بھاری صنعتوں کی وزارت
بیٹری کے خام مال کے لیے گھریلو ماحولیاتی نظام کی ترقی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 FEB 2026 5:04PM by PIB Delhi
بھاری صنعتوں کی وزارت ،پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو)پی ایل آئی ) اسکیم کا انتظام کر رہی ہے، جسے ’’نیشنل پروگرام آن ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل(اے سی سی) بیٹری اسٹوریج‘‘ کے نام سے مئی 2021 میں منظور کیا گیا تھا اور اس کا کل خرچ 18,100 کروڑ روپے ہے تاکہ ملک میں 50 گیگا واٹ کی ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل کی مینوفیکچرنگ صلاحیت قائم کی جا سکے۔
اس اسکیم کا مقصد بھارت کی درآمد شدہ اے سی سی پر انحصار کو کم کرنا، ملک کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط کرنا اور بڑے گھریلوو بین الاقوامی بڑی اور اہم کمپنیوں کو ترغیب دینا ہے تاکہ ملک میں عالمی معیار کا اے سی سی بیٹری مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام قائم ہو سکے۔ تاہم، موجودہ وقت میں گھریلو مانگ زیادہ تر درآمدات کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔
اس اقدام نے بھارتی سیل مینوفیکچررز کو سیل مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کے لیے ایک محرک کا کام کیا ہے۔ پی ایل آئی اے سی سی اسکیم کے درخواست دہندگان کے علاوہ، کم از کم 10 مینوفیکچررز نے اگلے پانچ سالوں میں ملک میں مجموعی طور پر تقریباً 178 گیگا واٹ کی صلاحیت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس اسکیم نے کیتھوڈ ایکٹو میٹریلز، اینوڈ ایکٹو میٹریلز، فائلز وغیرہ جیسے اجزاء کی مانگ میں اضافہ کیا ہے اور بھارتی مینوفیکچررز نے اجزاء کی مینوفیکچرنگ اور ری سائیکلنگ یونٹس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ وزارتِ کان کنی کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، وزارتِ کان کنی نیشنل کرٹیکل منرل مشن(این سی ایم ایم) نافذ کر رہی ہے، جسے29 جنوری 2025 کو منظور کیا گیا تھا، تاکہ اہم معدنیات کی طویل مدتی اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور بھارت کی اہم معدنیات کی ویلیو چین کو مضبوط کیا جا سکے، جو معدنیات کی تلاش اور کان کنی سے لے کر بہتری(بینی فسی ایشن)، پراسیسنگ اور اختتامی مصنوعات سے بازیابی کے تمام مراحل کو شامل کرتی ہے۔
یہ معلومات بھاری صنعتوں کے وزیر مملکت، جناب بھوپتی راجو سری نواس ورما نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
****
(ش ح۔ ش ت ۔ ش ب ن)
U- 2377
(ریلیز آئی ڈی: 2227719)
وزیٹر کاؤنٹر : 5