|
قانون اور انصاف کی وزارت
عدالتوں کا ڈیجیٹائزیشن
ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کو ملک بھر میں مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام میں اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مضبوط بنانا ہے پروجیکٹ کا تیسرامرحلہ ہندوستانی عدالتوں کو ڈیجیٹل اور کاغذ سے پاک عدالتوں میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کرتا ہے، جس کے تحت سابقہ اور موجودہ مقدمات کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 FEB 2026 7:20PM by PIB Delhi
وزارت قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارت پارلیمنٹ کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ عدالتی نظام میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کو پورے ملک میں مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے ۔ ای-کورٹس پروجیکٹ فی الحال تیسرے مرحلے(2027-2023) میں ہے۔ جس کی مالی لاگت 7210 کروڑ روپے ہے ۔ پچھلے سال کے دوران ای-کورٹس پروجیکٹ نے ای-فائلنگ ، ای-ادائیگیوں کی توسیع ، ورچوئل اور ہائبرڈ سماعتوں کو اپنانے میں اضافہ ، عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ، کیس انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے ، اور نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی)وغیرہ کے ذریعے کیس کی معلومات تک عوام کی رسائی کو بڑھانے کے ذریعے مسلسل پیش رفت دیکھی ہے ۔ 31دسمبر 2025 تک ای کورٹس پروجیکٹ کے تحت کچھ اہم اقدامات اور حصولیابیاں درج ذیل ہیں:
- عدالتوں میں مجموعی طور پر 637.85 کروڑ صفحات پر مشتمل عدالتی ریکارڈ، بشمول سابقہ ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیے جا چکے ہیں۔ تاکہ ریکارڈ تک تیز تر رسائی، محفوظ ذخیرہ اندوزی اور ہموار ڈیجیٹل ورک فلو کو یقینی بنایا جا سکے۔
- ٹریفک چالانوں کی آن لائن سماعت کے لیے 29 ورچوئل عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ورچوئل عدالتوں کو 9.81 کروڑ چالان موصول ہوئے، جن میں سے 8.74 کروڑ نمٹا دیے گئے جبکہ 94.55 لاکھ چالانوں کی ادائیگی کی گئی، جن کی مجموعی مالیت 973.32 کروڑ روپے ہے۔
- ویڈیو کانفرنسنگ (وی سی)سہولیات کو 3,240 عدالتی کمپلیکسز اور 1,272 جیلوں تک توسیع دی گئی ہے۔ عدالتوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 3.93 کروڑ سے زائد سماعتیں کیں، جس سے زیرِ حراست ملزمان، گواہوں اور وکلاء کی دور دراز سے سماعت ممکن ہوئی۔
- عدالتی کارروائی کی براہِ راست نشریات کی سہولیات11 ہائی کورٹس میں فراہم اور فعال ہیں۔
- ای-فائلنگ اور ای-پیمنٹس نظام نافذ کیے جا چکے ہیں اور اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ تاکہ آن لائن مقدمات دائرکرنے اور عدالتی فیس و جرمانوں کی ڈیجیٹل ادائیگی ممکن ہو سکے۔اس کے تحت تقریباً 1.03 کروڑ مقدمات ای-فائلنگ پلیٹ فارم کے ذریعے دائر کیے گئے، جبکہ ای-پیمنٹس نظام کے ذریعے 1,234 کروڑ روپے عدالتی فیس اور جرمانوں کےمد میں 63 کروڑ روپے کا لین دین عمل میں آہا ہے۔
- نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) ملک بھر کی عدالتوں کے مقدماتی ڈیٹا اور اعداد و شمار تک عوامی رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسے بہتر ڈیش بورڈ کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے جو ایک مؤثر نگرانی کے آلے کے طور پر کام کرتا ہے۔ تاکہ مقدمات کے التوا کی نشاندہی، انتظام اور کمی ممکن ہو سکے۔
- سی آئی ایس4.0 تمام عدالتوں میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ جس میں بہتر استعمال کو یقینی بنانا، رازداری کے تحفظات اور قومی پلیٹ فارمز جیسے این جے ڈی جی، ای-فائلنگ، ورچوئل کورٹس اور آئی سی جے ایس کے ساتھ انضمام شامل ہے۔
