پنچایتی راج کی وزارت
منتخب پنچایت نمائندوں کی صلاحیت سازی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 2:32PM by PIB Delhi
چونکہ پنچایت ایک’’بلدیاتی بااختیارادارہ‘‘ ہے، یہ آئین ہند کے ساتویں شیڈول کی ریاستی فہرست کا حصہ ہے اور ریاستی موضوع سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا، پنچایت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا بنیادی طور پر ریاستوں/مرکزی علاقوں کی ذمہ داری ہے۔تاہم، وزارت ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے، جس کا نام ہے ترمیم شدہ راشٹریہ گرام سوا راج ابھیان (آرجی ایس اے)، جو مالی سال23-2022 سے نافذ ہے۔ اس اسکیم کا مقصد پنچایتی راج اداروں (پی آر آئیز) کی معاونت کرنا ہے، جس کے تحت منتخب نمائندوں (ای آر ایس) اور دیگرمتعلقہ فریقین کو تربیت فراہم کر کے قیادت کی صلاحیتوں کومزید بہترکرنا ہے، تاکہ گاؤں کی پنچایتیں تمام ریاستوں/مرکزی علاقوں میں مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔
اس اسکیم کے تحت منتخب نمائندوں، عہدیداروں اور پنچایتوں کے دیگر متعلقہ فریقین کو مختلف زمروں کے تحت صلاحیت سازی کی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ بنیادی واقفیت اور ریفریشر پروگرام، موضوعاتی مداخلت، خصوصی تربیت اور پنچایت ترقیاتی منصوبے سے متعلق پروگرام وغیرہ اس میں شامل ہے۔ یہ اسکیم پنچایت سطح پرحکمرانی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تربیتی ماڈیولز اور مواد وغیرہ تیارکرنے کے لیے عملی طورپر سیکھنے اور بہترین طور طریقوں کے اپنائے جانے کو آسان بنانے کی غرض سے ایکسپوژر وزٹس کی بھی حمایت کرتی ہے۔ پچھلے تین سالوں کے دوران تجدید شدہ آر جی ایس اے کے تحت تربیت فراہم کرنے والے شرکاء کی تعداد کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔
مزیدیہ کہ مہارت اور معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے، قیادت/انتظامی ترقیاتی پروگرام (ایم ڈی پی) کے تحت آئی آئی ایم/آئی آئی ٹی جیسے انسٹی ٹیوٹ آف ایکسی لینس کے ذریعے پنچایتوں کے منتخب نمائندوں اور عہدیداروں کی صلاحیت سازی اور تربیت کے لیے بھی ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ ایم ڈی پی کے تحت اب تک 3381 شرکاء کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
پنچایتی راج کی وزارت نے آئی آئی ایم احمد آباد کے تعاون سے گرام پنچایتوں کی مالی خود کفالت کو مضبوط بنانے کے لیے خود کے وسائل سے آمدنی حاصل کرنے (او ایس آر) پر ایک تربیتی ماڈیول بھی تیار کیا ہے۔ ماڈیول منتخب نمائندوں اور پنچایت کے عہدیداروں کو یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ ٹیکس اور غیر ٹیکس ذرائع کے ذریعے او ایس آر کیسے تیار کیا جاتا ہے۔ او ایس آر میں اب تک 2,24,379 شرکاء کو تربیت دی جا چکی ہے۔
مزیدیہ کہ وزارت نے پنچایتی راج اداروں کی منتخب خواتین نمائندوں (ڈبلیو ای آر) کی صلاحیت سازی کے لیے ایک خصوصی تربیتی ماڈیول شروع کیا ہے۔ اس تربیتی ماڈیول کی توجہ کا مرکز دیہی حکمرانی کے مختلف پہلوؤں میں ڈبلیو ای آر کی صلاحیت کو بڑھانا اور منتخب نمائندوں کے طور پر کرداروں اور ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے کے لیے ان کے علم اور عملی مہارتوں کو بڑھانا ہے ، اس طرح خواتین کی قیادت والی حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔ اس خصوصی ماڈیول پر ماسٹر ٹرینرز (31 جنوری 2026 تک) سمیت کل 1,05,923 ڈبلیو ای آر کو تربیت دی گئی ہے۔
ٹریننگ مینجمنٹ پورٹل (ٹی ایم پی) کے ذریعے ٹریننگ کی بروقت نگرانی کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ، آر جی ایس اے کے نفاذ کا باقاعدگی سے میٹنگوں/ویڈیو کانفرنسوں ، وزارت کے عہدیداروں کے فیلڈ دوروں کے ساتھ ساتھ سی ای سی سے پہلے کی میٹنگوں کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے۔ مرکزی بااختیار کمیٹی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سالانہ ایکشن پلان کو منظوری دیتے ہوئے آر جی ایس اے کے نفاذ کا بھی جائزہ لیتی ہے۔
سال23-2022 سے لے کر سال26-2025 (31جنوری2026 تک) خواتین منتخب نمائندوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ برادریوں نے تجدید شدہ آر جی ایس اے کے تحت حصہ لیا اور تربیت حاصل کی۔
|
سال*
|
ڈبلیو ای آر*
|
ایس سی*
|
ایس ٹی*
|
اوبی سی*
|
|
2022-23 تا 2025-26
(31جنوری2026تک)
|
29,71,964
|
24,83,579
|
21,65,748
|
47,04,582
|
ماخذ: ٹریننگ مینجمنٹ پورٹل
* زمرہ جات باہمی طور پر الگ الگ نہیں ہیں۔
موثریت کا اندازہ لگانے اور پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات تجویز کرنے کے لیے، انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ، آنند (آئی آر ایم اے) کے ذریعے ترمیم شدہ آر جی ایس اے کا بیرونی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے میں 16 ریاستوں کے 60 اضلاع کے 120 بلاکوں میں 600 گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر فیلڈ سروے کیا گیا، جس میں منتخب نمائندوں، پنچایت کے عہدیداروں، متعلقہ محکموں کے عہدیداروں ، تربیت کاروں/اساتذہ اور ریاست/ضلع آر جی ایس اے اکائیوں سمیت 6,000 سے زیادہ متعلقہ فریقین کو شامل کیا گیا۔ جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اسکیم کی منظم، کثیر سطحی صلاحیت سازی ، کلاس روم/موضوعاتی ماڈیولز، ایکسپوژروزٹس اور ڈیجیٹل لرننگ کو یکجا کرنے سے پنچایت کے کاموں، منصوبہ بندی اور نفاذ (بشمول جی پی ڈی پی) ڈیجیٹل حکمرانی، شہریوں کی شمولیت اور مالی انتظام میں پی آر آئی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تربیت کے بعد کے جائزے معلومات اور عمل میں نمایاں فوائد ریکارڈ کرتے ہیں، جو زیادہ موثر مقامی حکمرانی اور ایس ڈی جیز کو مقامی طورپرترقی دیئے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیتی آیوگ نے نتائج پر تکمیلی ثبوت فراہم کرنے کے لیے آر جی ایس اے کا ایک آزادانہ تشخیصی مطالعہ شروع کیا ہے۔ مطالعہ میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آر جی ایس اے نے نچلی سطح پر حکمرانی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس اسکیم نے کئی مامع موضوعات کو بھی کافی حد تک آگے بڑھایا ہے ، جن میں جوابدہی، شفافیت، صنفی مرکزی دھارے میں شامل ہونا، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کا موثر استعمال اور ہم آہنگی شامل ہیں۔
پچھلے تین سالوں کے دوران ترمیم شدہ آر جی ایس اے کے تحت تربیت فراہم کرنے والے شرکاء کی تعداد کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات
|
نمبر شمار
|
ریاست
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
1874
|
2865
|
5221
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
649156
|
165001
|
325643
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
3,711
|
6138
|
12344
|
|
4
|
آسام
|
227733
|
348183
|
144936
|
|
5
|
بہار
|
404406
|
163809
|
435896
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
121099
|
163292
|
90559
|
|
7
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
575
|
1000
|
1073
|
|
8
|
گوا
|
1777
|
3548
|
4519
|
|
9
|
گجرات
|
250
|
1938
|
90368
|
|
10
|
ہریانہ
|
4859
|
12431
|
11909
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
9531
|
92458
|
120455
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
284138
|
350026
|
82534
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
8302
|
54056
|
135817
|
|
14
|
کرناٹک
|
213467
|
363317
|
321380
|
|
15
|
کیرالہ
|
179478
|
149153
|
129632
|
|
16
|
لداخ
|
0
|
0
|
26
|
|
17
|
لکشدیپ
|
0
|
0
|
0
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
281610
|
86884
|
242279
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
1041165
|
984321
|
363111
|
|
20
|
منی پور
|
894
|
5591
|
195
|
|
21
|
میگھالیہ
|
11,588
|
74410
|
78537
|
|
22
|
میزورم
|
2659
|
9800
|
9841
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
1832
|
3435
|
4725
|
|
24
|
اڈیشہ
|
79116
|
160774
|
279505
|
|
25
|
پڈوچیری
|
0
|
0
|
0
|
|
26
|
پنجاب
|
36378
|
13359
|
122848
|
|
27
|
راجستھان
|
2481
|
96389
|
71795
|
|
28
|
سکم
|
13,552
|
11249
|
6709
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
106560
|
101513
|
78490
|
|
30
|
تلنگانہ
|
14506
|
2441
|
1701
|
|
31
|
تریپورہ
|
7743
|
63715
|
54228
|
|
32
|
اتراکھنڈ
|
48241
|
144374
|
22342
|
|
33
|
اتر پردیش
|
263409
|
82712
|
76302
|
|
34
|
مغربی بنگال
|
174974
|
272762
|
228081
|
|
35
|
این آئی آرڈی پی آر اور دیگر
|
5229
|
1438
|
1941
|
|
|
کل
|
4202293
|
3992382
|
3554942
|
یہ معلومات مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 11 فروری 2026 کو راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی تھی ۔
******
( ش ح ۔ ش ب ۔ م ا )
Urdu.No-2123
(ریلیز آئی ڈی: 2226530)
وزیٹر کاؤنٹر : 6