ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
این بی اے ، حیاتیاتی وسائل کے تحفظ میں مدد کرتا ہے ، جس کے تحت اے بی ایس کے ذریعے 10.40 لاکھ روپے پورے بھارت کے 24 اضلاع میں تقسیم کیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 FEB 2026 8:32PM by PIB Delhi
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور مقامی کمیونٹیز کی مدد کے تئیں ایک اہم اقدام کے طور پر، نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی ( این بی اے ) نے ، ملک بھر میں مستفید ہونے والوں کو رسائی اور فائدہ میں شراکت داری ( اے بی ایس ) کے فریم ورک کے تحت 10.40 لاکھ جاری کیے ہیں۔ اے بی ایس فریم ورک ، بھارت کے قومی اور عالمی عزم کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ کمیونٹیز ، جو حیاتیاتی وسائل کے تحفظ میں اہم رول ادا کر رہی ہیں، ان کو ان کے تجارتی استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد میں منصفانہ حصہ فراہم کیا جا سکے۔
اس موجودہ اے بی ایس کے جاری کئے جانے سے 24 اضلاع کے بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیز ( بی ایم سیز ) مستفید ہوں گی، جو 9 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، تمل ناڑو، پڈوچیری، میگھالیہ، گجرات، اوڈیشہ، آندھرا پردیش اور ہریانہ شامل ہیں۔ یہ بی ایم سیز دیہی علاقوں ، ساحلی علاقوں اور شہری مقامی اداروں جیسے مختلف ماحولیاتی منظرناموں کی نمائندگی کرتی ہیں ، جہاں مقامی کمیونٹیز حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہریانہ کے ایک کسان کو ، بھارت کی مشہور مراہ بھینس کی نسل فراہم کرنے کے لیے رسائی اور فائدہ شراکت کی رقم دی گئی، جس میں مقامی مویشیوں کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔
اے بی ایس فنڈز مختلف حیاتیاتی وسائل کے تجارتی استعمال سے حاصل کیے گئے ہیں، جو بھارت کے حیاتیاتی اقتصادی شعبے کی ترقی میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں ایسے خوردبینی جاندار شامل ہیں جیسے بایو ٹیکنا لوجی اور دوا سازی میں استعمال ہونے والے فائدہ مند بیکٹیریا، غذائی سپلیمنٹس اور پائیدار بایو مصنوعات میں استعمال ہونے والے سمندری مائیکرو الگی اور زراعت، کاسمیٹکس اور خوراک کی صنعتوں میں استعمال ہونے والے سی ویڈ شامل ہیں۔
استعمال شدہ حیاتیاتی وسائل میں تلسی کے پتے، مورنگا کے بیج، نیم کے بیج، ریٹھے کے بیج، روز میری کے پتے، اشوگندھا کی جڑیں، مشروم سے حاصل شدہ کیٹوسان اور پیسیفک وائٹ شرمپ شامل ہیں۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ حیاتیاتی تنوع نہ صرف ماحولیاتی توازن میں بلکہ سائنسی اختراعات، صنعتی ترقی اور دیہی روزگار میں بھی کس قدر اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اے بی ایس کے ذریعے، حیاتیاتی وسائل کے صارفین کے فوائد کا ایک حصہ ان مقامی کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے ، جو ان وسائل کے تحفظ میں کام کر رہی ہیں۔ یہ نظام تحفظ کے لیے براہِ راست معاشی مراعات پیدا کرتا ہے اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
قومی سطح پر مجموعی اے بی ایس کے تحت 145 کروڑ (تقریباً 16 ملین امریکی ڈالر) کی ادائیگی کی گئی ہے، جو بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے حکمرانی کے فریم ورک کے بڑھتے ہوئے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ این بی اے مسلسل کنونشن آن بایو لوجیکل ڈائیورسٹی اور ناگویا پروٹوکول آن ایکسیز اینڈ بینیفٹ شیئرنگ کے تحت بھارت کی وابستگیوں کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ساتھ ہی قومی حیاتیاتی تنوع کے اہداف اور عالمی کنمنگ – مونٹیریل گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک میں بھی تعاون کر رہا ہے۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – ش ب - ع ا )
U.No. 2521
(ریلیز آئی ڈی: 2228695)
وزیٹر کاؤنٹر : 14