وزارات ثقافت
ہندوستان میں فن اور ثقافت کے فروغ کے لیےکلا سنسکریتی وکاس یوجنا (کے ایس وی وائی)
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 FEB 2026 1:52PM by PIB Delhi
ثقافت کی وزارت کلا سنسکریتی وکاس یوجنا(کے ایس وی وائی) کو نافذ کر رہی ہے، جو متعدد مرکزی شعبوں کی اسکیموں پر مشتمل ایک جامع اسکیم ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں پرفن کی نمائش(فارمنگ آرٹس )کے شعبے میں کام کرنے والے اہل ثقافتی اداروں/افراد کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس میں درج فہرست ذات کے فنکار بھی شامل ہیں۔ ان اسکیموںکی مختصر تفصیل درج ذیل ضمیمہ میں درج ہے۔
کے ایس وی وائی ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ہے، اس میں ریاست بہ ریاست فنڈز مختص کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران کلا سنسکریتی وکاس یوجنا کے تحت مختص کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، بشمول درج فہرست ذات کے لیے خصوصی کمپونینٹ کےلیے منصوبے درج ذیل ہیں:
|
مالی سال
|
مختص کیے گئےفنڈز
(کروڑ روپے میں)
|
تقسیم کی گئی رقم
(کروڑ روپے میں)
|
|
2022-23
|
214.32
|
213.76
|
|
2023-24
|
218.65
|
218.36
|
|
2024-25
|
207.24
|
201.67
|
ضمیمہ
کلا سنسکرتی وکاس یوجنا (کے ایس وی وائی)
کلا سنسکرتی وکاس یوجنا (کے ایس وی وائی) ملک میں فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے وزارت ثقافت کے تحت ایک جامع اسکیم ہے۔اس کی درج ذیل ذیلی اسکیمیں ہیں، جس کے تحت ثقافتی تنظیموں/افراد کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے ۔
- گرو- ششیہ پرم پراکے فروغ کے لیے مالی امداد (ریپرٹری گرانٹ)
- فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے مالی امداد کی اسکیم
- فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے اسکالرشپ اور فیلوشپ کی اسکیم
- ٹیگور کلچرل کمپلیکس(ٹی سی سی ) کی تعمیر کے لیے مالی امداد
- معمر فنکاروں کے لیے مالی اعانت
- سیوا بھوج یوجنا
- نیشنل گاندھی ہیریٹیج سائٹ مشن
- نیشنل ایوارڈ اسکیم
ذیلی اسکیموں اور ان کے اجزاء کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے: -
- گروششیہ پرم پرا (ریپریٹری گرانٹ) کےفروغ کےلیےمالی مدد
اس اسکیم کے جزو کا مقصد فن کی نمائش کرنے والے فنکاروں کی سبھی طرح کی سرگرمیوں جیسے ڈرامائی گروپس،تھیٹر گروپس،میوزک اینسمبلز(سبھی طرح کے موسیقی کے گروپ)،بچوں کے تھیٹر وغیرہ کے لیے مالی مدد فراہم کرنا ہےاور گرو ششیہ پرم پرا کے مطابق فنکاروں کو ان کے متعلقہ گرو پ کے ذریعے باقاعدگی سے تربیت فراہم کرناہے۔ اس اسکیم کے مطابق تھیٹر،موسیقی اور رقص کے شعبے میں ایک گرو اور زیادہ سے زیادہ 18 ششیہ(شاگرد) کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔گرو کے لیے امداد کی رقم15000/- ؍روپے ماہانہ ہے اور ششیہ کے لیے فنکار کی عمر کے لحاظ یہ مدد 2000 سے 10000؍روپے ماہانہ ہے۔
.2 فن اورثقافت کےفروغ کےلیےمالی مدد:
اس اسکیم میں درج ذیل ذیل اجزاءہیں:
- قومی سطح پر موجود ثقافتی اداروں کو مالی معاونت
اس اسکیم کے جزو کا مقصد ملک بھر میں فن اور ثقافت کے فروغ میں شامل قومی سطح پر موجود ثقافتی اداروں کو فروغ دینا اور تعاون فراہم کرنا ہے۔ یہ امداد ایسے اداروں کو دی جاتی ہے جن کاانتظامی ڈھانچہ منظم ہو؛ ہندوستان میں رجسٹرڈ ہوں؛ ان کی سرگرمیاں ملک گیر پیمانے پر ہوں؛ مناسب عملہ موجود ہو؛ اور گزشتہ 5 برسوں میں سے 3 برسوں میں ثقافتی سرگرمیوں پر 1 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ خرچ کیا ہو۔ اس اسکیم کے تحت مدد کی رقم 1.00 کروڑ روپے ہے، جو خصوصی حالات میں 5.00 کروڑ روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
