وزارت دفاع
وزیر دفاع نے بی ای ایل، بنگلورو میں میزائل انٹیگریشن سہولت کا افتتاح کیا؛ تیسرے اور چوتھے آکاش رجمنٹ کے جنگی نظاموں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور ماؤنٹین فائر کنٹرول ریڈار کی نقاب کشائی کی
انہوں نے پونے میں مصنوعی ذہانت کے سینٹر آف ایکسیلنس کا ریموٹ طریقے سے افتتاح کیا اور بی ای ایل کی اے آئی پالیسی کا باضابطہ اجرا کیا
راج ناتھ سنگھ کو جدید دیسی دفاعی ٹیکنالوجی اور جاری تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات دی گئی
وزیر دفاع نے بی ای ایل کی جانب سے نیٹ ورک سینٹرک آپریشنوں کو مضبوط بنانے اور جنگی مؤثریت کو نئی سطح تک لے جانے کی کوششوں کی تعریف کی
آپریشن سندور کے دوران دیسی فضائی دفاع اور اینٹی ڈرون نظاموں نے خطرات کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والی پیش رفت نے دفاعی افواج میں عملی اعتماد پیدا کیا
وکست بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے ملکی صنعت کو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سبقت برقرار رکھنی ہوگی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 FEB 2026 7:42PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 16 فروری 2026 کو بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل)، بنگلورو کا دورہ کیا اور وہاں واقع احاطے میں میزائل انٹیگریشن سہولت کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تیسرے اور چوتھے آکاش رجمنٹ کے جنگی نظاموں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور ماؤنٹین فائر کنٹرول ریڈار کی نقاب کشائی بھی کی۔ انہوں نے پونے میں قائم مصنوعی ذہانت کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کا بھی ریموٹ طریقے سے افتتاح کیا اور کمپنی کی اے آئی پالیسی کا باضابطہ اجرا کیا۔
وزیر دفاع کو جدید دیسی دفاعی ٹیکنالوجیوں کی ایک وسیع رینج کے بارے میں معلومات دی گئی، جن میں بھارتی اسٹارٹ اپ کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل بھی شامل تھے، جو دفاعی ماحولیاتی نظام میں جدت اور مقامی سازی پر بڑھتے ہوئے زور کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) کی جانب سے الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، ایویونکس، بحری پلیٹ فارم، الیکٹرو آپٹکس اور ٹینک الیکٹرانکس جیسے جدید ترین شعبوں میں پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ”بی ای ایل نے نیٹ ورک سینٹرک آپریشن کو مضبوط بنایا ہے۔ اس کے مربوط نظام، حقیقی وقت میں ڈیٹا کے تبادلے اور فیصلہ سازی میں معاونت کی صلاحیتوں نے ہماری جنگی مؤثریت کو ایک نئی سطح تک پہنچا دیا ہے۔“
جناب راج ناتھ سنگھ کو بی ای ایل میں جاری تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جو اہم قومی دفاعی پروگراموں سے ہم آہنگ ہیں۔ ان میں کوئیک ری ایکشن سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹم (کیو آر ایس اے ایم)، لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ مارک-II، ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے)، پروجیکٹ کُشا، کاؤنٹر ڈرون سسٹم، نیول ویپن کنٹرول سسٹم وغیرہ شامل ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیسی تحقیق و ترقی کے اقدامات زمینی، فضائی، بحری اور اسٹریٹجک شعبوں میں عملی تیاری کو مضبوط بنا رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کو کم کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ فضائی حدود کے دفاع اور کاؤنٹر ڈرون آپریشنوں کے لیے تیار کردہ نظاموں نے یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت کے دیسی حل عالمی معیار پر پورا اتر سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دیسی طور پر تیار کردہ فضائی دفاع اور اینٹی ڈرون نظاموں کو آپریشن سندور کے دوران خطرات کو مؤثر طریقے سے ناکام بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا، ”مصنوعی ذہانت کے ذریعے خطرات کی پیش گوئی، ابتدائی انتباہ اور ردِعمل کے نظام میں ہونے والی پیش رفت ہمارے فوجیوں میں عملی اعتماد پیدا کرتی ہے۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ایک مضبوط سائنسی اور انجینئرنگ ماحولیاتی نظام ہر وقت ان کے ساتھ کھڑا ہے۔“ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں دیسی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا نہایت اہم ہے، کیونکہ خود انحصاری پر مبنی فتح ہی ملک کو نیا اعتماد عطا کرتی ہے۔
وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ اب مستقبل کے تصورات نہیں رہے، بلکہ حقیقی وقت میں فیصلہ سازی، خودکار نظاموں، سائبر دفاع اور درستگی پر مبنی کارروائیوں میں ان کا استعمال میدان جنگ کی نوعیت بدل رہا ہے۔ بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے انہوں نے بی ای ایل، دیگر دفاعی سرکاری اداروں اور صنعتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ آنے والے نئے انقلاب میں سب سے آگے رہیں۔ انہوں نے بی ای ایل کی تحقیق و ترقی برادری کو ترغیب دی کہ وہ اسٹارٹ اپ، صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دے کر مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز رفتار مصنوعات تیار کریں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بی ای ایل بین شعبہ جاتی تعاون، جدت طرازی اور تیز رفتار پروٹو ٹائپنگ کو ترجیح دے تاکہ عالمی معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکیں، جو وکست بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہوں۔
بریفنگ کے دوران بی ای ایل کی جانب سے کیے گئے مقامی سازی کے اقدامات پیش کیے گئے، جن میں سینٹرل ریسرچ لیبارٹری، سینٹر آف ایکسیلنس – الیکٹرانک وارفیئر اینڈ فوٹونکس، سینٹر آف ایکسیلنس – کمیونیکیشن، سینٹر آف ایکسیلنس – ریڈار اینڈ ویپن سسٹم، نیز پروڈکٹ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن سینٹر کی سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس موقع پر اسٹارٹ اپ اور صنعتی شراکت داروں نے بھی اپنی مصنوعات کی نمائش کی۔
وزیر دفاع نے اسٹارٹ اپ اور نوجوان سائنس دانوں سے ملاقات کی اور انہیں مزید جدید دیسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر سیکریٹری (دفاعی پیداوار) سنجیو کمار، ایڈیشنل سیکریٹری و ڈائریکٹر جنرل (حصولیابی) اے انبراسو، چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر بی ای ایل منوج جین اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
*********
ش ح۔ ف ش ع
U: 2549
(ریلیز آئی ڈی: 2228873)
وزیٹر کاؤنٹر : 12