے اے آئی کو ایک قومی صلاحیت کے طور پر فروغ دینا ہوگا جس کی جڑیں ہندوستان ڈیٹا، مقامی زبانوں اور معاشرتی ضروریات میں پیوست ہوں۔ ان کے مطابق اے آئی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں کس حد تک مثبت اثر ڈالتی ہے اور جامع ترقی میں کس قدر معاون ثابت ہوتی ہے۔
اسمتا پرکاش نےاپنے تبصرے میں کہا کہ ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے ملازمتوں کی نوعیت بدلتی آ رہی ہے، مگر اب تبدیلی کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے۔ انہوں نے مسلسل مہارتوں میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ میڈیا کو بھی اے آئی سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر اپنے فارمیٹس، آمدنی کے ماڈل اور دانشورانہ ملکیت کی حکمت عملیوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔
وینیت نائر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صنعتی دور میں پیدا ہونے والی ذیلی مہارتوں کو خودکار بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں وسیع سطح کی مہارتیں جیسے نظامی سوچ اور تخیل زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہندوستان کو تعلیم، اختراع اور ڈیٹا کی ملکیت کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہوگی، تاکہ وہ عالمی اے آئی ٹیکنالوجیز کا محض صارف بن کر نہ رہ جائے۔
سنجیو بھیکھ چندانی نے کہا کہ اگرچہ اے آئی کے روزگار پر اثرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے، تاہم بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے خصوصاً نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اے آئی ٹولز سیکھیں اور انہیں عملی طور پر استعمال کریں تاکہ اپنی ملازمت کے امکانات بہتر بنا سکیں۔
صحت کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر انوراگ مائرال نے کہا کہ مصنوعی ذہانت روزگار پیدا کرنے،خاص طور پر صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے اور کمیونٹی سطح پر نئے کردار متعارف کرانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ستیش سیتارامیا نے مصنوعی ذہانت کو ایک ایسی صلاحیت قرار دیا جو پیداواریت اوراختراع میں کئی گنا اضافہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق ادارے زیادہ ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار ہوں گے اور اے آئی کے فروغ کے ساتھ مختلف مگر بامعنی کردار سامنے آئیں گے۔
گفتگو کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت بڑی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے، لیکن یہ ہندوستان کے لیے ایک ایسا موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ قومی ترجیحات اور عوامی فلاح کے مطابق ایک جامع، اختراع پر مبنی اور ذمہ دار اے آئی نظام تشکیل دے سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م ش ۔ج ا
U-2561
(ریلیز آئی ڈی: 2229010)
وزیٹر کاؤنٹر : 5