سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: موسمیاتی تبدیلی کے لیے قومی اسٹریٹجک علم مشن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 1:36PM by PIB Delhi
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی ) نے قومی مشن برائے اسٹریٹجک علم برائے موسمیاتی تبدیلی(نیشنل مشن آن اسٹریٹجک نالج فار کلائمیٹ چینج (این ایم ایس کے سی سی) کے تحت آندھرا یونیورسٹی، وِشاکھاپٹنم میں ایک بڑے تحقیقی منصوبے کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد علاقائی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کا جائزہ لینا اور اس کے زرعی شعبے پر اثرات کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس مطالعے کے تحت بھارتی بر صغیر کے لیے ہائی ریزولوشن (25 کلومیٹر اور 10 کلومیٹر) موسمیاتی ڈیٹا سیٹس تیار کیے گئے ہیں، جو ہِنڈکاسٹ ہِنڈکاسٹ مدت( گذشتہ پیش گوئی کا عرصہ) (1970-2005) اور مستقبل کے ادوار (2020-2049 اور 2070-2099) کے لیے ماڈلز کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔
آندھرا یونیورسٹی، وِشاکھاپٹنم کو کل 1.84 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس میں سے 1.05 کروڑ روپے، 0.33 کروڑ روپے اور 0.43 کروڑ روپے بالترتیب سال 2017-18، 2018-19، اور 2019-20 میں جاری اور استعمال کیے گئے۔
آندھرا پردیش میں، ڈی ایس ٹی نے این ایم ایس کے سی سی کے تحت ایک بڑے تحقیقی منصوبے کے ذریعے ایک ادارے یعنی آندھرا یونیورسٹی، وِشاکھاپٹنم، دو محققین اور چھ فیلوز کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، اس منصوبے نے علاقائی موسمیاتی ماڈلنگ کے مختلف پہلوؤں پر 300 سے زائد محققین کی صلاحیت سازی میں بھی مدد فراہم کی۔ مزید برآں، ڈی ایس ٹی نے مشن کے تحت ایک مطالعے کی حمایت کی تاکہ مختلف بھارتی ریاستوں/مرکزی علاقوں بشمول آندھرا پردیش میں ضلعی سطح پر کمزوری کا نقشہ تیار کیا جا سکے۔ اس مطالعے کے مطابق، آندھرا پردیش درمیانے درجے کے کمزور زمرے میں آتا ہے، جس کے اہم عوامل میں فی 1,000 دیہی آبادی کم جنگلاتی رقبہ اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی زیادہ شرح شامل ہیں۔
فی الحال، محکمہ اس مشن کے تحت مزید کسی سینٹر آف ایکسی لنس قائم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح۔ ش آ۔ن ع)
U. No.2139
(ریلیز آئی ڈی: 2226424)
وزیٹر کاؤنٹر : 13