صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

غیر محفوظ علاقوں میں پی ایچ سی اور سی ایچ سی کی توسیع کے لیے اٹھائے گئے اقدامات


ملک بھر میں اب 1.82 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر کام کر رہے ہیں

مفت تشخیص اور ادویات صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں کٹوتی کرتی ہیں

ایمبولینس، موبائل یونٹس، اور ٹیلی میڈیسن آخری میل تک رسائی کو مضبوط بناتے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 FEB 2026 1:50PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت، نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت پروگرام کے نفاذ کے منصوبوں (پی آئی پیز) کی صورت میں موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو صحتِ عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور ماہر عہدوں کی تخلیق بھی شامل ہے۔ حکومتِ ہند ان تجاویز کو مقررہ ضوابط اور دستیاب وسائل کے مطابق ریکارڈ آف پروسیڈنگز (آر او پیز) کی شکل میں منظور کرتی ہے۔ اس سے متعلق تفصیلات عوامی ڈومین میں درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:
https://nhm.gov.in/index1.php?lang=1&level=1&sublinkid=1377&lid=744

قائم شدہ اصولوں کے مطابق، دیہی علاقوں میں ایک آیوشمان آروگیہ مندر – ذیلی صحت مرکز (ایس ایچ سی–اے اے ایم) میدانی علاقوں میں 5,000 اور پہاڑی و قبائلی علاقوں میں 3,000 کی آبادی کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک آیوشمان آروگیہ مندر – پرائمری ہیلتھ سینٹر (اے اے ایم–پی ایچ سی) میدانی علاقوں میں 20,000 اور پہاڑی و قبائلی علاقوں میں 30,000 کی آبادی کے لیے، جبکہ ایک کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) میدانی علاقوں میں 1,20,000 اور پہاڑی و قبائلی علاقوں میں 80,000 کی آبادی کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ضلع ہسپتال (ڈی ایچ)، سب ڈسٹرکٹ ہسپتال (ایس ڈی ایچ) اور فرسٹ ریفرل یونٹس دیہی اور شہری علاقوں میں ثانوی سطح کی صحت خدمات فراہم کرتے ہیں۔

وزارت، این ایچ ایم کے تحت مفت تشخیصی خدمات اقدام (ایف ڈی ایس آئی) کی بھی معاونت کرتی ہے، جس کا مقصد کمیونٹی کو قابلِ رسائی اور کم لاگت پیتھالوجیکل اور ریڈیولاجیکل تشخیصی خدمات فراہم کرنا ہے، تاکہ جیب سے ہونے والے اخراجات (او او پی ای) میں کمی لائی جا سکے۔ صحتِ عامہ کی سہولیات کی تمام سطحوں پر تشخیصی خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں، جن میں آیوشمان آروگیہ مندروں (ایس ایچ سی–اے اے ایم) میں 14 ٹیسٹ، آیوشمان آروگیہ مندر – پرائمری ہیلتھ سینٹرز (اے اے ایم–پی ایچ سی) میں 63 ٹیسٹ، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز میں 97 ٹیسٹ، سب ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں 111 ٹیسٹ اور ضلع ہسپتالوں میں 13 ٹیسٹ شامل ہیں۔

فروری 2018 میں حکومتِ ہند نے دسمبر 2022 تک ملک بھر میں 1,50,000 آیوشمان آروگیہ مندروں (اے اے ایمز) کے قیام کا اعلان کیا تھا، جو اس سے قبل آیوشمان بھارت ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹرز (اے بی–ایچ ڈبلیو سیز) کے نام سے معروف تھے۔ 31 دسمبر 2025 تک یہ ہدف دیہی اور شہری علاقوں میں موجودہ ذیلی صحت مراکز (ایس ایچ سیز) اور بنیادی مراکز صحت (پی ایچ سیز) کو اپ گریڈ کر کے حاصل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے بنیادی صحت نگہداشت کی خدمات کا ایک جامع پیکیج فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پیکیج میں 12 اقسام کی خدمات شامل ہیں، جن میں روک تھام، صحت کے فروغ، علاج، فالج، بحالی اور کمیونٹی کے لیے مفت علاجی خدمات شامل ہیں، تاکہ صحت سہولیات تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو بروقت اور معیاری صحت خدمات فراہم کرنے کے لیے این ایچ ایم کے تحت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں نیشنل ایمبولینس سروس (این اے ایس)، موبائل میڈیکل یونٹس (ایم ایم یوز)، آشا (اے ایس ایچ اے)، 24x7 صحت خدمات اور فرسٹ ریفرل سہولیات، پردھان منتری نیشنل ڈائیلاسز پروگرام (پی ایم این ڈی پی)، مفت تشخیصی خدمات اقدام، مفت ادویات خدمات اقدام، تولیدی اور بچوں کی صحت کے تحت مختلف سرگرمیاں، پردھان منتری ٹی بی مکت بھارت ابھیان اور ٹیلی میڈیسن شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کو این ایچ ایم کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں صحت خدمات تک رسائی میں بہتری لائی جا سکے۔

گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان نے تمام شہریوں کے لیے بروقت اور معیاری صحت نگہداشت تک رسائی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ زچگی کی شرحِ اموات (ایم ایم آر) سال 2014–16 میں 130 فی لاکھ زندہ پیدائش سے کم ہو کر 2021–23 (ایس آر ایس 2021–23) میں 88 فی لاکھ زندہ پیدائش رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے بین ایجنسی گروپ برائے زچگی اموات (یو این–ایم ایم ای آئی جی) 2023 کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان نے 1990 کے بعد ایم ایم آر میں 86 فیصد کمی حاصل کی ہے، جو عالمی سطح پر 48 فیصد کمی سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی طرح، بچوں کی شرحِ اموات (آئی ایم آر) 2014 میں 39 فی 1,000 زندہ پیدائش سے کم ہو کر 2023 (ایس آر ایس 2023) میں 25 فی 1,000 زندہ پیدائش پر آ گئی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات (یو فائیو ایم آر) بھی 2014 میں 45 سے کم ہو کر 2023 میں 29 رہ گئی ہے۔

یہ بات صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب پرتاپراؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے کہی۔

 

***

UR-2054

(ش ح۔اس ک  )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2226099) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी