پنچایتی راج کی وزارت
منتخب خواتین نمائندگان کی پروکسی نمائندگی کے مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 2:39PM by PIB Delhi
آئینِ ہند کے ساتویں شیڈول کی سرکاری فہرست کے مطابق “پنچایت” بحیثیت مقامی حکومت ایک سرکاری ذمہ داری ہے۔ لہٰذا پنچایتی راج اداروں (پی آر آئیز) میں منتخب خواتین نمائندگان کے آزادانہ فیصلہ سازی کے اختیارات سے متعلق تمام امور ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
پنچایتی راج کی وزارت نے مالی سال23-2022 سے از سر نوتشکیل شدہ راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آرجی ایس اے) کے تحت ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ کی ہے، جس کا بنیادی مقصد تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پنچایتوں کی حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے منتخب نمائندگان، عہدیداران اور دیگر شراکت داروں کی صلاحیت سازی اور تربیت ہے۔آرجی ایس اے اسکیم کے تحت وزارت منتخب نمائندگان، عہدیداران اور پنچایتوں سے وابستہ دیگر شراکت داروں کی مختلف زمروں میں تربیت کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے، جن میں بنیادی تعارف اور ریفریشر تربیت، موضوعاتی تربیت، خصوصی تربیت، پنچایت ڈیولپمنٹ پلان (پی ڈی پی) کی تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ اس اسکیم کے تحت مالی سال 23-2022 سے مالی سال 26-2025 تک (31 دسمبر 2025 تک) مجموعی طور پر 28,60,585 منتخب خواتین نمائندگان (ڈبلیو ای آر ایس) کو تربیت دی جا چکی ہے۔
اس اسکیم کے تحت منتخب نمائندگان، عہدیداران اور پنچایتوں سے وابستہ دیگر شراکت داروں کی صلاحیت سازی اور تربیت مختلف زمروں میں معاونت کے ساتھ کی جاتی ہے، جیسے کہ بنیادی تعارف و ریفریشر تربیت، موضوعاتی تربیت، خصوصی تربیت اور پنچایت ڈیولپمنٹ پلان کی تربیت وغیرہ۔
وزارت نے پنچایتی راج اداروں کی منتخب خواتین نمائندگان کی صلاحیت سازی کے لیے “شَشکت پنچایت نیتری ابھیان” کے تحت ایک جامع خصوصی تربیتی ماڈیول کا آغاز کیا ہے۔ اس تربیتی ماڈیول کا مقصد منتخب خواتین نمائندگان کی دیہی حکمرانی کے مختلف پہلوؤں پر استعداد میں اضافہ کرنا، بطور منتخب نمائندہ اپنی ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی کے لیے علم، معلومات اور عملی مہارتوں کو فروغ دینا، نیز خواتین کی قیادت میں مؤثر حکمرانی کے لیے قائدانہ، ابلاغی، انتظامی اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا ہے۔ اس خصوصی ماڈیول کے تحت 31 دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 64,863 منتخب خواتین نمائندگان (ڈبلیو ای آر ایس) کو تربیت دی جا چکی ہے۔
مزید برآں، معزز سپریم کورٹ کی ہدایت پر پنچایتی راج کی وزارت نے ستمبر 2023 میں ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی تاکہ خواتین پردھان کی جگہ ان کے خاندان کے مرد افراد کی نمائندگی،پروکسی نمائندگی کے مسئلے اور اس سے متعلق دیگر امور کا جائزہ لیا جا سکے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ فروری 2025 میں وزارت کو پیش کی، جسے وزارت نے منظور کر لیا ہے۔
مشاورتی کمیٹی نے سفارش کی کہ ریاستی حکومتیں پنچایتی راج اداروں میں پروکسی قیادت کے خاتمے اور منتخب خواتین نمائندگان کے حقیقی طورپر بااختیار بنانے، خودمختاری اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں قانونی تحفظات، صلاحیت سازی، خواتین محتسب کی تقرری، عوامی حلف برداری، خواتین قائدین کی سرپرستی (مینٹورشپ)، سماجی آڈٹ اور تعزیراتی دفعات شامل ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت اور پنچایتی راج اداروں میں خواتین قیادت پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزارت نے 17 اپریل 2025 کو ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ المعروف للن سنگھ نے 11 فروری 2026 کو راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
******
ش ح ۔ م م ع ۔ م ا
Urdu No-2238
(ریلیز آئی ڈی: 2226881)
وزیٹر کاؤنٹر : 8