اقلیتی امور کی وزارتت
اقلیتی امور کی وزارت نے حج2026 کے لیےڈیپوٹیشن (عارضی تبادلہ) کے تحت تقرر ہونے والے افرادکے لیے تعارفی و تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 FEB 2026 3:38PM by PIB Delhi
اقلیتی امور کی وزارت نے نئی دہلی کے وگیان بھون میں حج 2026 کے لیے ڈیپوٹیشن (عارضی تبادلہ) کے تحت تقرر ہونے افراد کے لیے تعارفی و تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا ۔ اس پروگرام کا افتتاح حج 2026 کی تیاریوں کےباضابطہ آغاز کے موقع پر اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے کیا ، جس کے دوران تقریباً 1.75 لاکھ ہندوستانی عازمین سفر حج پر روانہ ہوں گے ۔ عازمین حج کو ضروری انتظامی اور طبی مدد فراہم کرنے کے لیے بھارت کے قونصلیٹ جنرل ( سی جی آئی) کی نگرانی میں عارضی تبادلہ کے تحت آنے والے افراد سعودی عرب میں ڈھائی ماہ کی مدت کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ ڈیپوٹیشن پر تقرر ہونے والے افراد کا انتخاب مختلف سرکاری تنظیموں / اداروں سے کیا گیا ہے جو تمام عازمین حج کے لیے محفوظ مؤثر اور شاندار خدمات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط قومی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ حج کا انتظام ہندوستان کی طرف سے بیرون ملک میں کی جانے والی سب سے بڑی اور سب سے پیچیدہ لاجسٹک کاموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیپوٹیشن پر تقرر ہونے والے افراد کو تقریباً 1.75 لاکھ عازمین حج کی خدمت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور درحقیقت وہ سعودی عرب میں حکومت ہند کا چہرہ ہیں ۔
وزیر موصوف نے حالیہ برسوں میں متعارف کرائے گئے کلیدی فلاحی اقدامات اور اصلاحات پر روشنی ڈالی، جن میں بزرگ عازمین حج کے لیے ساتھی کی فراہمی کے ساتھ خصوصی سہولت، محرم کے بغیر سفر کرنے والی خواتین عازمین کے لیے بہتر انتظامات شامل ہیں ۔ جناب کورین نے وزارت داخلہ ، وزارت خارجہ ، وزارت صحت و خاندانی بہبود ، وزارت شہری ہوابازی جیسی دیگر وزارتوں کے ساتھ ساتھ حج 2026 کے لیے تقریباً 600 سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ایک مکمل حکومتی نقطۂ نظر کے تحت وزارت کے مضبوط تال میل پر بھی زور دیا ۔
اقلیتی امور کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر جناب سی ایس کمار نے اپنے خطاب کے دوران ڈیپوٹیشن پر آنے والے تمام افراد کا خیرمقدم کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ ہندوستان عالمی سطح پر عازمین حج کے سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ توقع ہے کہ اس سال تقریباً 1.75 لاکھ افراد سفر حج پر جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حج 2026 کی تیاریوں کو سہل بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بروقت انتظامات کو یقینی بنانے میں وزارت خارجہ ، سعودی حکام ، جدہ میں واقع بھارت کے قونصلیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تعاون کا اعتراف کیا ۔
ڈاکٹر کمار نے زمینی حقائق کے لیے عارضی تبادلہ کے تحت تقرر ہونے والے افسران کو آڈیو ویژول ماڈیولزکے استعمال کے ذریعہ ڈھانچہ جاتی، مرحلہ وار تربیت سے آراستہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ انہیں کام کاج کے طریقۂ کار سے بہتر طور پر واقف کرایا جاسکے ۔انہوں نے فیلڈ افسران سے حاصل ہونے والی فیڈ بیک کے ذریعہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور اے آئی سے چلنے والے نظام سمیت ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ انضمام پر بھی زور دیا ۔اس کے علاوہ انہوں نے مسلسل بہتری اور بیرون ملک بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈیپوٹیشن کے تحت آنے والے افراد کے ذریعے ثقافتی حساسیت ، نظم و ضبط اور باوقار طرز عمل کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔
وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری جناب اسیم مہاجن نے اس بات پر زور دیا کہ حج کو حکومت ہند کی طرف سے سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے لیے اقلیتی امور اور امور خارجہ کی وزارتوں کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حج کے انتظامات کے مجموعی تال میل میں جدہ میں بھارت کے قونصلیٹ جنرل اور ریاض میں بھارت کے سفارت خانے کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے ساتھ بھارت کے مضبوط اور کثیر جہتی تعلقات کا بھی ذکر کیا، جنہیں خطے میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی باشندوں کی حمایت حاصل ہے، جن میں سعودی عرب میں تقریباً 20 لاکھ 70 ہزار افراد شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت اور خلیج تاون کونسل خطے کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ڈیپوٹیشن کے تحت آنے والے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ وہ بیرون ملک بھارت کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں جسمانی تندرستی، ڈیوٹی کے طویل اوقات کے لیے تیاری، تفویض کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنےاور شکایات کے ازالے پر زور دیتے ہوئے مقامی قوانین ، رسوم و رواج اور روایات کا احترام کرنا چاہیے۔
اقلیتی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب رام سنگھ نے حج 2026 کے لیے متعارف کرائی گئی کام کاج کے طریقہ کار میں تبدیلیوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے تازہ ترین رہنما خطوط اور طریقہ کار کی اصلاحات کے پیش نظر تعارفی وتربیتی پروگرام ضروری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عازمین حج کی حفاظت، ان کا پتہ لگانے اور خدمات کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے حج سویدھا ایپ اور اسمارٹ ویئرایبل ڈیوائسز سمیت نئے تکنیکی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ڈیپوٹیشن کے تحت تقرر ہونے والے افراد کو خود کو تازہ ترین کام کاج کے ضابطوں سے واقف کرانا چاہیے اور زمینی سطح پرآسان اور ہموار تال میل کو یقینی بنانا چاہیے ۔
اس سیشن کے بعد مملکت سعودی عرب میں حج بندوبست اور زیارت کے مسائل کا جائزہ ، ڈیپوٹیشن پر آنے والے افراد کے رول اور ذمہ داریاں، مملکت سعودی عرب میں حج کے لیے بین الاقوامی صحت کے مسائل اور حفظان صحت کے انتظامات ، حج مینجمنٹ (کیا کریں اور کیا نہ کریں) ، ایچ ایم آئی ایس پورٹل اور حج سویدھا ایپ جیسے اہم موضوعات پر اجلاس منعقد کیے گئے ، جس کے بعد سوالات کا سیشن ہوا ۔ پروگرام کا اختتام وزارت کے عہدیداروں اور ریسورس پرسنز کے ساتھ بات چیت پر مبنی سوال و جواب کے ساتھ ہوا ، جس کے بعد اقلیتی امور کی وزارت کے ڈائریکٹر (حج) نے سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔
یہ تعارفی و تربیتی پروگرام اقلیتی امور کی وزارت کے حج کی تیاریوں کو مضبوط بنانے ، متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل کو بڑھانے اور 2026 میں بھارت کے عازمین حج کے لیے سفر حج کےشاندار تجربے کو یقینی بنانے کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔
****
ش ح۔م ع۔ ش ت
U NO:-2528
(ریلیز آئی ڈی: 2228779)
وزیٹر کاؤنٹر : 12