- ثقافتی فنکشن اور پروڈکشن گرانٹ(سی ایف پی جی)
اس اسکیم کے جزو کا مقصد این جی اوز، سوسائٹیز، ٹرسٹس، یونیورسٹیز وغیرہ کو سیمینارز، کانفرنسز، تحقیق، ورکشاپس، فیسٹیولز، نمائشیں، سمپوزیمز، رقص، ڈرامہ، تھیٹر، موسیقی وغیرہ کی پروڈکشن کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت گرانٹ کی رقم ایک ادارے کے لیے 5 لاکھ روپے ہے، جو خصوصی حالات میں 20 لاکھ روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
- ہمالیائی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے مالی معاونت
اس اسکیم کے جزو کا مقصد ہمالیہ کے ثقافتی ورثے کو تحقیق، تربیت اور آڈیو ویزوئل پروگرامز کے ذریعے فروغ اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ مالی معاونت ان ریاستوں میں موجود اداروں کو فراہم کی جاتی ہے جو ہمالیائی خطے میں آتی ہیں،جیسے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اترکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش وغیرہ۔ اس اسکیم کے تحت گرانٹ کی رقم ہر ادارے کے لیے 10 لاکھ روپے سالانہ ہے، جو خصوصی حالات میں 30 لاکھ روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
- بدھ/تبتی اداروں کے تحفظ اور فروغ کے لیے مالی معاونت
اس اسکیم کے جزو کے تحت مالی معاونت رضاکارانہ بدھ/تبتی اداروں کو فراہم کی جاتی ہے، جس میں مناستریز شامل ہیں، جو بدھ/تبتی ثقافت اور روایت کی تبلیغ اور سائنسی ترقی اور متعلقہ شعبوں میں تحقیق میں سرگرم ہیں۔ اس اسکیم کے تحت گرانٹ کی رقم ہر ادارے کے لیے 30 لاکھ روپے سالانہ ہے جو خصوصی حالات میں 1.00 کروڑ روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
- اسٹوڈیو تھیٹرز سمیت عمارتوں کے لیے مالی معاونت
اس اسکیم کے جزو کا مقصد این جی اوز، ٹرسٹس، سوسائٹیز، سرکاری معاونت والے ادارے، یونیورسٹیز، کالجز وغیرہ کو ثقافتی بنیادی ڈھانچہ (جیسے اسٹوڈیو تھیٹر، آڈیٹوریم، ریہرسل ہال، کلاس روم وغیرہ) کے قیام اور سہولیات جیسے الیکٹریکل، ایئر کنڈیشننگ، اکوسٹکس، لائٹ اور ساؤنڈ سسٹمز فراہم کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ گرانٹ میٹرو شہروں میں 50 لاکھ روپے اورغیر میٹرو شہروں میں 25 لاکھ روپے تک ہے۔
- ملکی فیسٹیولز اور میلے
اس اسکیم کا مقصد وزارت ثقافت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ’راشتریہ سنسکرتی مہوتسو‘ (آر ایس ایم ایز)کے انعقاد کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔ راشتریہ سنسکرتی مہوتسو زونل کلچرل سینٹرز(زیڈ سی سی ایز) کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں ملک بھر سے بڑی تعداد میں فنکار اپنی مہارت کا مظاہرہ کرنے کےلیے حصہ لیتے ہیں۔ نومبر 2015 سے اب تک وزارت ثقافت نے ملک میں چودہ (14) آر ایس ایم ایز کا انعقاد کیا ہے۔
.3ٹیگور کلچرل کمپلیکس (ٹی سی سی) کی تعمیر کے لیے مالی مدد
اس اسکیم کے جزو کا مقصد این جی اوز، ٹرسٹس، سوسائٹیز، سرکاری معاونت یافتہ ادارے، ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی یونیورسوینں، مرکزی/ریاستی حکومت کے ایجنسیاں/ادارے، میونسپل کارپوریشنز، باوقار غیر منافع بخش تنظیمیں وغیرہ کو نئے بڑے ثقافتی مراکز قائم کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے، جیسے کہ آڈیٹوریم جس میں اسٹیج پرفارمنس (رقص، ڈرامہ اور موسیقی)، نمائشیں، سیمینارز، ادبی سرگرمیاں، گرین روم وغیرہ کے لیے سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہو۔اس اسکیم کے جزو کے تحت موجودہ ثقافتی سہولیات (جیسے رابندر بھاونز، رنگشالاز) کی بحالی، تزئین و آرائش، توسیع، تبدیلی، اپ گریڈیشن اور جدید کاری کے لیے بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
