قانون اور انصاف کی وزارت
ضلع عدالتوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 FEB 2026 7:18PM by PIB Delhi
وزارت قانون اور انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کی وزارت میں وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ای۔کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کو عدالتی نظام میں اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مضبوط بنانے کے مقصد کے تحت مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔مرحلہ دوم (2023– 2015)، جس کی مالی لاگت 1670 کروڑ روپے تھی، شہریوں کو عدالتی خدمات کی فراہمی میں آئی سی ٹی کی سہولت پر مرکوز تھا۔ مرحلہ دوم کے تحت شامل اجزاء میں کمپیوٹر ہارڈویئر کی فراہمی، ضلعی اور ریاستی قانونی خدمات اتھارٹیز کی کمپیوٹرائزیشن، وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این)کنیکٹیویٹی، متعلقہ فریقین کی تربیت، ای سیوا کیندرا کا قیام، کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) سافٹ ویئر اور نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) شامل تھے۔اس مرحلے میں ڈیجیٹل فائلنگ اور آن لائن ادائیگیوں کے نظام بھی تیار کیے گئے۔ جس سے عدلیہ کے جانب سے فراہم کر جا رہی خدمات تک عوام کی رسائی کے عمل میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔
مرحلہ سوم (2027– 2023)، جس کی مالی لاگت 7,210 کروڑ روپے ہے۔ہندوستانی عدالتوں کو ڈیجیٹل اور کاغذ سے پاک عدالتوں میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت سابقہ اور موجودہ مقدمات کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، تمام عدالتوں، جیلوں اور منتخب اسپتالوں تک ویڈیو کانفرنسنگ کی توسیع، ٹریفک خلاف ورزیوں سے آگے بڑھ کر آن لائن عدالتوں کا قیام اور ای-فائلنگ و ای-پیمنٹس نظام کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔31 دسمبر 2025 تک ای۔کورٹس پروجیکٹ کے تحت کئے گئےچند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- عدالتوں میں مجموعی طور پر 637.85 کروڑ صفحات پر مشتمل عدالتی ریکارڈ، بشمول سابقہ ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیے جا چکے ہیں۔ تاکہ ریکارڈ تک تیز تر رسائی، محفوظ ذخیرہ اندوزی اور ہموار ڈیجیٹل ورک فلو کو یقینی بنایا جا سکے۔
- ٹریفک چالانوں کی آن لائن سماعت کے لیے 29 ورچوئل عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ورچوئل عدالتوں کو 9.81 کروڑ چالان موصول ہوئے، جن میں سے 8.74 کروڑ نمٹا دیے گئے جبکہ 94.55 لاکھ چالانوں کی ادائیگی کی گئی، جن کی مجموعی مالیت 973.32 کروڑ روپے ہے۔
- ویڈیو کانفرنسنگ (وی سی)سہولیات کو 3,240 عدالتی کمپلیکسز اور 1,272 جیلوں تک توسیع دی گئی ہے۔ عدالتوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 3.93 کروڑ سے زائد سماعتیں کیں، جس سے زیرِ حراست ملزمان، گواہوں اور وکلاء کی دور دراز سے سماعت ممکن ہوئی۔
- عدالتی کارروائی کی براہِ راست نشریات کی سہولیات11 ہائی کورٹس میں فراہم اور فعال ہیں۔
- ای-فائلنگ اور ای-پیمنٹس نظام نافذ کیے جا چکے ہیں اور اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ تاکہ آن لائن مقدمات دائرکرنے اور عدالتی فیس و جرمانوں کی ڈیجیٹل ادائیگی ممکن ہو سکے۔اس کے تحت تقریباً 1.03 کروڑ مقدمات ای-فائلنگ پلیٹ فارم کے ذریعے دائر کیے گئے، جبکہ ای-پیمنٹس نظام کے ذریعے 1,234 کروڑ روپے عدالتی فیس اور جرمانوں کےمد میں 63 کروڑ روپے کا لین دین عمل میں آہا ہے۔
- نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) ملک بھر کی عدالتوں کے مقدماتی ڈیٹا اور اعداد و شمار تک عوامی رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسے بہتر ڈیش بورڈ کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے جو ایک مؤثر نگرانی کے آلے کے طور پر کام کرتا ہے۔ تاکہ مقدمات کے التوا کی نشاندہی، انتظام اور کمی ممکن ہو سکے۔
- سی آئی ایس4.0 تمام عدالتوں میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ جس میں بہتر استعمال کو یقینی بنانا، رازداری کے تحفظات اور قومی پلیٹ فارمز جیسے این جے ڈی جی، ای-فائلنگ، ورچوئل کورٹس اور آئی سی جے ایس کے ساتھ انضمام شامل ہے۔
- ایس3ایس اے اے ایس پلیٹ فارم 730 ضلعی عدالتوں کی ویب سائٹس کی میزبانی کر رہا ہے۔ جو محفوظ اور قابلِ رسائی ویب انفراسٹرکچر کو یقینی بناتا ہے۔
