ریلوے کی وزارت
ہندوستانی ریلوے نے جدید کاری کے عمل کے ساتھ ساتھ مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے، 2013-14 میں 39,200 کروڑ روپے سے حفاظتی اخراجات میں مسلسل اضافہ کیا اور ایک دہائی کے دوران انہیں تقریباً تین گنا بڑھا کر مالی سال 2025-26 میں 1,17,693 کروڑ روپے تک پہنچا دیا
ہندوستانی ریلوے کے تمام گولڈن کواڈری لیٹرل ، گولڈن ڈائیگنل ، ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک اور شناخت شدہ حصوں کا احاطہ کرتے ہوئے 23,360 (آر کے ایم )روٹ کلومیٹر پر ٹریک سائیڈ کاوچ کا نفاذ
پورے ریلوے نیٹ ورک میں مسافروں کی سلامتی اور تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے 12,300 کوچوں اور 460 انجنوں کو سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 FEB 2026 6:06PM by PIB Delhi
ہندوستانی ریلوے میں حفاظت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اختیار کیے گئے مختلف حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ریلوے حادثات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ہندوستانی ریلوے میں حفاظت سے متعلق سرگرمیوں پر ہونے والے اخراجات میں گزشتہ برسوں کے دوران درج ذیل اضافہ ہوا ہے:
|
حفاظت سے متعلق سرگرمیوں پر اخراجات/بجٹ (رقم کروڑ روپے میں)
|
|
2013-14
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
39,200
|
87,336
|
1,01,662
|
1,14,022
|
1,17,693
|
کاوچ کا نفاذ
i. کاوچ ایک مقامی طور پر تیار کردہ آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن (اے ٹی پی) نظام ہے۔ یہ ایک جدید، اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے، جس کے لیے اعلیٰ ترین درجے (ایس آئی ایل4 ) کی حفاظتی تصدیق درکار ہوتی ہے۔
ii. کاوچ، لوکو پائلٹ کی جانب سے رفتار کی مقررہ حد پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بریک کے خودکار اطلاق کے ذریعے ٹرین کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ خراب موسمی حالات کے دوران بھی ٹرینوں کے محفوظ آپریشن کو یقینی بناتا ہے۔
iii. مسافر ٹرینوں پر کاوچ کے پہلے فیلڈ ٹرائل کا آغاز فروری 2016 میں کیا گیا۔ آزاد حفاظتی جانچ کار (آئی ایس اےٌؤ) کی جانب سے حاصل شدہ تجربے اور نظام کی آزاد حفاظتی جانچ کی بنیاد پر، 2018-19 کے دوران تین فرموں کو کاوچ ورژن 3.2 کی فراہمی کے لیے منظوری دی گئی۔
iv. جولائی 2020 میں کاوچ کو قومی آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن نظام کے طور پر اختیار کر لیا گیا۔
کاوچ نظام کے نفاذ میں شامل کلیدی سرگرمیاں
- ہر اسٹیشن اور بلاک سیکشن پر اسٹیشن کاوچ کی تنصیب
- پورے ٹریک پر آر ایف آئی ڈی ٹیگز کی تنصیب
- متعلقہ سیکشنز میں ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب
- ٹریک کے ساتھ آپٹیکل فائبر کیبل بچھانا
- ہندوستانی ریلوے میں چلنے والے ہر انجن پر لوکو کاوچ کی فراہمی
v. جنوبی وسطی ریلوے میں 1,465 روٹ کلومیٹر پر کاوچ ورژن 3.2 کی تعیناتی کی گئی، جس سے حاصل شدہ تجربے کی بنیاد پر مزید بہتری لائی گئی۔ بالآخر، آر ڈی ایس او نے 16 جولائی 2024 کو کاوچ کی وضاحتوں کے ورژن 4.0 کی منظوری دی۔
vii. کاوچ ورژن 4.0 متنوع ریلوے نیٹ ورک کے لیے درکار تمام اہم خصوصیات کا احاطہ کرتا ہے اور یہ ہندوستانی ریلوے میں حفاظت کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ قلیل مدت میں ہندوستانی ریلوے نے اے ٹی پی نظام کو تیار کیا، اس کی جانچ کی اور اس کی تعیناتی کا آغاز کر دیا۔
viii. ورژن 4.0 میں نمایاں بہتریوں میں مقام کی درستگی میں اضافہ، بڑے یارڈز میں سگنل کے پہلوؤں سے متعلق بہتر معلومات، او ایف سی کے ذریعے اسٹیشن سے اسٹیشن کاوچ انٹرفیس، اور موجودہ الیکٹرانک انٹرلاکنگ نظام کے لیے براہِ راست انٹرفیس شامل ہیں۔ ان بہتریوں کے ساتھ، کاوچ ورژن 4.0 کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ix. وسیع اور جامع آزمائشوں کے بعد، کاوچ ورژن 4.0 کو 1,297 روٹ کلومیٹر پر کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے، جس میں دہلی–ممبئی اور دہلی–ہاوڑہ جیسے زیادہ کثافت والے راستے شامل ہیں۔ دہلی–ممبئی روٹ پر جنکشن کیبن–پلول–متھرا–ناگدا سیکشن (667 کلومیٹر) اور احمد آباد–وڈودرا–ویرار سیکشن (432 کلومیٹر) شامل ہیں، جبکہ دہلی–ہاوڑہ روٹ پر گیا–ساراماتانر (93 کلومیٹر) اور بردھمان–ہاوڑہ سیکشن (105 کلومیٹر) شامل ہیں۔
x. مزید برآں، جی کیو، جی ڈی، ایچ ڈی این اور ہندوستانی ریلوے کے دیگر شناخت شدہ حصوں سمیت 23,360 روٹ کلومیٹر پر ٹریک سائیڈ کاوچ کے نفاذ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
xi. دہلی–ممبئی اور دہلی–ہاوڑہ کوریڈور سمیت زیادہ کثافت والے راستوں پر کاوچ کے اہم اجزا کی پیش رفت جاری ہے۔
|
شمار نمبر
|
آئٹم
|
پیش رفت
|
|
i
|
آپٹیکل فائبر کیبل بچھانا
|
8570 کلومیٹر
|
|
ii
|
ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب
|
938 عدد
|
|
iii
|
اسٹیشن ڈیٹا سینٹر
|
767 اسٹیشن
|
|
iv
|
ٹریک سائیڈ آلات کی تنصیب
|
5672 آر کے ایم (روٹ کلو میٹر)
|
|
v
|
انجنوں میں کاوچ کی فراہمی
|
4154
|
xii. الیکٹرک انجنوں کو کاوچ ورژن 4.0 سے لیس کرنے کے لیے ٹینڈر کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ 2,679 ڈیزل انجنوں کو لیس کرنے کے لیے ایک اور ٹینڈر کو حتمی مرحلے میں لایا جا رہا ہے۔
xiii. متعلقہ عملے کی تربیت کے لیے ہندوستانی ریلوے کے مرکزی تربیتی اداروں میں کاوچ پر خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 48,000 سے زائد تکنیکی ماہرین، آپریٹرز اور انجینئروں کو کاوچ ٹیکنالوجی پر تربیت دی جا چکی ہے، جن میں تقریباً 45,000 لوکو پائلٹ اور اسسٹنٹ لوکو پائلٹ شامل ہیں۔ یہ کورسز آئی آر آئی ایس ای ٹی کے اشتراک سے تیار کیے گئے ہیں۔
xiv. کاوچ کے اسٹیشن آلات سمیت ٹریک سائیڈ سازوسامان کی فراہمی پر لاگت تقریباً 25 کروڑ روپے فی کلومیٹر ہے، جبکہ انجنوں پر کاوچ آلات کی تنصیب کی لاگت تقریباً 80 لاکھ روپے فی لوکو ہے۔
xv. 25 دسمبر تک کاوچ منصوبے پر خرچ کیے گئے فنڈز کی مجموعی رقم 2,573.36 کروڑ روپے ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس مد میں 1,673.19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کام کی پیش رفت کے مطابق مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
کوچوں اور انجنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب
مسافروں کی حفاظت اور تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے مقصد سے ہندوستانی ریلوے نے کوچوں اور انجنوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان کیمروں سے بدانتظامی، توڑ پھوڑ اور چوری جیسی سرگرمیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ کسی بھی واقعے کی مؤثر تفتیش میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
اس سلسلے میں، زونل ریلوے اور پروڈکشن یونٹس نے کوچوں اور انجنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری اور تنصیب کے لیے ضروری کارروائی شروع کر دی ہے۔
اب تک تقریباً 12,300 کوچ — جن میں وندے بھارت اور امرت بھارت ٹرینوں کے تمام آپریشنل ریک شامل ہیں — اور 460 انجن، جو ہندوستانی ریلوے نیٹ ورک پر چل رہے ہیں، سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس کیے جا چکے ہیں۔
یہ معلومات آج ریلوے، اطلاعات و نشریات، اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
****
UR-2403
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2227780)
وزیٹر کاؤنٹر : 12