اس اسکیم کے تحت کسی بھی منصوبے کے لیے مالی معاونت عام طور پر زیادہ سے زیادہ 15.00 کروڑ روپے تک ہوگی۔ مرکزی مالی معاونت کل منظور شدہ منصوبے کی لاگت کا 90؍فیصد ہوگی اور باقی 10؍فیصد کل منظور شدہ منصوبے کی لاگت متعلقہ ریاستی حکومت، این جی او یا متعلقہ ادارے برداشت کرے گا۔ شمال مشرقی ریاستوں(این ای آر) کے علاوہ، دیگر علاقوں میں مرکزی معاونت اور ریاستی حصے (میچنگ شیئر) کا تناسب 60:40 ہے۔
.4فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے اسکالرشپ اور فیلوشپ کی اسکیم: یہ اسکیم مندرجہ ذیل تین اجزاء پر مشتمل ہے:
- ثقافت کے شعبے میں نمایاں افراد کو فیلوزشپ فراہم کرنے کی اسکیم
ایک بیچ سال میں عمر کے لحاظ سے 25 سے 40 سال (جونیئر) اور 40 سال سے زیادہ (سینئر) بہترین افراد کو مختلف ثقافتی شعبوں میں ثقافتی تحقیق کے لیےدو سال کی مدت کے لیے بالترتیب ماہانہ 10,000/- روپے اور 20,000/- روپےکے حساب سےزیادہ سے زیادہ 400 فیلوزشپ (200 جونئر اور 200 سینئر) دی جاتی ہیں۔ فیلوزشپ کو چار یکساں اور چھ ماہ کی قسطوں میں جاری کیا جاتا ہے۔
- مختلف ثقافتی شعبوں میں نوجوان فنکاروں کے لیے اسکالرشپ کی اسکیم
ایک بیچ سال میں زیادہ سے زیادہ 400 اسکالرشپ فراہم کرائی جاتی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت18 سے25 سال کی عمر کے نوجوان فنکاروں کو ہندوستانی کلاسیکل موسیقی، ہندوستانی کلاسیکل رقص، تھیٹر، مائم، بصری فنون، لوک، روایتی اور مقامی فنون اور ہلکی کلاسیکل موسیقی وغیرہ میں ہندوستان کے اندر اعلیٰ تربیت کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اسکالرشپ ماہانہ 5,000/- روپے کی شرح سے دو برس کے لیے دی جاتی ہے اور اسے چار یکساں اور چھ ماہ کے قسطوں میں جاری کیا جاتا ہے۔
- ٹیگور نیشنل فیلوزشپ برائے ثقافتی تحقیق
اس اسکیم کے جزو کا مقصد وزارت ثقافت(ایم او سی) کے تحت مختلف اداروں اور ملک کے دیگر منتخب ثقافتی اداروں کوفعال اور مستحکم بنانا ہے، تاکہ اسکالرز/اکیڈیمیشن اپنے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے ان اداروں سے وابستہ ہوں۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 15 فیلوزشپ (80,000/- روپے ماہانہ پلس کونٹیجنسی الاؤنس) اور 25 اسکالرشپ (50,000/- روپے ماہانہ + کونٹیجنسی الاؤنس) دو سال کی زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے دی جاتی ہیں۔ فیلوزشپ کو چار یکساں اور چھ ماہ کے قسطوں میں جاری کیا جاتا ہے۔
5.معمر فنکاروں کے لیے مالی مدد
اس اسکیم کا مقصد 60 سال سے زیادہ عمر کے معمر فنکاروں اور اسکالرز کو زیادہ سے زیادہ ماہانہ 6000؍روپے تک مالی مدد فراہم کرنا ہے، جن کی سالانہ آمدنی72,000؍روپے سے زیادہ نہ ہو ۔ مستفیدکی موت کی صورت میں مالی امداد ان کے شریک حیات کو منتقل کر دی جاتی ہے ۔
6. سیوا بھوج یوجنا
’سیوا بھوج یوجنا‘ کے تحت چیری ٹیبل/مذہبی اداروں کی جانب سے عوام کو مفت خوراک تقسیم کرنے کے لیے مخصوص خوراک کی خام اشیاء کی خریداری پر ادا کیے گئے سنٹرل گڈز اینڈ سروسز ٹیکس(سی جی ایس ٹی) اور مرکزی حکومت کے حصے کا انٹیگریٹڈ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (آئی جی ایس ٹی) حکومت ہند کی جانب سےمالی معاونت کے طور پر واپس کیے جائیں گے۔
چیری ٹیبل/مذہبی اداروں جیسے گرو دواروں، مندروں، مذہبی آشرموں، مساجد، درگاہیں، چرچ، مٹھ، مناستریز وغیرہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت ’پرساد‘، مفت کھانا یا مفت ’لنگر‘ / ’بھنڈارا‘ (کمیونٹی کچن) اس اسکیم کے تحت شامل ہیں۔
ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
*********
ش ح۔م ع ن۔ت ا
U. NO : 2266
(ریلیز آئی ڈی: 2227169)
وزیٹر کاؤنٹر : 7