سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: عوامی فنڈ یافتہ تحقیقی اور ترقیاتی ادارے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 FEB 2026 5:02PM by PIB Delhi

حکومت بڑے عوامی فنڈ سے چلنے والے تحقیقی اداروں کی جانب سے تیار کی گئی اور صنعت کو منتقل کی گئی ٹیکنالوجیز کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار محفوظ رکھتی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کی تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔

حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر نے مرکزی طور پر مالی معاونت یافتہ تحقیق و ترقیاتی اداروں (غیر تزویراتی شعبوں میں) کی کارکردگی کے جائزے کے لیے دو مطالعات انجام دیے، جن میں دانشورانہ املاک اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی مختلف پیمانوں میں شامل تھیں۔ اس سلسلے میں ”ایویلیوایشن آف دی اِنویشن ایکسیلنس انڈیکیٹرز: رپورٹ آن پبلک فنڈڈ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشنز (راؤنڈ 1) اور (راؤنڈ 2)“ کے عنوان سے رپورٹس بالترتیب 2022 اور 2025 میں جاری کی گئیں۔ اس کام میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری اور سینٹر فار ٹیکنالوجی، اِنویشن اینڈ اکنامک ریسرچ نے علمی شراکت دار کے طور پر کردار ادا کیا۔ نیتی آیوگ کے ورکنگ پیپر نمبر WPS (NITI Aayog)/11/2025 بعنوان ”پبلک آر اینڈ ڈی انسٹی ٹیوٹس اِن انڈیا: مواقع برائے کثیر شعبہ جاتی اور نظامی انضمام“ میں 1,800 سے زائد عوامی آر اینڈ ڈی اداروں کا تشخیصی تجزیہ پیش کیا گیا، جس میں ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری میں موجود خلا کی نشاندہی کی گئی۔ تحقیق سے بازار تک منتقلی کو متاثر کرنے والے عوامل میں ادارہ-صنعت-حکومت روابط کی کمزوری، اداروں میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس کی عدم موجودگی اور سائنس دانوں و محققین کے لیے اطلاقی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے فقدان شامل ہیں۔ ان عوامل سے نمٹنے کے لیے حکومت نے متعدد ساختی، مالی اور پالیسی اصلاحات کا آغاز کیا ہے، جن کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے: -

  • ڈی ایس ٹی کے تحت قائم انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن نے مختلف پروگراموں کے ذریعے صنعت اور اکیڈمیا کے روابط کو مضبوط بنایا ہے۔ تعلیمی تحقیق اور منڈی کے لیے تیار مصنوعات کے درمیان خلا کو پُر کرنے کا ایک اہم طریقہ ٹیکنالوجی ریڈینس لیول کے مختلف مراحل پر منظم معاونت فراہم کرنا ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت اے این آر ایف بنیادی اور ابتدائی مرحلے کی تحقیق، یعنی ٹی آر ایل-4 تک کی معاونت کرتا ہے، جبکہ 1 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی فنڈ کے ساتھ شروع کی گئی آر ڈی آئی اسکیم ٹی آر ایل-4 سے اوپر کے منصوبوں کی مالی معاونت کرتی ہے تاکہ نمونہ جات کی تیاری، توسیع اور تجارتی کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ مربوط طریقۂ کار لیبارٹری کی تحقیق سے تجارتی طور پر قابلِ استعمال ٹیکنالوجیز تک ہموار منتقلی کو یقینی بناتا ہے اور ادارہ-صنعت-حکومت روابط کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ ڈی بی ٹی کے تحت بی آئی آر اے سی بھی اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان خلا کو کم کرنے کے لیے مخصوص اسکیموں جیسے بایوٹیکنالوجی اگنیشن گرانٹ اور بایونیسٹ کے ذریعے خصوصی معاونت فراہم کرتا ہے۔
  • اکیڈمیا، تحقیق و ترقیاتی لیبارٹریوں اور صنعت کے درمیان خلا کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس کے قیام اور مضبوطی کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ قومی دانشورانہ املاک پالیسی (2016) میں جامعات اور آر اینڈ ڈی اداروں میں ٹی ٹی او کے قیام پر زور دیا گیا تاکہ دانشورانہ املاک کی تجارتی کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ نیشنل ریسرچ ڈیولپمنٹ کارپوریشن تحقیق و ترقیاتی اداروں سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارتی کاری کو فروغ دیتا ہے اور بیج فنڈنگ، پیٹنٹ معاونت، ٹیکنالوجی کی توثیق اور لائسنسنگ کے ذریعے ٹی ٹی او کی حمایت کرتا ہے اور اکثر اختراعات کو تجارتی شکل دینے کے لیے ثالثی کردار ادا کرتا ہے۔ این آر ڈی سی کی کوششوں سے 5,000 سے زائد ٹیکنالوجی ٹرانسفر معاہدے ممکن ہوئے ہیں، جس سے تعلیمی تحقیق کو تجارتی کامیابی میں بدلنے میں مدد ملی ہے۔ اہم تکنیکی اداروں جیسے آئی آئی ٹی، این آئی ٹی اور سی ایس آئی آر کی لیبارٹریوں نے بھی لائسنسنگ اور تجارتی کاری کے امور سنبھالنے کے لیے ٹی ٹی او یا انٹلیکچوئل پراپرٹی مینجمنٹ سیل قائم کیے ہیں۔
  • حکومت اطلاقی تحقیق کے فروغ کے لیے مختلف ترغیبات فراہم کرتی ہے، جن میں براہِ راست گرانٹس، خصوصی فیلوشپس، بنیادی ڈھانچے کی معاونت اور ضابطہ جاتی سہولتیں شامل ہیں۔ بی آئی آر اے سی ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپ اور انفرادی سائنس دانوں کو پروف آف کانسیپٹ مرحلے تک پہنچنے کے لیے 50 لاکھ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اے این آر ایف کے تحت ٹرانسلیشنل ریسرچ اینڈ انویشن اقدام کے ذریعے اے ٹی آر آئی مراکز قائم کیے جائیں گے، جو ٹیکنالوجیز کو TRL 4 سے TRL 7 تک آگے بڑھانے میں مدد دیں گے، یوں لیبارٹری سے منڈی تک اختراع کے سلسلے کو مضبوط بنایا جائے گا۔

ہر ادارہ اپنی ادارہ جاتی مخزن یا ٹیکنالوجیز کی فہرست برقرار رکھتا ہے، جس میں وہ ٹیکنالوجیز بھی شامل ہوتی ہیں جو نفاذ کے لیے تیار ہیں اور وہ بھی جو زیرِ ترقی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری کے لیے عوامی تحقیقی اداروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی غرض سے متعلقہ محکموں کی جانب سے متعدد ادارہ جاتی طریقۂ کار، خصوصی اسکیمیں اور پروگرام وضع کیے گئے ہیں۔ اہم اقدامات کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں: -

  • کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں لیبارٹری اور ہیڈکوارٹر دونوں سطحوں پر مخصوص بزنس ڈیولپمنٹ گروپ کام کرتے ہیں۔ یہ گروپس اکیڈمیا اور صنعت کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں تاکہ باہمی دلچسپی اور تکمیلی مہارت کے شعبوں میں اشتراکی تحقیق کو فروغ دیا جا سکے، نیز سی ایس آئی آر کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز اور مصنوعات تک رسائی اور ان کے اختیار کو آسان بنایا جا سکے۔ ایم ایس ایم ای تک ٹیکنالوجی کی رسائی بڑھانے کے لیے سی ایس آئی آر نے لگھو ادیوگ بھارتی کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے۔ سی ایس آئی آر اپنی بعض لیبارٹریوں میں قائم انکیوبیشن مراکز کے ذریعے اسٹارٹ اپس کی معاونت بھی کرتا ہے، جہاں R&D کے لیے سائنسی مدد، نمونہ سازی کی سہولتیں، تجزیاتی پیمائشوں کے لیے R&D آلات کا استعمال، رہنمائی، مشاورتی خدمات، دانشورانہ املاک کی معاونت، اور صلاحیت سازی جیسی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
  • بی آر آئی سی-بی آئی آر اے سی انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس پروگرام محکمہ بایوٹیکنالوجی کی جانب سے شروع کیا گیا ایک تزویراتی اقدام ہے، جس کا مقصد بایوٹیکنالوجی میں اختراع کو فروغ دینا، ہم آہنگ کرنا اور تیز تر بنانا ہے۔ یہ پروگرام تحقیق گاہ سے منڈی تک کے خلا کو پُر کرنے کے لیے تحقیقی اداروں، اکیڈمیا، صنعت اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون کو سہل بناتا ہے، تاکہ بلند خطرے کی حامل جدید حیاتیاتی تحقیق کو قابلِ توسیع اور تجارتی حل میں بدلا جا سکے۔ ای آئی آر پروگرام نوجوان موجدین کو مالی معاونت اور وظیفہ، انکیوبیشن اور رہنمائی، مہارتوں کی ترقی، اور صنعت سے انضمام جیسی سہولتیں فراہم کر کے جدید حیاتیاتی تحقیق کو قابلِ عمل تجارتی حل میں تبدیل کرنے کے قابل بناتا ہے۔
  • ڈی ایس ٹی کے تحت نافذ کیا جانے والا نِدھی پروگرام ایک منظم، کثیر اجزائی نظام کے ذریعے تحقیقی اداروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے، جس کا مقصد لیبارٹری کی تحقیق کو تجارتی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔ ”اسٹارٹ ٹو اسکیل“ معاونت پر توجہ دیتے ہوئے، ندھی موجدین کو توثیق کے لیے صنعت اور مالی معاونت کے لیے سرمایہ کاروں سے جوڑتا ہے، یوں ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری میں حائل خلا کو پُر کرتا ہے۔