- ایس3ایس اے اے ایس پلیٹ فارم 730 ضلعی عدالتوں کی ویب سائٹس کی میزبانی کر رہا ہے۔ جو محفوظ اور قابلِ رسائی ویب انفراسٹرکچر کو یقینی بناتا ہے۔
- ریئل ٹائم ڈیجیٹل خدمات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں ای-کورٹس پورٹل پر روزانہ 35 لاکھ ہٹس ریکارڈ کی جا رہی ہیں، جبکہ دسمبر 2025میں3 کروڑ سے زائد ایس ایم ایس اور 1 کروڑ سے زائد ای میلز جاری کی گئیں۔
- ای-کورٹس سروسز موبائل ایپ(3.5 کروڑ ڈاؤن لوڈز)وکلاء اور فریقین کو مقدمات کی حیثیت، کاز لسٹ وغیرہ سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔
- جسٹ آئی ایس ایپ(22,090 ڈاؤن لوڈز)ججزکے لیے ایک انتظامی آلہ ہے جو انہیں اپنے عدالتی امور کو مؤثر انداز میں منظم اور مانیٹر کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
- تمام ہائی کورٹس میں 48 ای-سیوا کیندراز اور ضلعی عدالتوں میں2,283 ای-سیوا کیندراز فعال ہیں اور خدمات کو یقینی بنا رہے ہیں۔
- نیشنل سروس اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانک پروسیسز(این ایس ٹی ای پی) نظام موبائل اور جی پی ایس سے فعال ترسیلی طریقہ کار کے ذریعہ سمن اور نوٹس کی الیکٹرانک ترسیل اور نگرانی کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ این ایس ٹی ای پی کے تحت عدالتوں نے 6.21 کروڑ ای-پروسیسزکا تصفیہ ہوا، جن میں سے 1.61 کروڑ کامیابی سے پہنچائے گئے۔
- ڈیجیٹل کورٹس 2.1 ایک مخصوص ایپلی کیشن ہے جو کاغذ سے پاک عدالتوں کے لیے تیار کی گئی ہے اور جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ترجمہ اور ٹرانسکرپشن کی سہولت موجود ہے۔ یہ ججز کو مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات، درخواستیں اور شواہد ڈیجیٹل طور پر دستیاب کرتی ہے، جو کاغذ سے پاک عدالتی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
عدالتوں میں ڈیجیٹائزیشن کے اقدامات کا مقصد عدالتی عمل کی کارکردگی ، شفافیت اور رسائی کو بہتر بنانا ہے ۔ اگرچہ کیس کو نمٹانے کا وقت متعدد عوامل پر منحصر ہے ، بشمول کیس کی پیچیدگی ، شواہد کی نوعیت ، فارنسک لیبز کی رپورٹوں میں تاخیر ، اہم شراکت کاروں جیسے بار ، تفتیشی ایجنسیوں ، گواہوں ، قانونی چارہ جوئی اور سماجی بدنما داغ اور تعصب ، عدالتی کام کا بوجھ وغیرہ ، ڈیجیٹلائزیشن نے کام کے بہاؤ کو ہموار کرنے ، فزیکل ریکارڈ پر انحصار کو کم کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے انصاف تک رسائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کی تفصیلات ، ہائی کورٹ کے لحاظ سے ، جیسا کہ ای کمیٹی کے ذریعہ فراہم کی گئیں معلومات ضمیمہ-I میں درج ہیں ۔
ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت ہائی کورٹس کو ہارڈ ویئر ، نیٹ ورکنگ ، کنیکٹیویٹی ، ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولیات اور متعلقہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی خریداری کے لیے مالی اور بنیادی ڈھانچے کی مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔ ہائی کورٹس عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے طور پر کام کرتی ہیں ، جو ہارڈ ویئر کی خریداری ، دیکھ بھال اور دیکھ بھال کے لیے ذمہ دار ہیں ۔ ای-کمیٹی ، سپریم کورٹ آف انڈیا پالیسی ان پٹ فراہم کرتی ہے ، جبکہ نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور تکنیکی مدد کو سنبھالتا ہے ۔ متعلقہ ہائی کورٹس سے موصول ہونے والے مطالبے کی بنیاد پر اور ای-کمیٹی ، سپریم کورٹ آف انڈیا کی سفارشات کے تابع پروجیکٹ کے تحت فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے ۔تیسرے مرحلےکے تحت جاری کردہ فنڈز کی ہائی کورٹ کے لحاظ سے تفصیلاتضمیمہ-II میں درج کی گئی ہیں ۔
مزید برآںضلعی اور ماتحت عدالتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کی بنیادی ذمہ داری ریاستی/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں (یو ٹی) کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ریاستوں/یو ٹیز کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم (سی ایس ایس)نافذ کر رہی ہے۔ 31 دسمبر 2025ء تک اس اسکیم کے آغاز سے اب تک ریاستوں/یو ٹیز کو 12,461.28 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ مالی سال 2026-2025کے دوران31 دسمبر 2025ء تک ریاستوں/یو ٹیز کو 409.87 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ 31 دسمبر 2025ء تک 22,683 عدالتی کمرے اور عدالتی افسران کے لیے 20,029 رہائشی یونٹس دستیاب ہیں۔ جن میں سے موجودہ مالی سال کے دوران 486 عدالتی کمرے اور 191 رہائشی یونٹس تعمیر کیے گئے ہیں۔
سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات کو باقاعدگی سے معیاری سیکورٹی پروٹوکولز کے نفاذ، کردار پر مبنی رسائی کنٹرول، استعداد کار بڑھانے کے اقدامات، محفوظ ہوسٹنگ ماحول اور اطلاعاتی سلامتی سے متعلق قابلِ اطلاق سرکاری رہنما خطوط کی تعمیل کے ذریعے دور کیا جاتا ہے۔ قومی سطح پر ای-کورٹس ایپلی کیشنز کو نیشنل انفارمیٹکس سینٹر(این آئی سی) کے کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کردہ سائبر سیکورٹی معیارات کے مطابق ہوسٹ کیا جاتا ہے۔ مزید برآں ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کی تکنیکی ٹیموں اور عملے کے لیے راشٹریہ رکشا یونیورسٹی کے تعاون سے سائبر سیکورٹی کے تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں ڈیجیٹل فارنسک، سیکورٹی آپریشنز سینٹر(ایس او سی) کی کارروائیاں اور حقیقی دنیا کے فرضی سائبر حملوں کے ذریعے واقعہ سے نمٹنے کی تربیت شامل تھی جس سے عملی تجربہ فراہم کیا گیا۔
پروجیکٹ کا مرحلہ سوم ہندوستانی عدالتوں کو ڈیجیٹل اور کاغذ سے پاک عدالتوں میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت سابقہ اور موجودہ مقدمات کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن،تمام عدالتوں، جیلوں اور منتخب اسپتالوں تک ویڈیو کانفرنسنگ کی توسیع، ٹریفک خلاف ورزیوں سے آگے بڑھ کر آن لائن عدالتوں کا قیام، ای-فائلنگ اور ای-پیمنٹس نظام کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹلائز شدہ عدالتی ریکارڈ کے ذخیرے کے لیے کلاؤڈ پر مبنی ڈیٹا ریپوزٹری کا قیام اور مقدمات کے تجزیے اور پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (او سی آر) جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا نفاذ شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای-کمیٹی کی رہنمائی میں مرحلہ وار نافذ کیے جا رہے ہیں۔
ضمیمہ-I
31 دسمبر2025 تک ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کی تفصیلات:
|
نمبرشمار
|
ہائی کورٹ
|
ہائی کورٹ میں کل صفحات کو ڈیجیٹائز کیا گیا
|
ضلعی عدالتوں میں کل صفحات کو ڈیجیٹل کیا گیا
|
| |
|
1
|
الہ آباد
|
57,74,41,007
|
1,68,69,63,743
|
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
3,41,11,865
|
17,28,50,732
|
|
|
3
|
بمبئی
|
8,90,63,956
|
22,07,485
|
|
|
4
|
کلکتہ
|
5,95,17,135
|
0
|
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
24,26,800
|
1,91,84,603
|
|
|
6
|
دہلی
|
23,46,18,073
|
10,48,83,922
|
|
|
7
|
گوہاٹی - اروناچل پردیش
|
5,06,407
|
1,26,322
|
|
|
8
|
گوہاٹی - آسام
|
2,97,53,593
|
15,58,31,203
|
|
|
9
|
گوہاٹی - میزورم
|
12,31,287
|
20,97,820
|
|
|
10
|
گوہاٹی - ناگالینڈ
|
0
|
0
|
|
|
11
|
گجرات
|
16,98,629
|
11,64,409
|
|
|
12
|
ہماچل پردیش
|
79,15,775
|
11,81,757
|
|
|
13
|
جموں و کشمیر اور لداخ
|
4,11,76,756
|
2,50,11,814
|
|
|
14
|
جھارکھنڈ
|
3,01,84,408
|
96,24,854
|
|
|
15
|
کرناٹک
|
5,14,20,668
|
4,63,47,270
|
|
|
16
|
کیرالہ
|
8,17,95,531
|
1,71,13,720
|
|
|
17
|
مدھیہ پردیش
|
24,62,88,505
|
66,68,95,995
|
|
|
18
|
مدراس
|
20,76,93,848
|
13,16,62,142
|
|
|
19
|
منی پور
|
58,56,075
|
57,36,785
|
|
|
20
|
میگھالیہ
|
11,56,596
|
38,20,961
|
|
|
21
|
اڑیسہ
|
5,33,13,761
|
17,36,02,357
|
|
|
22
|
پٹنہ
|
2,40,49,339
|
2,39,56,123
|
|
|
23
|
پنجاب اور ہریانہ
|
29,46,04,020
|
62,82,06,241
|
|
|
24
|
راجستھان
|
13,44,36,567
|
3,50,10,815
|
|
|
25
|
سکم
|
11,73,135
|
54,15,378
|
|
|
26
|
تلنگانہ
|
12,85,86,477
|
7,61,42,250
|
|
|
27
|
تریپورہ
|
54,39,454
|
5,62,558
|
|
|
28
|
اتراکھنڈ
|
2,41,91,236
|
1,33,14,115
|
|
|
کل
|
2,36,96,50,903
|
4,00,89,15,374
|
|
(ماخذ: ای کمیٹی ، ایس سی آئی)
ضمیمہ-II
ہائی کورٹ کے لحاظ سے اور سال کے لحاظ سے ای-کورٹس پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کے تحت جاری کردہ فنڈز کی تفصیلات:
(کروڑ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
ہائی کورٹ
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
1
|
الہ آباد
|
95.87
|
51.78
|
119.92
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
25.44
|
31.74
|
15.81
|
|
3
|
بمبئی
|
69.54
|
83.19
|
92.41
|
|
4
|
کلکتہ
|
16.73
|
27.65
|
9.50
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
16.27
|
24.17
|
39.11
|
|
6
|
دہلی
|
17.89
|
48.19
|
17.90
|
|
7
|
گوہاٹی (اروناچل پردیش)
|
2.03
|
9.76
|
1.79
|
|
8
|
گوہاٹی (آسام)
|
24.97
|
33.85
|
3.65
|
|
9
|
گوہاٹی (میزورم)
|
3.12
|
6.22
|
1.99
|
|
10
|
گوہاٹی، کوہیما (ناگالینڈ)
|
1.79
|
3.91
|
3.41
|
|
11
|
گجرات
|
27.72
|
73.21
|
48.89
|
|
12
|
ہماچل پردیش
|
6.06
|
6.89
|
7.63
|
|
13
|
جموں و کشمیر اور لداخ
|
6.52
|
14.53
|
12.81
|
|
14
|
جھارکھنڈ
|
10.59
|
29.22
|
7.65
|
|
15
|
کرناٹک
|
32.37
|
67.40
|
48.22
|
|
16
|
کیرالہ
|
15.40
|
32.62
|
51.60
|
|
17
|
مدھیہ پردیش
|
22.90
|
77.31
|
48.58
|
|
18
|
مدراس
|
90.69
|
91.75
|
113.20
|
|
19
|
منی پور
|
11.12
|
7.54
|
2.16
|
|
20
|
میگھالیہ
|
3.33
|
8.50
|
3.83
|
|
21
|
اڑیسہ
|
6.77
|
53.24
|
16.09
|
|
22
|
پٹنہ
|
32.43
|
89.55
|
57.61
|
|
23
|
پنجاب اور ہریانہ
|
14.58
|
26.01
|
10.01
|
|
24
|
راجستھان
|
19.80
|
34.72
|
60.88
|
|
25
|
سکم
|
1.71
|
8.98
|
2.51
|
|
26
|
تلنگانہ
|
22.03
|
28.57
|
28.91
|
|
27
|
تریپورہ
|
0.53
|
7.05
|
8.79
|
|
28
|
اتراکھنڈ
|
13.68
|
19.95
|
29.57
|
|
|
کل
|
611.88
|
997.49
|
864.43*
|
* 9فروری 2026 تک
نوٹ: ہائی کورٹس کو جاری کردہ فنڈز کے علاوہ تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لئے این آئی سی کو 185.06 کروڑ روپے ، ڈبلیو اے این (وائڈ ایریا نیٹ ورک) کنیکٹوٹی کے لئے بی ایس این ایل کو 54.79 کروڑ روپے ، تبدیلی کے انتظام کے تحت ایس سی آئی کی ای کمیٹی کو 7.51 کروڑ روپے ، ای لرننگ پلیٹ فارم کی ترقی کے لئے آئی آئی ٹی مدراس کو 0.28 کروڑ روپے اور متفرق اخراجات (تنخواہ ، دفتری اخراجات ، تشہیر وغیرہ) کے لئے 9.42 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں ۔
***
ش ح۔م ح۔ ن م۔
U-2330
(ریلیز آئی ڈی: 2227400)
|