امور داخلہ کی وزارت
ای-ساکشیہ اور نیائے ستو ایپس کے نفاذ کی صورتحال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 4:36PM by PIB Delhi
’پولیس‘اور ’عوامی نظم و نسق‘ آئین ہند کے ساتویں شیڈول کے تحت ریاستی موضوعات ہیں۔ شہریوں کی زندگی اور املاک کے تحفظ، قانون و نظم وضبط قائم رکھنے اور جرائم اور مجرموں کی تفتیش اور قانونی کارروائی کی ذمہ داریاں متعلقہ ریاست/مرکزکے زیرانتظام علاقوں کی حکومتوں پر عائد ہیں، جو موجودہ قانونی دفعات کے تحت ایسے جرائم سے نمٹنے کی اہل ہیں۔اس میں ایپلیکیشنز کا نفاذ اور تعیناتی،عملی استعمال،ڈیٹا کی تشکیل،پولیس اہلکاروں کی تربیت،پولیس اسٹیشنوں میں روزمرہ کے انتظامات اور کسی بھی قسم کی کارکردگی کی جانچ یا جائزہ وغیرہ شامل ہیں۔
وزارت داخلہ نے ای-ساکشیہ ایپ کا آغاز کیا اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے نوین نیائے سنہیتا کی دفعات کے مطابق اس کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ایپلیکیشن نوین نیائے سنہیتا کے نفاذ کے حصے کے طور پر تفتیشی افسران کی معاونت کے لیے متعارف کروائی گئی ہے۔یہ ایپلیکیشن ویڈیوگرافی اور فوٹوگرافی کے ذریعے شواہد حاصل کرنا، ذخیرہ اندوزی اور بازیابی کو آسان بناتی ہے اور ساتھ ہی گواہوں کے بیانات کو ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، ای-ساکشیہ ایپلیکیشن کو 35 ریاستوں/مرکزکے زیرانتظام علاقوں کے 15,899 پولیس اسٹیشنوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان ایپلیکیشنز کے آغاز کے بعد اپ لوڈ کی جانے والی ایف آئی آرز، گواہ کے بیانات اور ڈیجیٹل شواہد کے ریکارڈز کے بارے میں معلومات متعلقہ ریاست/مرکزکے زیرانتظام علاقوں کی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ یہ تفصیلات اس وزارت کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، نیائےسیتو ایپلیکیشن کو این آئی سی، چنڈی گڑھ نے چنڈی گڑھ پولیس کے مشورے سے تیار کیا، تاکہ ایجنسیز کے درمیان بے رکاوٹ ہم آہنگی، ڈیٹا پر مبنی پولیسنگ اور مؤثر فوجداری انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ مذکورہ ایپلیکیشن کے نفاذ اور مؤثریت سے متعلق مزید تفصیلات اس وزارت کے پاس موجود نہیں ہیں۔
یہ بات وزیر مملکت، وزارت داخلہ، جناب بنڈی سنجے کمار نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بیان کی۔
******
( ش ح ۔ ش ب ۔ م ا )
Urdu.No-2154
(ریلیز آئی ڈی: 2226581)
وزیٹر کاؤنٹر : 7