وزارت کے تحت عوامی فنڈ سے چلنے والے تحقیقی ادارے اور دیگر سرکاری تنظیمیں پہلے ہی پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، توانائی، صحتِ عامہ، نامیاتی کھیتی باڑی وغیرہ جیسے سماجی طور پر اہم شعبوں میں کم لاگت مقامی ٹیکنالوجیز تیار کر رہی ہیں۔ بھارت میں عوامی فنڈ سے چلنے والے R&D ادارے، جن کی قیادت بنیادی طور پر سی ایس آئی آر، ڈی بی ٹی، ڈی ایس ٹی، آئی سی اے آر، آئی سی ایم آر وغیرہ کر رہے ہیں، نے تحقیق کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مخصوص اسکیمیں اور پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ اختراعات لیبارٹریوں سے نکل کر عملی زندگی میں استعمال تک پہنچ سکیں۔ ان سماجی طور پر اہم شعبوں میں تیار کی گئی چند نمایاں ٹیکنالوجیز کی تفصیلات، جو وزارت کے تحت عوامی فنڈ سے چلنے والے R&D اداروں نے تیار کی ہیں، ضمیمہ-2 میں فراہم کی گئی ہیں۔

 

ضمیمہ 1

 

  1. Council of Scientific and Industrial Research (CSIR)

Sl. No

Year

Technologies Developed

Technology Transferred

1.

2025

74

181

2.

2024

45

293

3.

2023

51

152

4.

2022

85

162

5.

2021

192

214

Total

447

1002

2. Department of Biotechnology (DBT)

Sl. No

Year

Technologies Developed

Technology Transferred

1.

2025

24

12

2.

2024

71

6

3.

2023

25

0

4.

2022

38

7

5.

2021

63

19

Total

221

44

3. Department of Science and Technology (DST)

Sl. No

Year

Technologies Developed

Technology Transferred

1.

2025

63

19

2.

2024

62

12

3.

2023

60

5

4.

2022

72

19

5.

2021

71

22

Total

328

77

 

4. Indian Council of Agricultural Research (ICAR)

Sl. No

Year

Technologies Developed

Technology Transferred

1.

2025

475

475

2.

2024

412

412

3.

2023

381

381

4.

2022

379

379

5.

2021

349

349

Total

1996

1996

 

ضمیمہ 2

Key, socially relevant technologies developed by public-funded R&D institutions under the Ministry of Science and Technology

 

Sl. No

Sector

Details of Technologies Developed

1.

Drinking Water

  • ONEER™, an electronic device to eliminates harmful microbes from water without adding chemicals has been developed by CSIR-IITR/NEERI.
  • Ceramic membrane-based technology (CSIR-CGCRI) and Electrocoagulation/Flotation (ECF) technology (CSIR-NEERI) were developed and deployed for removing excessive iron, fluoride, and arsenic from groundwater
  • Thin-film composite reverse osmosis (RO) and nanofiltration (NF) membranes, developed by CSIR-CSMCRI/IICT are widely deployed for producing potable water from brackish water.
  • The R&D institutions funded by DST had developed several low-cost water purification technologies like Laterite-based Arsenic Removal Filters, AMRIT (Arsenic & Metal Removal by Indian Technology), JalKalp Water Filter – a gravity-based filter that removes biological impurities, bacteria, and heavy metals without needing electricity etc.

2.

Sanitation

  • CSIR-CLRI had developed a Waterless Chrome Tanning Technology that eliminates water use in the tanning process and significantly reduces environmental pollution from tanneries.
  • CSIR-IICT had developed Anaerobic Gas Lift Reactor (AGR) for treating biodegradable organic waste to produce biogas and bio-manure, useful for local waste management.
  • DBT-ICT Centre for Energy biosciences had developed a technology demonstration project designed to convert 1 ton/day of Municipal Solid Waste (MSW) into energy through an integrated, multi-technology approach.

3.

Energy

  • CSIR-CMERI developed Solar Tree, a compact, space-saving, and high-efficiency solar energy-harvesting structure for lighting in rural spaces.
  • Improved Soft Coke & Fuel Technology has been developed by CSIR-CIMFR for manufacturing cleaner-burning soft coke to reduce indoor pollution.
  • CSIR-NCL/NPL developed of 3 KWe and 5KW High-Temperature Polymer Electrolyte Membrane Fuel Cells (HT-PEMFC).

4.

Healthcare

  • DST’s SCTIMST had developed an array of biomedical devices like Cardiovascular Devices (Heart Valves, Cardiac Occluders, Vascular Stents and Devices, Paracorporeal Left Ventricular Assist Device (pLVAD), Centrifugal Blood Pumps, Annuloplasty Rings, Implantable Cardioverter Defibrillators), Blood Management and Extracorporeal Devices (Electromagnetic Blood Flow Meters, Automatic Contrast Injectors, Disposable blood bags, Membrane Oxygenators, Cardiotomy Reservoirs), Neurological and Rehabilitation Devices (Hydrocephalus Shunts, Deep Brain Stimulator Systems, Intracranial and Subdural Electrodes, Spinal Cord Stimulators) Biomaterials and Dental Products (Hydroxyapatite-based Bioceramic Porous Granules, Calcium Phosphate Bone Cement, Bioactive Calcium Sulfate Cement, Hydroxyapatite Nanogel for root canals and Dental Composites), Diagnostic Kits and Other Devices (Multiplex RT-PCR Kit for SARS-CoV-2 detection and Chitra RNA Isolation Kit).
  • BGR-34 (Blood Glucose Regulator) for managing Type-2 diabetes was developed by CSIR-NBRI & CIMAP.
  • A portable, battery-operated, low-cost diagnostic device for rapid detection of TB, malaria, dengue, H1N1, and COVID-19 has been developed by CSIR-IGIB.
  • Cost-effective, generic drugs like Risorine (anti-TB) and generic, bio-equivalent versions of expensive drugs were developed by CSIR-IICT.
  • The affiliated institutions of DBT including BIRAC had developed several affordable diagnostic and therapeutic tools.

5.

Organic Farming

  • Seaweed-based Fertilizer (Kappaphycus alvarezii) was developed by CSIR-CSMCRI) which increases crop yield (13-36%) and reduces chemical fertilizer usage by 25%.
  • CSIR-IHBT had developed several technologies for Cultivation of high-value aromatic plants (e.g., lavender, lemongrass, Hing (Asafoetida) and Saffron) to boost farmer income and reduce import reliance.
  • The Biotech KISAN (Krishi Innovation Science Application Network) program connects science with farmers, focusing on enhancing productivity and sustainability.
  • DBT funded institutions had developed a variety of microbial agents to improve soil health, enhance crop yields, and reduce dependence on chemical fertilizers.
  • Drought, pest, and disease-resistant seeds (e.g., in amaranth and safflower), technologies for waste-to-fertilizer, particularly for small-landholding farmers and modern spectroscopic techniques for quick soil nutrient analysis were developed and deployed by DBT.

 

سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔

********

ش ح۔ ف ش ع

U: 2183


(ریلیز آئی ڈی: 2226747) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी