ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیلی روبوٹکس مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کے ساتھ صحت کی دیکھ بھال میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ایمس، نئی دہلی کے ریڈیولوجسٹس کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ ٹیلی روبوٹک الٹراسونگرافی (ٹی یو ایس) نظام انٹارکٹیکا کے میتری اسٹیشن پر، دہلی سے تقریباً 12,000 کلومیٹر دور موجود افراد کی اسکریننگ انجام دے گا، جس سے دور دراز علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دہلی سے انٹارکٹیکا تک براہ راست ٹیلی روبوٹک الٹراساؤنڈ کا مشاہدہ کیا ، جو پوری سائنس اور پوری حکومت کے نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے ، جس کا اکثر وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اعادہ کیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 FEB 2026 7:03PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 16 فروری:مصنوعی ذہانت سے چلنے والی(تقویت یافتہ ) صحت کی دیکھ بھال اور فرنٹیئر سائنس میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز، نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہ بات کہی۔

وزیر موصوف نے ایک مقامی  طور پر تیار کردہ ٹیلی روبوٹک الٹراسونگرافی نظام کے کامیاب براہِ راست مظاہرے کا مشاہدہ کیا، جو ایمس، نئی دہلی کو انٹارکٹیکا میں واقع میتری ریسرچ اسٹیشن سے جوڑتا ہے۔

قومی دارالحکومت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر جاری گفت و شنید کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس نوعیت کی اختراعات مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور حقیقی وقت کی طبی مہارت کے باہمی امتزاج کی عکاسی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں جغرافیائی رکاوٹوں سے ماورا ہو کر ماہر صحت خدمات تک رسائی ممکن ہو رہی ہے۔

ایمس نئی دہلی اور آئی آئی ٹی دہلی کی جانب سے ارضیاتی علوم کی وزارت کے تحت نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ کے تعاون سے تیار کردہ یہ نظام دہلی میں موجود ایک ڈاکٹر کو انٹارکٹیکا میں 12,000 کلومیٹر دور موجود کسی رضاکار کا حقیقی وقت میں الٹراساؤنڈ معائنہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ الٹراساؤنڈ پروب سے لیس روبوٹک (آرم )بازو چھ درجوں کی آزادی فراہم کرتا ہے، جو ایک ماہر سونوگرافر کے ہاتھوں کی نہایت درست حرکات کی عین نقل کرتا ہے۔ قوت کو محسوس کرنے والی حفاظتی خصوصیات اور ایک سیکنڈ سے بھی کم تاخیر کے ساتھ تشخیصی اعتبار سے قابلِ اعتماد امیجنگ کی بدولت یہ نظام ہنگامی بنیادوں پر مرکوز تشخیصات کی سہولت فراہم کرتا ہے، جن میں فاسٹ اسکین، پیٹ کے اعضاء کی جانچ، قلبی تشخیص اور صدمے کی اسکریننگ شامل ہیں۔

انتہائی دشوار اور دور دراز ماحول کے لیے تیار کی گئی یہ ٹیکنالوجی اس بات کے تعین میں مدد دیتی ہے کہ آیا مریض کا علاج مقامی سطح پر ممکن ہے یا اسے منتقل کرنے کی ضرورت ہے—جو انٹارکٹیکا میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں فضائی انخلا نہ صرف مہنگا بلکہ لاجسٹک اعتبار سے بھی انتہائی پیچیدہ ہے۔ کم لاگت، مضبوطی اور توسیع پذیری کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کردہ یہ نظام سرحدی علاقوں، آفات زدہ خطوں، دیہی صحت مراکز اور ملک بھر میں متحرک طبی اکائیوں میں استعمال کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم کے "مکمل سائنس" اور "پوری حکومت" کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے یکجا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی قطبی مہمات اور سمندری مشنز اب صرف ارضیاتی علوم کی تحقیق تک محدود نہیں رہے بلکہ حقیقی دنیا میں قابلِ اطلاق اختراعات کے لیے اہم پلیٹ فارم بنتے جا رہے ہیں۔ انٹارکٹک مہمات کے دوران درپیش عملی چیلنجوں سے متاثر یہ ٹیلی روبوٹک نظام اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح فیلڈ کے تجربات کو قابلِ توسیع تکنیکی حل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

وزیر نے دیہی اور شہری صحت کی سہولیات کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت اور مناسب انسانی وسائل کے باوجود دور دراز علاقوں میں ماہرین کی موجودگی کو یقینی بنانے میں درپیش مشکلات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن، مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیص اور روبوٹک مداخلت جیسی نئی ٹیکنالوجیز اس خلا کو پُر کر سکتی ہیں اور آنے والے برسوں میں طبی عمل کی نئی تعریف متعین کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گہرے سمندر کی تحقیق، آرکٹک پالیسی، انٹارکٹیکا ایکٹ اور ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر میں ہندوستان کی پیش رفت مربوط سائنسی حکمرانی کی جانب ایک بڑی تبدیلی کی غمازی کرتی ہے۔

ارضیاتی علوم کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن نے کہا کہ یہ اختراع انٹارکٹیکا سے ہنگامی انخلا کی ضرورت کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے اور قطبی خطوں میں ہندوستان کی باہمی تعاون پر مبنی سائنسی موجودگی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ انہوں نے اسے بین ادارہ جاتی اور بین وزارتی ہم آہنگی کی ایک مثالی مثال قرار دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج ہندوستان کے سائنسی ماحولیاتی نظام سے ابھرنے والی اختراعات رسائی کی حدود کو وسعت دے رہی ہیں، انٹارکٹیکا سے لے کر دور دراز دیہاتوں تک اعلیٰ معیار کی صحت کی سہولیات کو ممکن بنا رہی ہیں، اور سائنس، ٹیکنالوجی اور مربوط حکمرانی سے تقویت یافتہ ایک ترقی یافتہ قوم کی جانب ہندوستان کے سفر کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔

فوٹو:  مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ پیر کے روز ایمس، نئی دہلی میں مقامی طور پر تیار کردہ ٹیلی روبوٹک الٹراسونگرافی نظام کے براہِ راست مظاہرے کے بعد خطاب کر رہے ہیں، جو ایمس، نئی دہلی کو انٹارکٹیکا میں واقع میتری ریسرچ اسٹیشن سے جوڑتا ہے۔

***

UR-2548

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2228881) وزیٹر کاؤنٹر : 17
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी