وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

سمندری گھاس کی کاشت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 FEB 2026 1:58PM by PIB Delhi

11,099 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھنے والے ہندوستان میں سمندری گھاس کی کاشت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سمندری گھاس کی کاشت کے لیے موزوں مقامات کی شناخت اور نقشہ سازی تحقیقی اداروں، یعنی آئی سی اے آر – سینٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ایف آر آئی) اور سی ایس آئی آر – سینٹرل سالٹ اینڈ میرین کیمیکلز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس ایم سی آر آئی) کے ذریعے کی جاتی ہے۔

اب تک آندھرا پردیش سمیت ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سمندری گھاس کی کاشت کے لیے مجموعی طور پر 24,707 ہیکٹر رقبے پر مشتمل 384 ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ آندھرا پردیش سمیت فعال سمندری گھاس کی کاشت کے تحت ممکنہ رقبے کی تفصیلات ضمیمہ – اول میں فراہم کی گئی ہیں۔

(ب:)
محکمۂ ماہی گیری، حکومتِ ہند اپنی مختلف اسکیموں، اقدامات اور پالیسی مداخلتوں کے ذریعے سمندری گھاس کی کاشت، قدر میں اضافے اور مارکیٹ سے روابط کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)، جو مالی سال 2020–21 سے 2025–26 کے دوران نافذ ہے، کے تحت سمندری گھاس کی کاشت کو ترجیحی سرگرمی کے طور پر مالی و تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے تحت رافٹ، مونولائن اور ٹیوب نیٹ کی تنصیب، سمندری گھاس کے بیج بینکوں اور ہیچریوں کے قیام، کثیر مقصدی سمندری گھاس پارک کے قیام، نیز تربیت، صلاحیت سازی، تحقیق اور پری فزیبلٹی اسٹڈیز کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔

(ج:)
پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور شدہ منصوبے ریاستی سطح پر نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور تحقیقی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، مختلف سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز)، خواتین گروپوں اور آندھرا پردیش سمیت انفرادی کسانوں کے تحت آنے والے مستفیدین کی تفصیلات ضمیمہ – دوم میں فراہم کی گئی ہیں۔

(د:)
پی ایم ایم ایس وائی کے تحت گزشتہ پانچ برسوں (2020–25) کے دوران سمندری گھاس کی کاشت اور اس سے متعلق سرگرمیوں کے لیے 198.17 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان منظور شدہ منصوبوں کے تحت، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں سمندری گھاس کی کاشت اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مختص کردہ فنڈز کی تفصیلات ضمیمہ – سوم میں فراہم کی گئی ہیں۔

(ہ) تا (و):
محکمۂ ماہی گیری، حکومتِ ہند سمندری گھاس کے گھریلو استعمال کو فروغ دینے، سمندری گھاس کی معیشت کی مانگ پر مبنی ترقی کو آگے بڑھانے اور سمندری گھاس کی کاشتکاری کے حوالے سے بیداری میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں لکشدیپ کو سمندری گھاس کے کلسٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جبکہ آئی سی اے آر – سینٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ایف آر آئی) کے منڈپم علاقائی مرکز کو تحقیق، ٹیکنالوجی کے فروغ اور ہنر مندی کی ترقی کو مستحکم کرنے کے مقصد سے سمندری گھاس کی ترقی کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر مطلع کیا گیا ہے۔

تمل ناڈو میں منظور شدہ کثیر مقصدی سمندری گھاس پارک کا مقصد مربوط کاشتکاری، پروسیسنگ اور مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینا، نیز خوراک، غذائیت، دواسازی، کاسمیٹکس اور زرعی استعمال کے لیے سمندری گھاس پر مبنی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کے بعد محکمۂ ماہی گیری کی جانب سے سمندری گھاس کے جرم پلازم کی درآمد کے لیے رہنما خطوط بھی جاری کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، نیتی آیوگ نے اس شعبے کی ترقی کے لیے سی ویڈ پالیسی رپورٹ بھی شائع کی ہے۔

نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کے ذریعے، ریاستی ماہی گیری کے محکموں اور تحقیقی اداروں مثلاً آئی سی اے آر – سی ایم ایف آر آئی اور سی ایس آئی آر – سی ایس ایم سی آر آئی کے اشتراک سے گڈ مینجمنٹ پریکٹس (جی ایم پی) کے تحت تربیتی پروگرام، عملی مظاہرے، نمائش کے دورے اور ماسٹر ٹرینر ڈیولپمنٹ پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد سمندری گھاس کی کاشت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا اور صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔

حکومتِ آندھرا پردیش نے مطلع کیا ہے کہ جی سی ایف پروجیکٹ اور اے ایف سی او ایف – سی بی بی او فنڈز کی مالی معاونت سے ریاست کے 12 ساحلی اضلاع میں مجموعی طور پر 1,440 سیلف ہیلپ گروپس اور ماہی گیروں کے لیے صلاحیت سازی اور ہنر مندی کے فروغ کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔

ضمیمہ-I

بیان ' سمندری گھاس کی کاشت' ۔

 

سال

رقبہ (ہا میں)

2020-2021

2021-2022

2022-2023

2023-2024

2024-2025

تمل ناڈو

69.26

87.96

99.94

104.18

107.93

مہاراشٹر

-

0.12

0.21

0.12

-

گجرات

-

1.41

2.32

3.94

5.86

اوڈیشہ

0.40

0.20

-

-

-

آندھرا پردیش

 

1.01

1.01

1.01

1.01

کرناٹک

0.04

0.04

0.04

-

-

لکشدیپ

0.0016

0.020

0.028

0.008

0.008

 

ضمیمہ II

 

' سمندر کی کاشت' سے متعلق بیان ۔

سال

ممبران سمندری گھاس کی کاشت میں مصروف ہیں۔

تمل ناڈو

7230

گجرات

378

آندھرا پردیش

120

لکشدیپ

40

 

ضمیمہ III

 

' سمندر کی کاشت' سے متعلق بیان ۔

جدول 1: سی ویڈ کلچر رافٹس کے قیام کے منظور شدہ یونٹس بشمول ان پٹ

(لاکھ روپے میں)

Sl.N

ریاستوں کے نام

کل 2020-25 (اب تک)

جسمانی (نمبر)

پروجیکٹ لاگت

GoI شیئر

1

آندھرا پردیش

26000

390

115

2

کرناٹک

10000

150

45

3

لکشدیپ

500

9

5

4

مہاراشٹر

1000

15

5

5

تمل ناڈو

9745

146.18

77

کل

47245

710.18

247

 

ٹیبل 2: مونولین/ٹیوب نیٹ طریقہ کے ساتھ سمندری گھاس کلچر کے قیام کے لیے منظور شدہ یونٹس بشمول ان پٹ

(لاکھ روپے میں)

شمار نمبر

ریاستوں کے نام

کل 2020-25 (اب تک)

جسمانی (نمبر)

پروجیکٹ لاگت

GoI شیئر

متوقع پیداوار (ٹن)

1

آندھرا پردیش

41200

3296

902

18,540

2

گجرات

400

32

5

90

3

کرناٹک

21000

1680

509

9,450

4

لکشدیپ

250

125

75

56

5

تمل ناڈو

1031

82

30

238.95

کل

63881

5215 .00

1521

28374.95

 

ٹیبل 3: نئے سی ویڈ بینکوں کے منظور شدہ یونٹس

(لاکھ روپے میں)

Sl.N

ریاستوں کے نام

21-2020

جسمانی (نمبر)

پروجیکٹ لاگت

GoI شیئر

دمن اور دیو*

1

120

120

کل

1

120

120

 

ٹیبل 4: انٹیگریٹڈ ایکواپارک اجزاء کے تحت سی ویڈ پارک کے قیام کی منظوری

 

(لاکھ روپے میں)

شمار نمبر

ریاستوں کے نام

2022-23

جسمانی (نمبر)

پروجیکٹ لاگت

GoI شیئر

1

تمل ناڈو

1

12771

7516

 

یہ معلومات ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دی ۔

 

***

UR-2052

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2226047) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी