PIB Headquarters
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا اے آئی حکمرانی رہنما خطوط


محفوظ اور قابل اعتماد اے آئی اختراع کو فعال کرنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 FEB 2026 11:12AM by PIB Delhi

اہم نکات

  • ہندوستان نے تمام شعبوں میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور جامع مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اختراع کو ممکن بنانے کے لیے سات نکاتی اصولوں پر مشتمل اے آئی گورننس فریم ورک اختیار کیا ہے۔
  • ان رہنما خطوط میں نئے قومی اداروں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جن میں اے آئی گورننس گروپ، ٹیکنالوجی و پالیسی ماہر کمیٹی اور اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔
  • اے آئی گورننس کے یہ رہنما خطوط خلل انگیز اختراع کو ترجیح دیتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کو جامع ترقی، مسابقت اور ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے وژن کے حصول کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

تعارف

مصنوعی ذہانت پانچویں صنعتی انقلاب میں ایک کلیدی محرک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، اور ہندوستان نے اس ضمن میں ایک واضح اور ہمہ گیر وژن پیش کیا ہے: ملکی ضروریات کے مطابق ایک مکمل اے آئی اسٹیک کی تشکیل۔

ہندوستان کی اے آئی حکمتِ عملی محض تکنیکی صلاحیتوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ جمہوریت سازی، پیمانے اور شمولیت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مصنوعی ذہانت چند مخصوص کمپنیوں یا مقامات تک محدود نہ رہے بلکہ زراعت، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، گورننس، مینوفیکچرنگ اور آب و ہوا سے متعلق اقدامات تک وسیع پیمانے پر پھیل سکے۔

اے آئی فار آلکے تصور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ہندوستان خود مختار صلاحیت کو کھلی اختراع (اوپن اننو یشن )کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، مقامی ماڈلز کی تیاری اور کم لاگت کمپیوٹنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداواری صلاحیت اور جامع ترقی کو فروغ دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ نقطۂ نظر مصنوعی ذہانت کی پیش رفت کو 2047 تک(وکست بھارت) ترقی یافتہ ہندوستان کے وسیع قومی عزم (وژن )کے ساتھ جوڑتا ہے اور اے آئی کو معاشی تبدیلی، سماجی پائیداری اور اسٹریٹجک خود مختاری کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ہندوستان کی کامیابیاں اس پہلے ۔ نفاذ(ڈپلائیمنٹ فرسٹ)فلسفے کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔ انڈیا اے آئی مشن کے تحت 38,000 سے زائد جی پی یوز کو سبسڈی یافتہ نیشنل کمپیوٹ سہولت کے ذریعے شامل کیا گیا ہے۔ اے آئی کوش اب 9,500 سے زیادہ ڈیٹا سیٹس اور 273 شعبہ جاتی ماڈلز کی میزبانی کر رہا ہے، جس سے مقامی ماڈلز کی ترقی کو مضبوط تقویت مل رہی ہے۔

نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن کے تحت اے آئی آر اے ڈبلیو اے ٹی اور پرم سدھی–اے آئی سمیت 40 سے زائد پیٹا فلاپ سسٹمز کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

صلاحیت سازی کے محاذ پر، انڈیا اے آئی اور فیوچر اسکلز انیشی ایٹو کے ذریعے 500 پی ایچ ڈی اسکالرز، 5,000 پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور 8,000 انڈر گریجویٹ طلبہ کی معاونت کی جا رہی ہے، جبکہ ریاستوں میں قائم 570 اے آئی ڈیٹا لیبز اور 27 انڈیا اے آئی لیبز نچلی سطح پر اختراع کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس وقت ملک کے تقریباً 90 فیصد اسٹارٹ اپس کسی نہ کسی صورت میں مصنوعی ذہانت کو اپنے نظام میں ضم کر چکے ہیں، جو ہندوستان کے اختراعی ماحولیاتی نظام میں اے آئی کے گہرے انضمام کی عکاسی کرتا ہے۔

اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں جاری کیے جانے والے انڈیا اے آئی گورننس گائیڈ لائنز ان کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سات رہنما اصولوں پر مبنی یہ فریم ورک اصولی، تکنیکی اور قانونی نقطۂ نظر اپناتا ہے۔ اے آئی گورننس گروپ، ٹیکنالوجی و پالیسی ماہر کمیٹی اور اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ جیسے نئے اداروں کے قیام کے ذریعے، ہندوستان ایک ہمہ گیر سرکاری ماڈل کو ادارہ جاتی شکل دے رہا ہے جو اختراع اور تحفظات کے درمیان متوازن ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ یہ رہنما خطوط نہ صرف اے آئی کو اپنانے اور صلاحیت سازی میں بلکہ عالمی سطح پر ذمہ دار، جامع اور قابلِ اعتماد اے آئی گورننس میں بھی قیادت کے لیے ہندوستان کے عزائم کو تقویت دیتے ہیں۔

ہندوستان کا اے آئی گورننس فلسفہ

ہندوستان مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو جامع ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے بروئے کار لانا چاہتا ہے، جبکہ اس سے افراد اور معاشرے کو درپیش ممکنہ خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا بھی خواہاں ہے۔

اسی مقصد کے تحت، الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) نے جولائی 2025 میں ہندوستان میں اے آئی گورننس کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنے کی غرض سے ایک ڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کو موجودہ قوانین سے استفادہ کرنے، عالمی پیش رفت کا جائزہ لینے، دستیاب تحقیقی و پالیسی ادب کا مطالعہ کرنے اور عوامی مشاورت کے ذریعے موزوں حکمرانی کے رہنما خطوط تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

کمیٹی نے اپنی بات چیت اور مشاورت کی بنیاد پر اے آئی گورننس فریم ورک کو چار حصوں میں پیش کیا ہے۔ پہلا حصہ ان سات ستونوں کا خاکہ پیش کرتا ہے جو ہندوستان کے اے آئی گورننس فلسفے کی اساس ہیں۔ دوسرے حصے میں مخصوص مسائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے عملی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ تیسرا حصہ ایک جامع ایکشن پلان کی وضاحت کرتا ہے، جبکہ چوتھا حصہ صنعت سے وابستہ فریقین اور ریگولیٹرز کے لیے ایسی عملی رہنما ہدایات فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے تجاویز کو مسلسل اور ذمہ دارانہ انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

حصہ اول: کلیدی اصول

اے آئی گورننس فریم ورک کے بنیادی اصولوں کو نہایت احتیاط اور دوراندیشی کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے تاکہ بین القطاعی اطلاق اور ٹیکنالوجی کی غیر جانب داری کو یقینی بنایا جا سکے، جس سے مختلف استعمالی صورتوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے متنوع مراحل کو سہارا مل سکے۔ یہ اصول مجموعی طور پر ذمہ دار مصنوعی ذہانت کی ترقی اور تعیناتی( نفاذ) کے لیے ایک لچکدار، مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اعتماد ہی بنیاد ہے

 

سب سے پہلے لوگ

اختراع، اختیار اور پیش رفت کے ساتھ ساتھ خطرات میں کمی کے لیے اعتماد ناگزیر ہے۔ اعتماد کے بغیر مصنوعی ذہانت کے فوائد کو بڑے پیمانے پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اعتماد کو پوری ویلیو چین میں سرایت کرنا چاہیے—یعنی بنیادی ٹیکنالوجی میں، ان تنظیموں میں جو یہ نظام تیار کرتی ہیں، ان اداروں میں جو نگرانی کے ذمہ دار ہیں، اور اس یقین میں کہ افراد ان نظاموں کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں گے۔ لہٰذا اعتماد وہ بنیادی اصول ہے جو بھارت میں مصنوعی ذہانت کی تمام ترقی اور تعیناتی (نفاذ)کی رہنمائی کرتا ہے۔

اے آئی گورننس میں انسان کو مرکزیت حاصل ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے نظام اس انداز میں تیار اور تعینات کیے جانے چاہئیں جو انسانی اختیار (ایجنسی) کو مضبوط بنائیں اور معاشرتی اقدار کی عکاسی کریں۔ گورننس کے نقطۂ نظر سے اس کا تقاضا ہے کہ جہاں بھی ممکن ہو، انسان مؤثر انسانی نگرانی کے ذریعے اے آئی نظاموں پر بامعنی کنٹرول برقرار رکھیں۔سب سے پہلے لوگ) نقطۂ نظر صلاحیت سازی، اخلاقی تحفظات اور سلامتی سے متعلق اقدامات پر بھی خصوصی زور دیتا ہے۔

  1. تحمل سے زیادہ جدت
  1. انصاف اور مساوات

مصنوعی ذہانت کی قیادت میں ہونے والی اختراع قومی اہداف—جیسے سماجی و اقتصادی ترقی، عالمی مسابقت اور لچک—کے حصول کا ایک مؤثر راستہ ہے۔ لہٰذا، اے آئی گورننس فریم ورک کو فعال طور پر اختیار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور بامعنی و مؤثر اختراع کے لیے ایک اتپریرک کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ تاہم، اختراع کو ذمہ دارانہ انداز میں انجام دیا جانا چاہیے اور اس کا مقصد ممکنہ نقصانات کو کم سے کم رکھتے ہوئے مجموعی فائدے کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہونا چاہیے۔ دیگر تمام امور برابر ہوں تو ذمہ دارانہ اختراع کو احتیاطی تحمل پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

 

جامع ترقی کو فروغ دینا بھارت کے اے آئی گورننس نقطۂ نظر کا ایک مرکزی مقصد ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو اس انداز میں ڈیزائن اور جانچا جانا چاہیے کہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور تعصب یا امتیازی سلوک—بالخصوص پسماندہ طبقات کے خلاف—سے بچا جا سکے۔ اسی کے ساتھ، اخراج اور غیر مساوی نتائج کے خطرات کو کم کرتے ہوئے شمولیت کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت کو فعال طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

  1. احتساب
  1. ڈیزائن کے لحاظ سے قابل فہم

اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ بھارت کا مصنوعی ذہانت کا ماحولیاتی نظام اعتماد کی بنیاد پر ترقی کرے، اے آئی ڈویلپرز اور نظام تعینات کرنے والوں کو نمایاں اور جوابدہ رہنا چاہیے۔ جوابدہی کا تعین انجام دیے گئے کردار، ممکنہ نقصان کے خطرے اور عائد کردہ مستعدی کی شرائط کی بنیاد پر واضح طور پر کیا جانا چاہیے۔ احتساب کو مختلف پالیسی، تکنیکی اور مارکیٹ کے زیرِ قیادت طریقۂ کار کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

 

قابلِ فہم ہونا اعتماد سازی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسے ڈیزائن کی ایک مرکزی خصوصیت ہونا چاہیے، نہ کہ بعد ازاں شامل کیا جانے والا عنصر۔ اگرچہ اے آئی نظام احتمالات پر مبنی ہوتے ہیں، تاہم تکنیکی طور پر ممکن حد تک ان کے بارے میں واضح وضاحتیں اور انکشافات فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ صارفین اور نگران ادارے یہ سمجھ سکیں کہ نظام کس طرح کام کرتا ہے، صارف کے لیے اس کا کیا مطلب ہے، اور اسے تعینات کرنے والے اداروں کے متوقع نتائج کیا ہیں۔

  1. حفاظت، لچک اور پائیداری

مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ نقصان کے خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مؤثر حفاظتی تدابیر موجود ہوں، اور یہ نظام مضبوط اور لچکدار ہوں۔ ان نظاموں میں بے ضابطگیوں کی بروقت نشاندہی اور نقصان دہ نتائج کو محدود کرنے کے لیے ابتدائی انتباہات فراہم کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے متعلق کوششیں ماحولیاتی اعتبار سے ذمہ دار اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی ہونی چاہئیں، اور کم وسائل استعمال کرنے والے چھوٹے ‘ہلکے وزن’ ماڈلز کے اختیار کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

 

یہ سات اصول مل کر ایک مضبوط اور متوازن اے آئی گورننس فریم ورک تشکیل دیتے ہیں جو اعتماد، مساوات اور جواب دہی کو برقرار رکھتے ہوئے اختراع کو ممکن بناتا ہے۔ یہ اصول عوام پر مرکوز، جامع اور مستقبل کے لیے تیار اے آئی ماحولیاتی نظام کے قیام کے لیے ہندوستان کے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

تکنیکی ترقی کو سماجی اقدار اور ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے، یہ فریم ورک بڑے پیمانے پر ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے فروغ اور اپنانے کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حصہ دوم: اہم مسائل اور تجاویز

سات اصولوں/فارمولوں کو بطور رہنمائی استعمال کرتے ہوئے، کمیٹی نے اے آئی گورننس کے لیے ایک ایسے راستے کی سفارش کی ہے جو اختراع، اپنانے اور سائنسی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ افراد اور برادریوں کو درپیش ممکنہ خطرات میں کمی کے اقدامات کو بھی مضبوط بنائے۔

موثر حکمرانی میں صرف ضابطہ کاری ہی شامل نہیں ہوتی بلکہ پالیسی میں شمولیت کے دیگر طریقے بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں، جن میں صلاحیت سازی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ادارہ جاتی تشکیل شامل ہیں۔ اسی تناظر میں، کمیٹی نے چھ اہم سفارشات پیش کی ہیں۔

1۔بنیادی ڈھانچہ

ہندوستان کا اے آئی گورننس فریم ورک اختراع کو فروغ دینے  اور اسے  بڑے پیمانے پر اپناتے  ہوئے معاشرے کو لاحق خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انڈیا اے آئی مشن کے تحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس میں کمپیوٹ اور ڈیٹا سیٹس تک بہتر رسائی، بنیادی ماڈلز کی ترقی، اے آئی ایپلی کیشنز کی تعیناتی(نفاذ)، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی)، بہتر ڈیٹا شیئرنگ، اور حفاظتی جانچ شامل ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے، توسیع پذیر بنیادی ڈھانچے میں مسلسل سرمایہ کاری، کمپیوٹ اور ڈیٹا تک مساوی رسائی، اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔

بنیادی اے آئی انفراسٹرکچر ایکو سسٹم

کمیٹی مزید سفارس کرتی ہے:

  • انڈیا اے آئی مشن (ہدف: 100,000) کے تحت 38,000 سے زیادہ جی پی یوز کو انڈیا اے آئی کمپیوٹ پورٹل کے ذریعے سبسڈی والی رسائی حاصل ہے ۔
  • اے آئی کوش 9,500 سے زیادہ ڈیٹا سیٹس اور 273 سیکٹر ماڈلز کی میزبانی کر رہا ہے ۔
  • نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن (40 + پیٹا فلاپ مشینیں) بشمول ایراوت اور پرم سدھی-اے آئی ۔
  • ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے ساتھ اے آئی انضمام جاری ہے ۔
  • انڈیا اے آئی مشن اور بنیادی ڈھانچے اور کمپیوٹ رسائی کے ذریعے اے آئی کو اپنانے میں حکومتوں کی مدد کرنا ۔
  • مضبوط ڈیٹا گورننس اور پورٹیبلٹی معیارات کے ذریعے ڈیٹا کی دستیابی اور اشتراک کو بہتر بنانا ۔
  • ثقافت کے مطابق اے آئی ماڈل بنانے کے لیے مقامی سطح پر کام کے ڈیٹا سیٹس کو فروغ دیں ۔
  • تشخیصی ڈیٹا سیٹوں تک رسائی کو یقینی بنانا اور اے آئی کی تعیناتی (نفاذ)اور حفاظتی جانچ کے لیے حساب لگانا ۔
  • اسکیل ایبل اور جامع تعیناتی(نفاذ) کو فعال کرنے کے لیے ڈی پی آئی کے ساتھ اے آئی کو مربوط کرنا ۔

 

ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کیا ہے؟

ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) ایک ایسا بنیادی ڈیجیٹل نظام ہے جو قابلِ رسائی، محفوظ اور باہمی طور پر قابلِ عمل ہوتا ہے اور اہم عوامی خدمات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
اس کی نمایاں مثالوں میں آدھار، یو پی آئی، ڈیجی لاکر، گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس، اُمنگ اور پی ایم گتی شکتی شامل ہیں۔

2۔ صلاحیت سازی

ہندوستان نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت سازی کے لیے متعدد اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن میں انڈیا اے آئی فیوچر اسکلز، فیوچر اسکلز پرائم اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق پروگرامز شامل ہیں۔ یہ اقدامات اے آئی کے لیے تیار افرادی قوت کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آ رہی ہے، ان کوششوں کو مزید وسعت دینا جامع ترقی اور زیادہ سے زیادہ شمولیت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
چھوٹے کاروباروں اور عام شہریوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی اور عملی تجربے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ، سرکاری شعبے میں تکنیکی صلاحیت کو مضبوط کرنا موثر خریداری، رسک مینجمنٹ اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی ذمہ دارانہ تعیناتی(نفاذ) کے لیے نہایت اہم ہے۔

موجودہ اے آئی انسانی وسائل اور اختراعی صلاحیت

کمیٹی مندرجہ ذیل سفارشات کرتی ہے:

انڈیا اے آئی ، فیوچر اسکلز جیسے جاری اقدامات 500 پی ایچ ڈی ، 5,000 پی جی ، 8,000 یو جی کی مدد کر رہے ہیں ۔
اے آئی ڈیٹا لیبز نیٹ ورک میں ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں 570 لیبز ہیں جو ڈیٹا اینوٹیشن ، کیوریشن اور اپلائیڈ اے آئی مہارتوں کی تربیت کے ذریعے زمینی سطح پر اے آئی کی صلاحیتیں تیار کرتی ہیں ۔
مصنوعی ذہانت سے وابستہ نصاب کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت مربوط کیا گیا ہے ۔
27 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں + 174 آئی ٹی آئی میں بنائے گئے 27 انڈیا اے آئی ڈیٹا اور اے آئی لیبز کو منظوری دی گئی ۔
بڑے پیمانے پر اے آئی لٹریسی کے لیے یووا اے آئی فار آل کا مفت بنیادی کورس شروع کیا گیا ۔

باقاعدہ تربیتی پروگراموں اور بیداری مہموں کے ذریعے اے آئی کے بارے میں عوامی بیداری اور اعتماد بڑھائیں ۔
باخبر خریداری اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے استعمال میں مدد کے لیے سرکاری اہلکاروں اور ریگولیٹرز کو تربیت دینا ۔
اے آئی کی وجہ سے ہونے والے جرائم کا پتہ لگانے اور ان سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ۔
پیشہ ورانہ اداروں اور درجے-2 اور درجے-3 کے شہروں میں اے آئی ہنر مندی کی کوششوں کو بڑھانا ۔

 

3۔پالیسی اور ضابطے

اے آئی گورننس کے نقطۂ نظر کا مقصد اختراع، اپنانے اور تکنیکی ترقی کو فروغ دینا ہے، جبکہ اس امر کو بھی یقینی بنانا ہے کہ اے آئی ویلیو چین کے دوران افراد اور معاشرے کو لاحق ممکنہ خطرات کو کم سے کم رکھا جائے۔

موجودہ قانونی فریم ورکجس میں آئینی دفعات، قوانین، قواعد و ضوابط اور مختلف شعبوں سے متعلق رہنما خطوط شامل ہیں، مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیٹا پروٹیکشن، دانشورانہ املاک، مقابلہ، میڈیا، روزگار، صارفین کا تحفظ اور فوجداری قانونکے جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اے آئی سے وابستہ متعدد خطرات کو موجودہ قوانین کے دائرۂ کار میں مؤثر طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، اے آئی نظاموں سے متعلق ممکنہ ریگولیٹری خلا کی نشاندہی کے لیے متعلقہ قوانین کا جامع اور فوری جائزہ نہایت ضروری ہے۔ ان میں خاص طور پر اے آئی ویلیو چین میں درجہ بندی اور ذمہ داری کے مسائل، اے آئی کی تیاری میں ڈیٹا پروٹیکشن اصولوں کا اطلاق، جنریٹو اے آئی کے غلط استعمال، مواد کی تصدیق اور اصلیت سے متعلق چیلنجز، اے آئی کی تربیت میں کاپی رائٹ شدہ مواد کا استعمال اور حساس شعبوں میں سیکٹر سے متعلق خطرات شامل ہیں۔

اگرچہ ان میں سے بعض مسائل پر پہلے ہی بین وزارتی مشاورت، ضابطہ سازی اور ماہر کمیٹیوں کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقیبالخصوص بڑھتی ہوئی خود مختار نظاموں کے تناظر میں—ریگولیٹری فریم ورک کے لیے بروقت، مسلسل اور مستقبل کے لیے تیار رہنے کے حوالے سے سنجیدہ چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

ذمہ دار اے آئی کے لیے پالیسی کی بنیادیں۔

کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے:

اے آئی خودمختاری ، کمپیوٹ تک رسائی کو جمہوری بنانے ، مقامی ماڈل کی ترقی اور ذمہ دار اے آئی صلاحیت سازی کے لیے انڈیا اے آئی مشن (2025)

آئی ٹی رولز ، 2021 اور موجودہ ڈیجیٹل قواعد و ضوابط کے اندر اے آئی سے متعلق نقصانات کے لیے بیس لائن انٹرمیڈیٹری ذمہ داری کا ڈھانچہ اور نفاذ کی ریڑھ کی ہڈی فراہم کرنے کے لیے ترمیم ۔

ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ، 2023 (ڈی پی ڈی پی ایکٹ) ذاتی ڈیٹا پروسیسنگ ، رضامندی اور مخلصانہ ذمہ داری کو منظم کرکے جوابدہانہ اور قانونی اے آئی تعیناتی(نفاذ) کی حمایت کرتا ہے ۔

اے آئی جنریٹڈ اور ڈیپ فیک مواد کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیٹری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2026 ۔

ایک متوازن ، چالاک اور اصول پر مبنی اے آئی گورننس فریم ورک اپنائیں جو موجودہ قوانین پر مبنی ہو ۔
اے آئی سے وابستہ خطرات اور ریگولیٹری خلا کی نشاندہی کرنے کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ لینا ۔
درجہ بندی ، ذمہ داری ، ڈیٹا کے تحفظ اور کاپی رائٹ کے مسائل کو صاف کرنے کے لیے ٹارگٹڈ قانون سازی میں ترامیم لانا ۔
مواد کی تصدیق ، ڈیٹا کی سالمیت ، سائبر سیکورٹی اور انصاف پسندی کے لیے مشترکہ معیارات اور معیارات تیار کریں ۔
ٹیکنالوجی اور پالیسی ماہر کمیٹی (ٹی پی ای سی) کے تعاون سے اے آئی گورننس گروپ (اے آئی جی جی) کے ذریعے ماہرین کی قیادت میں رہنمائی کو فعال کرنا
کنٹرول شدہ ماحول میں ابھرتی ہوئی اے آئی ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکسز کا استعمال ۔
اے آئی گورننس کے معاملات پر بین الاقوامی اور کثیرالجہتی مشغولیت کو مضبوط بنانا ۔
مستقبل کی اے آئی ترقیوں کے لیے ضابطے کو ذمہ دار رکھنے کے لیے افق اسکیننگ اور دور اندیشی کی مشقیں کریں ۔

4۔خطرے کو کم کرنا

پالیسی اور ریگولیٹری اصولوں کو عملی تحفظات میں تبدیل کرنے کے لیے خطرے کو کم کرنا ناگزیر ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے نظام کے سبب پیدا ہونے والے نقصانات کو روکا یا کم کیا جا سکے۔ چونکہ اے آئی نظام احتمالات پر مبنی، پیداواری، انکولی اور ایجنٹ کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ لوگوں، بازاروں اور معاشرے کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں یا موجودہ خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان خطرات میں اے آئی سے چلنے والی غلط معلومات کا غلط استعمال، سائبر حملے، غیر درست یا غیر نمائندہ ڈیٹا کے نتیجے میں تعصب اور امتیازی سلوک، ذاتی ڈیٹا کے استعمال میں شفافیت کی کمی، بازار کے ارتکاز اور جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ سے وابستہ منظم خطرات، اے آئی نظاموں پر کنٹرول کا نقصان، اور قومی سلامتی و اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات شامل ہیں۔

کمزور اور حاشیہ نشین طبقات کو ان نقصانات کا غیر متناسب طور پر زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے—بالخصوص بچے اور خواتین، جو استحصالی سفارشاتی نظاموں اور اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیکس کے زیادہ شکار بنتے ہیں۔ اگرچہ اے آئی خطرات کی درجہ بندی اور جانچ کے لیے عالمی اور ملکی سطح پر کوششیں جاری ہیں، تاہم ہندوستان کو حقیقی دنیا میں پیش آنے والے نقصانات کے تجرباتی شواہد پر مبنی ایک سیاق و سباق سے ہم آہنگ، جامع خطرہ تشخیصی فریم ورک کی ضرورت ہے۔

اے آئی سے متعلق واقعات کو منظم طریقے سے جمع، تجزیہ اور سیکھنے کے لیے ایک مربوط نظام قائم ہونے سے پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور اداروں کو نئے اور ابھرتے ہوئے خطرات کا بروقت اندازہ لگانے، مناسب حفاظتی اقدامات تیار کرنے اور تمام شعبوں میں جواب دہی کو یقینی بنانے میں مؤثر مدد ملے گی۔

موجودہ خطرے کی تخفیف

کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے:

انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی-ان) سائبر واقعے کے ردعمل ، ہم آہنگی اور حقیقی وقت میں خطرے سے متعلق ایڈوائزری کے لیے ایک قومی ایجنسی ہے ۔
سائبر کرائم سے مربوط اور جامع طریقے سے نمٹنے کے لیے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4 سی) بنایا گیا ہے ۔
نیشنل کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر پروٹیکشن سینٹر (این سی آئی آئی پی سی) اسٹریٹجک شعبوں میں اہم انفارمیشن انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے ایک نوڈل ادارہ ہے ۔
ریزرو بینک آف انڈیا ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا ، انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا وغیرہ ۔ سیکٹر ریگولیٹرز ہیں جو ڈومین مخصوص ٹیکنالوجی ، سائبر سیکیورٹی ، اور رسک مینجمنٹ کے اصولوں کو نافذ کرتے ہیں ۔
نیشنل سائبر کوآرڈینیشن سینٹر (این سی سی سی) ریئل ٹائم سائبر خطرے کی نگرانی اور حالات سے متعلق بیداری کو مضبوط کرتا ہے ، جبکہ ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ آف انڈیا (ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ، 2023 کے تحت) ڈیٹا پروٹیکشن کی تعمیل اور جواب دہی کے لیے قانونی نفاذ کے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے ۔

کمزور گروپوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہندوستان کے لیے مخصوص اے آئی رسک اسسمنٹ اور درجہ بندی فریم ورک کی تشکیل ۔
نقصانات کا سراغ لگانے اور نگرانی کو مطلع کرنے کے لیے ایک قومی ، وفاقی اے آئی واقعے کی رپورٹنگ کا نظام بنانا ۔
معیارات ، آڈٹ اور ترغیبات کے ذریعے رضاکارانہ خطرے کو کم کرنے کے فریم ورک کو فروغ دینا ۔
صحیح تکنیکی-قانونی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن کے لحاظ سے شفافیت ، انصاف پسندی اور سلامتی کو شامل کرنا ۔
حساس اور اہم شعبوں میں کنٹرول کے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے انسانی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو ضروری بنانا ۔

5 : جوابدہی

جوابدہی اے آئی گورننس کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تاہم اس کو مؤثر طور پر یقینی بنانا ایک مشکل چیلنج ہے۔ اگرچہ اے آئی سے وابستہ متعدد خطرات کو موجودہ قوانین کے تحت حل کیا جا سکتا ہے، لیکن ان قوانین کی مؤثریت کا دار و مدار پہلے سے واضح تعین اور بروقت نفاذ پر ہوتا ہے۔

فرموں کے لیے تعمیل کو یقینی بنانے کی خاطر مناسب ترغیبات اور دباؤ درکار ہوتے ہیں، جبکہ ریگولیٹرز کو تنظیمی طریقۂ کار اور اے آئی ویلیو چین کی گہری سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ رضاکارانہ فریم ورکس میں قانونی نفاذ کی کمی ہے، اور اس حوالے سے بھی کوئی واضح اتفاقِ رائے موجود نہیں کہ ڈویلپرز، تعینات کرنے والے اداروں اور اختتامی صارفین پر ذمہ داری کس طرح عائد کی جائے۔

اکثر صارفین کے پاس شکایات کے ازالے کے لیے آسان اور مؤثر طریقۂ کار دستیاب نہیں ہوتا، جبکہ اے آئی نظاموں کے ڈیزائن، ڈیٹا کے بہاؤ اور تنظیمی فیصلہ سازی میں شفافیت بھی محدود رہتی ہے۔ مزید برآں، اے آئی نظاموں کی ممکنہ اور موافقت پذیر نوعیت غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتی ہے، جس کے لیے ایسے گورننس نقطۂ نظر کی ضرورت ہے جو ذمہ دارانہ اختراع کے لیے گنجائش فراہم کرتے ہوئے موثر نفاذ کے ساتھ توازن قائم کرے۔

موجودہ جوابدہانہ اور تعمیل کے طریقہ کار

کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے:

آئی ٹی ایکٹ ، 2000 اے آئی ویلیو چین میں ڈیجیٹل انٹرمیڈیٹریز ، سائبر کرائمز اور پلیٹ فارم کی ذمہ داری کو کنٹرول کرنے والے بنیادی قانونی فریم ورک کا تعین کرتا ہے ۔
ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ، 2023 ، رضامندی پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ ، مخلصانہ ذمہ داریوں اور ذاتی ڈیٹا کو سنبھالنے والے اے آئی سسٹم کے لیے جواب دہی کے معیارات طے کرتا ہے ۔
آئی ٹی رولز ، 2021 اور آئی ٹی امینڈمنٹ رولز ، 2026 اے آئی اور مصنوعی مواد کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے لیے شکایات کے ازالے کے طریقہ کار اور تیزی سے ہٹانے کی ٹائم لائنز فراہم کرتے ہیں ۔

رہنمائی نوٹوں یا ماسٹر سرکلرز کے ذریعے ویلیو چین میں اے آئی پر موجودہ قوانین کے اطلاق کو واضح کرنا ۔
اے آئی اداکاروں کے کام ، خطرے اور مستعدی کے مطابق درجہ بند ذمہ داریوں اور واجبات کو نافذ کرنا ۔
شفافیت کی رپورٹوں ، آڈٹ اور خود تصدیق سمیت نفاذ اور جوابدگی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ۔
واضح فیڈ بیک لوپ اور بروقت حل کے ساتھ شکایات کے ازالے کے آسان طریقہ کار کو لازمی بنانا ۔
مؤثر ریگولیٹری نگرانی کو قابل بنانے کے لیے اے آئی ویلیو چین کی شفافیت کو بہتر بنانا ۔

 

 

6:ادارے

ہندوستان کے اے آئی گورننس فریم ورک کو ہم آہنگی پیدا کرنے اور اثرات کو مستحکم کرنے کے لیے ایک مربوط پوری حکومتکے نقطۂ نظر سے نمایاں فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس وقت ذمہ داریاں متعدد اداروں میں تقسیم ہیں، جو بین شعبہ جاتی ہم آہنگی اور اسٹریٹجک صف بندی کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

ایک مستقل بین ایجنسی میکانزم کے قیام سے قومی اے آئی حکمتِ عملی کی نگرانی، ابھرتے ہوئے خطرات کا بروقت اندازہ، عمل درآمد کے لیے رہنمائی اور ذمہ دارانہ اختراع کے فروغ میں مؤثر مدد مل سکتی ہے۔ اگرچہ ایم ای آئی ٹی وائی، سی ای آر ٹی-اِن اور آر بی آئی جیسے ادارے شعبہ جاتی سطح پر مخصوص کردار ادا کرتے ہیں، تاہم اے آئی پالیسی، سلامتی اور اخلاقیات سے متعلق تکنیکی مہارت کا قریبی انضمام خطرات کی تشخیص، رہنما خطوط کی تیاری اور صنعت کے ساتھ باخبر اور مؤثر مشغولیت کو ممکن بنائے گا۔

یہ ہم آہنگی نہ صرف داخلی نظم و نسق کو مضبوط کرے گی بلکہ ہندوستان کی ملکی اور بین الاقوامی اسٹریٹجک ترجیحات کے ساتھ اے آئی گورننس کی بہتر مطابقت بھی یقینی بنائے گی۔

اے آئی  گورننس کے لیے موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچہ

کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے:

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت اے آئی پالیسی بنانے کے لیے ایک اعلی ترین وزارت ہے ۔
نیتی آیوگ ہندوستان کی قومی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی تیار کرنے کا ایک اہم ادارہ ہے ، جو مصنوعی ذہانت کو اپنانے اور اختراع پر اسٹریٹجک وژن ، پالیسی ایڈوائزری سپورٹ اور کراس سیکٹرل کوآرڈینیشن کا تعین کرتا ہے ۔

پوری پالیسی کی ترقی کو مربوط کرنے اور اے آئی گورننس فریم ورک کو قومی ترجیحات اور اسٹریٹجک اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اے آئی گورننس گروپ (اے آئی جی جی) بنائیں ۔
اے آئی گورننس سے متعلق قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر اے آئی گورننس گروپ کو ماہر ان پٹ فراہم کرنے کے لیے ایک ٹیکنالوجی اور پالیسی ماہر کمیٹی (ٹی پی ای سی) بنائیں ۔
تحقیق کرنے ، مسودہ معیارات اور ان کی تشخیص کے میٹرکس اور جانچ کے طریقوں اور معیارات کو تیار کرنے ، بین الاقوامی اداروں ، قومی معیارات بنانے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے اور ریگولیٹرز اور صنعت کو تکنیکی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے انڈیا اے آئی کے سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کو ضروری وسائل فراہم کرنا ۔

مکمل حکومت کا نقطہ نظر

ایک مربوط فریم ورک جس کے تحت تمام متعلقہ وزارتیں، شعبہ جاتی ریگولیٹرز، معیاری ادارے اور سرکاری ادارے اے آئی پالیسی کی تشکیل، نفاذ اور نگرانی کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر اسٹریٹجک صف بندی کو یقینی بناتا ہے، نقل (دہرے پن) سے بچاتا ہے اور تمام شعبوں میں موثر ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔

حصہ سوم: ایکشن پلان

ایکشن پلان اے آئی گورننس کو ادارہ جاتی حیثیت دینے، خطرات میں کمی اور تمام شعبوں میں اس کے مسلسل نفاذ کے لیے ایک مرحلہ وار روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ یہ قلیل مدتی ترجیحات کو درمیانی اور طویل مدتی اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، تاکہ گورننس کے اصولوں کو ذمہ دار، قابلِ توسیع اور جامع نتائج میں ڈھالا جا سکے، اور ساتھ ہی تکنیکی پیش رفت اور ابھرتے ہوئے خطرات کے تقاضوں کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔

مختصر مدت

درمیانی مدت

طویل مدتی

  • ٹی پی ای سی اور اے آئی جی جی جیسے اہم گورننس اداروں کا قیام۔
  • عام معیارات شائع کریں (مثلاً مواد کی توثیق، ڈیٹا کی سالمیت، انصاف پسندی، سائبرسیکیوریٹی)
  • اس ایکشن پلان کے تحت گورننس فریم ورک اور سرگرمیوں کا مسلسل جائزہ اور نگرانی کریں۔
  • سیکٹرل ان پٹ کے ساتھ ہندوستان کے لیے مخصوص اے آئی خطرے کی تشخیص اور درجہ بندی کا فریم ورک تیار کریں۔
  • مقامی رپورٹنگ اور فیڈ بیک لوپس کے ساتھ قومی اے آئی  واقعات کے ڈیٹا بیس کو فعال کریں۔
  • ابھرتے ہوئے خطرات اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قوانین کو اپنانا۔
  • ریگولیٹری فرق کا تجزیہ کریں، مناسب قانونی ترامیم اور قواعد تجویز کریں اور ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینے اور خطرات کو کم کرنے کے لیے رضاکارانہ فریم ورک کو اپنائیں۔
  • ریگولیٹری خلا کو دور کرنے کے لیے، جیسا کہ ضرورت ہو، قوانین میں ترمیم کریں۔
  • عالمی سفارتی مصروفیات کو وسعت دیں اور معیارات کی ترقی میں تعاون کریں۔
  • تعمیل کی حمایت کے لیے قابل اطلاق ضوابط اور بہترین طریقوں کے ساتھ ایک ماسٹر سرکلر شائع کریں۔
  • ہائی رسک ڈومینز میں پائلٹ ریگولیٹری سینڈ باکس۔
  • مستقبل کے خطرات اور مواقع کی تیاری کے لیے افق اسکیننگ اور منظر نامے کی منصوبہ بندی کریں۔
  • اے آئی واقعات کے ڈیٹا بیس اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کے لیے بنیاد تیار کریں اور ذمہ داری کے واضح نظام تیار کریں۔
  • پالیسی اہل کاروں کے ساتھ اے آئی  کے ساتھ ڈی پی آئی  کے انضمام کی حمایت کریں۔
  • اے آئی  کے لیے بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو وسعت دیں۔
  • عوامی آگاہی کے پروگرام شروع کریں اور محفوظ اور قابل اعتماد ٹولز کو فعال کریں۔

اے آئی گورننس کے رہنما خطوط اس مقصد سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ وہ اداروں کو مضبوط بنانے، خطرات کا مؤثر نظم و نسق اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے اپنانے میں معاون ثابت ہوں، اور ساتھ ہی تمام شعبوں میں اختراع، اعتماد اور جواب دہی کو فروغ دے کر عملی اثرات مرتب کریں۔

قلیل مدت میں، مربوط ادارے، ہندوستان کے سیاق و سباق سے ہم آہنگ رسک فریم ورک، واقعات کی رپورٹنگ کے طریقۂ کار، رضاکارانہ تعمیل اور عوامی آگاہی کے اقدامات اعتماد اور حکمرانی کی صلاحیتوں کو مستحکم کریں گے۔
درمیانی مدت میں، مشترکہ معیارات، ریگولیٹری سینڈ باکسز، تازہ اور ہم آہنگ قوانین اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کا انضمام محفوظ اختراع اور آسان تعمیل کی حمایت کریں گے۔
طویل مدت میں، ہندوستان ایک متوازن، فرتیلے اور مستقبل کے لیے تیار اے آئی گورننس ایکو سسٹم کی تشکیل کرے گا، جس میں مضبوط جواب دہی، ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں لچک اور ذمہ دار اے آئی گورننس میں عالمی قیادت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

یہ تمام نتائج مل کر اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ہندوستان کا اے آئی ماحولیاتی نظام اختراعی، جامع اور لچکدار رہے، اور معاشرتی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تکنیکی پیش رفت کو بھی آگے بڑھاتا رہے۔

حصہ چہارم: صنعت اور ریگولیٹرز کے لیے عملی رہنما خطوط

اے آئی گورننس فریم ورک کو مسلسل اور ذمہ دارانہ انداز میں نافذ کرنے کے لیے، کمیٹی نے اے آئی نظاموں کی تیاری یا نفاذ میں شامل صنعتی فریقین کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی ہے، نیز سرکاری اداروں اور شعبہ جاتی ریگولیٹرز کے ذریعے پالیسی سازی اور نفاذ کے لیے واضح اصول متعین کیے ہیں۔

ان رہنما خطوط کا مقصد اختراع اور اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خطرات کو درست تناسب اور مناسب سیاق و سباق میں مؤثر طریقے سے نمٹایا جائے۔

 

کمیٹی تجویز کرتی ہے کہ ہندوستان میں اے آئی سسٹم کو تیار کرنے یا ان کی تعیناتی(نفاذ) میں ملوث کسی بھی شخص کو درج ذیل سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہئے۔

کمیٹی مختلف ایجنسیوں اور سیکٹرل ریگولیٹرز کے ذریعے ان کے متعلقہ ڈومینز میں پالیسی کی تشکیل اور نفاذ کی رہنمائی کے لیے درج ذیل اصول تجویز کرتی ہے۔

