امور داخلہ کی وزارت
ڈیزاسٹر مینجمنٹ (ترمیمی)ایکٹ، 2025
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 4:34PM by PIB Delhi
تیز رفتار شہری ترقی بڑے شہروں کے ایسے علاقوں میں نئے اور منفرد چیلنجز پیدا کر رہی ہے جو کئی علاقوں میں ایک سے زیادہ اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں۔ لہٰذا، شہری آفتوں کے خطرے کے انتظام کے مسئلے کو حل کرنے اور شہری مسائل کی جانب مرکوز نقطہ نظر اپنانے کے لیے، آفت مینجمنٹ ایکٹ، 2005 میں ترمیم کے ذریعے شق ’41اے‘ شامل کی گئی، جو ریاستی حکومتوں کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ریاستی دارالحکومتوں اور تمام شہروں میں جن میں میونسپل کارپوریشن ہو (این سی ٹی دہلی اور یونین ٹریٹری چندی گڑھ کو الگ کر کے)، شہری آفتوں کے لیے شہری آفت مینجمنٹ اتھارٹی (یو ڈی ایم اے) قائم کریں تاکہ شہر سے متعلق مخصوص آفتوں سے زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔یو ڈی ایم اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری منصوبہ بندی تیار کرے جو شہری مخصوص خطرات بشمول سیلاب اور ہیٹ ویوز کو مدنظر رکھے اور اس کے نفاذ میں رابطہ کاری کرے۔ لہٰذا، یو ڈی ایم اے قائم کرنا ریاستی حکومتوں کا فرض ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق، صرف ایک ریاست یعنی کارنٹکا نے بروہت بنگلورو مہا نگر پالیکے کے لیے یو ڈی ایم اے قائم کیا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کے تحت نیشنل ڈیزاسٹر ڈیٹا بیس قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس میں خطرے کا جائزہ، تدارکی منصوبے، اور آفات پر حقیقی وقت کا ڈیٹا شامل ہوگا۔انٹیلی جنس ایجنسیاں جیسے کہ بھارت کے محکمہ موسمیات ( آئی ایم ڈی ) نے موسمی پیش گوئی کے نظاموں میں اے آئی/ایم ایل ماڈلز کو شامل کیا ہے تاکہ سات روز قبل کی پیش گوئیاں ممکن ہوں۔ اس میں سیلاب کی پیش گوئی (سات دن تک) اور سائکلون ٹریکنگ کے لیے اے آئی پر مبنی سیمولیشنز شامل ہیں، جو مشن موسم کا حصہ ہیں (2025 جو میں شروع کیا گیا، جس کا ہدف 2030 تک اعلیٰ درجے کی اے آئی پیش گوئیاں فراہم کرنا ہے)۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی ( ایچ ایل سی ) نے سال6025-2025 کے دوران سیلاب/اچانک آنے والا سیلاب/سائکلون/فائر سروسز کی جدید کاری/بحالی اور تعمیر نو کی ضروریات کے لیے مختلف ریاستوں کو این ڈی آر ایف سے 4576.7 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ایل ایل سی نے اسی مالی سال کے دوران مختلف اسکیموں کے تحت این ڈی ایم ایف سے بھی درج ذیل رقم کی منظوری دی ہے:
- اربن فنڈ رسک مینجمنٹ پروگرام (مرحلہ دوم): 2444.42 کروڑ روپے
- آسام کے گیلے علاقوں کی بحالی اور تجدید: 692.05 کروڑ روپے
- پنجایت راج اداروں میں کمیونٹی پر مبنی آفت کے خطرات کم کرنے کی پہل کو مضبوط بنانے کے لیے قومی منصوبہ: 507.37 کروڑ روپے(جس میں سے 203.62 کروڑ روپے وزارت پنجایت راج کی طرف سے شامل ہیں)
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نے بھارت کی عالمی سطح پر آفات کے انتظام میں قیادت کو مضبوط کیا ہے، کیونکہ اس نے ایک مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا ہے جو رابطہ کاری، تیاری اور ردعمل کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔اس ایکٹ کے نفاذ کے ذریعے، بھارت نے فعال آفت کے خطرات کو کم کرنے اور مؤثر انتظام کے لیے اپنی وابستگی کو قومی اور علاقائی سطح پر ظاہر کیا ہے۔بھارت نے درج ذیل اقدامات کے ذریعے آفت مینجمنٹ کے شعبے میں عالمی قائد کی حیثیت حاصل کی ہے:
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق عالمی اتحاد ( سی ڈی آر آئی ) کا آغاز وزیر اعظم نے 23 ستمبر 2019 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ایکشن اجلاس میں کی تھی۔ اب تک، 53 ممالک اور 12 بین الاقوامی تنظیمیں اس کے رکن بن چکی ہیں، جو عالمی سطح پر آفتوں کے خلاف مضبوط انفراسٹرکچر کے قیام میں بھارت کی قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومت ہند، متاثرہ ممالک کو فوری انسانی ہمدردی کی امداد اور آفت سے بچاؤ کی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ’وسودھیوا کٹمبکم‘ کے جذبے کے تحت، متعدد اقدامات کیے گئے، جیسےآپریشن دوست (ترکی اور شام) اور آپریشن برہما (میانمار)۔ ان اقدامات کا مقصد متاثرہ افراد کو فوری انسانی امداد اور آفت سے بچاؤ کی معاونت (ایچ اے ڈی آر) فراہم کرنا ہے اور عالمی سطح پر بھارت کی تعاون پر مبنی قیادت کو اجاگر کرنا ہے۔
یہ معلومات وزیر مملکت برائے داخلہ جناب نیتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*******
ش ح– ع و –ص ج
U-2152
(ریلیز آئی ڈی: 2226574)
وزیٹر کاؤنٹر : 5