- ریئل ٹائم ڈیجیٹل خدمات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں ای-کورٹس پورٹل پر روزانہ 35 لاکھ ہٹس ریکارڈ کی جا رہی ہیں، جبکہ دسمبر 2025میں3 کروڑ سے زائد ایس ایم ایس اور 1 کروڑ سے زائد ای میلز جاری کی گئیں۔
- ای-کورٹس سروسز موبائل ایپ(3.5 کروڑ ڈاؤن لوڈز)وکلاء اور فریقین کو مقدمات کی حیثیت، کاز لسٹ وغیرہ سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔
- جسٹ آئی ایس ایپ(22,090 ڈاؤن لوڈز)ججزکے لیے ایک انتظامی آلہ ہے جو انہیں اپنے عدالتی امور کو مؤثر انداز میں منظم اور مانیٹر کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
- تمام ہائی کورٹس میں 48 ای-سیوا کیندراز اور ضلعی عدالتوں میں2,283 ای-سیوا کیندراز فعال ہیں اور خدمات کو یقینی بنا رہے ہیں۔
- نیشنل سروس اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانک پروسیسز(این ایس ٹی ای پی) نظام موبائل اور جی پی ایس سے فعال ترسیلی طریقہ کار کے ذریعہ سمن اور نوٹس کی الیکٹرانک ترسیل اور نگرانی کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ این ایس ٹی ای پی کے تحت عدالتوں نے 6.21 کروڑ ای-پروسیسزکا تصفیہ ہوا، جن میں سے 1.61 کروڑ کامیابی سے پہنچائے گئے۔
- ڈیجیٹل کورٹس 2.1 ایک مخصوص ایپلی کیشن ہے جو کاغذ سے پاک عدالتوں کے لیے تیار کی گئی ہے اور جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ترجمہ اور ٹرانسکرپشن کی سہولت موجود ہے۔ یہ ججز کو مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات، درخواستیں اور شواہد ڈیجیٹل طور پر دستیاب کرتی ہے، جو کاغذ سے پاک عدالتی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
(b): ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت ملک بھر کی تمام ضلعی اور ماتحت عدالتوں کو مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے۔ اس پر عمل درآمد متعلقہ ہائی کورٹس کی جانب سے مقامی ضروریات اور تیاری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت شامل عدالتوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ۔I میں درج ہیں۔
(c): ریاست آندھرا پردیش میں ای-کورٹس پروجیکٹ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کی رہنمائی میں تمام ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ ریاست آندھرا پردیش میں مجموعی طور پر 649 عدالتیں ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت شامل ہیں، جن میں ضلع نیلور کی 40 عدالتیں بھی شامل ہیں۔
(d): ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے جامع تربیتی اور استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ تربیت قومی، ریاستی اور علاقائی سطح پر مشتمل چھ سطحی ماڈل کے تحت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ پورے نظام میں یکساں ڈیجیٹل تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای-کمیٹی نے 966 تربیتی پروگرام منعقد کیے اور جج صاحبان، مقدمہ باز فریقین، وکلاء اور عدالتی عملے سمیت 3.22 لاکھ متعلقہ افراد کو تربیت فراہم کی۔
ضمیمہ۔I
ای کورٹس پروجیکٹ کے تحت آنے والی عدالتوں کی تفصیلات ریاست کے لحاظ سے:
|
نمبر شمار
|
ریاستیں/مرکز کے زیر انتطام علاقے
|
ای کورٹس کے تحت عدالتوں کی تعداد
|
-
|
انڈمان اور نکوبار
|
9
|
-
|
آندھرا پردیش
|
649
|
-
|
اروناچل پردیش
|
20
|
-
|
آسام
|
416
|
-
|
بہار
|
2065
|
-
|
چندی گڑھ
|
29
|
-
|
چھتیس گڑھ
|
462
|
-
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
8
|
-
|
دہلی
|
712
|
-
|
گوا
|
65
|
-
|
گجرات
|
1103
|
-
|
ہریانہ
|
485
|
-
|
ہماچل پردیش
|
147
|
-
|
جموں و کشمیر
|
247
|
-
|
جھارکھنڈ
|
555
|
-
|
کرناٹک
|
1122
|
-
|
کیرالہ
|
590
|
-
|
لداخ
|
9
|
-
|
لکشدیپ
|
3
|
-
|
مدھیہ پردیش
|
1828
|
-
|
مہاراشٹر
|
2288
|
-
|
منی پور
|
47
|
-
|
میگھالیہ
|
66
|
-
|
میزورم
|
41
|
-
|
ناگالینڈ
|
26
|
-
|
اوڈیشہ
|
699
|
-
|
پڈوچیری
|
35
|
-
|
پنجاب
|
655
|
-
|
راجستھان
|
1603
|
-
|
سکم
|
42
|
-
|
تمل ناڈو
|
1317
|
-
|
تلنگانہ
|
570
|
-
|
تریپورہ
|
90
|
-
|
اتر پردیش
|
3321
|
-
|
اتراکھنڈ
|
266
|
-
|
مغربی بنگال
|
821
|
|
|
کل
|
22,411
|
(ماخذ:این جے ڈی جی پورٹل 09.02.2026 تک)
*****
(ش ح ۔م ح۔ن م(
U. NO.2331
(ریلیز آئی ڈی: 2227377)
وزیٹر کاؤنٹر : 5