  • تمام ہندوستانی قوانین اور ضوابط کی تعمیل کریں، بشمول انفارمیشن ٹکنالوجی، ڈیٹا پروٹیکشن، کاپی رائٹ، صارفین کے تحفظ، خواتین، بچوں اور دیگر کمزور گروپوں کے خلاف جرائم جو کہ اے آئی  سسٹمز پر لاگو ہو سکتے ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں۔
  • کسی بھی مجوزہ اے آئی  گورننس فریم ورک کے دوہرے اہداف جدت، اپنانے اور ٹیکنالوجی کے فوائد کو معاشرے میں تقسیم کرنے کی حمایت کرنا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پالیسی آلات کے ذریعے ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔
  • متعلقہ ایجنسیوں یا سیکٹرل ریگولیٹرز کی طرف سے ایسا کرنے کے لیے کہا جانے پر قابل اطلاق قوانین اور ضوابط کی تعمیل کا مظاہرہ کریں۔
  • گورننس کے فریم ورک کو لچکدار اور چست ہونا چاہیے، اس طرح کہ یہ اسٹیک ہولڈر کے تاثرات کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً جائزے، نگرانی، اور دوبارہ ترتیب دینے کے قابل بنائے۔
  • رضاکارانہ اقدامات (اصول، ضابطے، اور معیارات) کو اپنانا، بشمول رازداری اور سلامتی کے حوالے سے؛ انصاف، شمولیت؛ غیر امتیازی سلوک؛ شفافیت اور دیگر تکنیکی اور تنظیمی اقدامات
  • خطرات کو کم کرنے کے لیے پالیسی آلات استعمال کرتے وقت، ریگولیٹرز کو ان چیزوں کو ترجیح دینی چاہیے جہاں حقیقی اور موجودہ نقصان ہو یا زندگی، معاش یا فلاح و بہبود کے لیے خطرہ ہو۔
  • شکایات کے ازالے کا ایک طریقہ کار بنائیں تاکہ اے آئی سے متعلقہ نقصانات کی رپورٹنگ کو ممکن بنایا جا سکے اور اس طرح کے مسائل کو مناسب وقت کے اندر حل کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • مجوزہ اے آئی  گورننس فریم ورک کو تعمیل سے متعلق بھاری تقاضوں سے گریز کرنا چاہیے (مثال کے طور پر، لازمی منظوری، لائسنس کی شرائط وغیرہ) جب تک کہ ضروری نہ سمجھا جائے۔
  • شفافیت کی رپورٹیں شائع کریں جو ہندوستانی تناظر میں افراد اور معاشرے کو پہنچنے والے نقصان کے خطرے کا اندازہ کرتی ہیں۔ اگر ان میں کوئی حساس یا ملکیتی معلومات ہیں، تو رپورٹس کو متعلقہ ریگولیٹرز کے ساتھ خفیہ طور پر شیئر کیا جانا چاہیے۔
  • مناسب ریگولیٹر یا ایجنسی کو اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کس قسم کا پالیسی انسٹرومنٹ سب سے زیادہ مفید، متعلقہ اور کم سے کم بوجھ والا ہے (مثال کے طور پر، انڈسٹری کوڈز، تکنیکی معیارات، مشورے، پابند اصول)۔
  • اے آئی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تکنیکی قانونی حلوں کا استعمال دریافت کریں، بشمول پرائیویسی بڑھانے والی ٹیکنالوجیز، مشین سے سیکھنے کی صلاحیتیں، الگورتھمک آڈیٹنگ سسٹم، اور خودکار تعصب کا پتہ لگانے کے طریقہ کار۔
  • ریگولیٹرز کو پرائیویسی، سائبرسیکیوریٹی، منصفانہ، شفافیت، وغیرہ کے ارد گرد پالیسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے تکنیکی قانونی طریقوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جہاں اس طرح کے پالیسی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔

ان عملی رہنما خطوط کا مقصد ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی مسلسل، قانونی اور ذمہ دارانہ ترقی اور نفاذ کی  معاونت فراہم کرنا ہے۔ صنعت کے لیے واضح توقعات متعین کرکے اور اسی کے مطابق ریگولیٹرز کے ذریعے پالیسی اقدامات کی رہنمائی کرتے ہوئے، ان رہنما خطوط کا ہدف تمام شعبوں میں اختراع اور اپنانے کو ممکن بنانا ہے، ساتھ ہی اعتماد، جواب دہی اور موثر رسک مینجمنٹ کو مضبوط کرنا ہے۔

نتیجہ

انڈیا اے آئی گورننس کے رہنما خطوط ایک عملی، متوازن اور فرتیلے فریم ورک کی پیشکش کرتے ہیں، جو ملک میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اپنانے کو فروغ دیتا ہے۔ سات رہنما اصولوںاعتماد پر مبنی بنیاد، عوام کو مقدم رکھنا، تحمل سے بالاتر اختراع، انصاف اور مساوات، جواب دہی، ڈیزائن کے ذریعے فہم، اور حفاظت، لچک و پائیداریپر قائم یہ فریم ورک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مصنوعی ذہانت جامع ترقی، اقتصادی پیش رفت اور عالمی مسابقت کے لیے ایک مؤثر محرک کے طور پر کام کرے، جبکہ ٹھوس اور شواہد پر مبنی حل کے ذریعے افراد اور معاشرے کو درپیش خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جائے۔

مربوط ادارہ جاتی قیادت کے تحت—جس میں الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت بطور نوڈل وزارت، اسٹریٹجک ہم آہنگی کے لیے اے آئی گورننس گروپ، ماہر مشاورت کے لیے ٹیکنالوجی و پالیسی ماہر کمیٹی، تکنیکی توثیق اور حفاظتی تحقیق کے لیے اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ، اور ڈومین مخصوص نفاذ کے لیے شعبہ جاتی ریگولیٹرز شامل ہیں—یہ فریم ورک اختراع کو فروغ دینے، عوامی اعتماد قائم کرنے اور عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام میں ہندوستان کو ایک ذمہ دار قائد کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

اس منظم اور مستقبل بین ڈھانچے کے ذریعے ہندوستان کا مقصد اے آئی فار آلکے وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے، تاکہ 2047 تک (وکست بھارت )ترقی یافتہ ہندوستان کی قومی امنگوں میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کلیدی کردار ادا کرے، اور اس کے فوائد محفوظ، جامع اور پائیدار انداز میں ہر شہری تک پہنچ سکیں۔

حوالہ جات

پریس انفارمیشن بیورو :

 

اردو پی ڈی ایف

***

UR-2485

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2228424) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati